ہفتہ 26 ستمبر 2020 - 8:11:11 شام

گورنر مرکزی بنک کا ایف اے ٹی ایف کے معیار پر عمل پیرا ہونے پر زور


ابوظبی، 15 ستمبر،2020 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالحمید سعید الحمادی نے کہا ہے کہ COVID-19 وبائی مرض کے دوران دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور ان کے متعلقہ بینکاری اور مالیاتی شعبوں کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ عرب مرکزی بینکوں اور مالیاتی اتھارٹیز گورنرز کی کونسل کے 44 ویں اجلاس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا مرکزی بنک بحرانوں کا فوری اور مؤثر انداز میں جواب دینے کے لئے منصوبوں اور پالیسیاں تیار کرنے کی خاطر مرکزی بینکوں اور مالیاتی حکام کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی بنک کے نگرانی کے کردار کے تحت متحدہ عرب امارات کا مالیاتی نظام مستحکم اور جامع ہونے کو یقینی بنانے کے لئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، ایف اے ٹی ایف کے معیارات پر عمل پیرا رہنا چاہئے۔ الحمادی نے COVID-19 وباء کے مضمرات کی روشنی میں متعدد موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اجلاس میں متعدد بین الاقوامی اداروں کے ماہرین نے بھی شرکت کی اور متعدد اہم موضوعات خصوصاََ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کی کوششوں میں پیشرفت اور مالی شمولیت میں توسیع پر تبادلہ خیال کیا۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیر نے اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی ایک عالمی مسئلہ ہے اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے عرب ممالک کی جانب سے دہشتگردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لئے مطلوبہ فریم ورکس اور اقدامات کو سراہا۔ انھوں نے اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر کوویڈ 19کے پھیلاؤ کے دوران اس معاملے کو اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ایف اے ٹی ایف کی ہدایت کے مطابق قومی کمیٹی برائے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی نے مرکزی بنک کے گورنر کی زیر صدارت مالی جرائم کم کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ اس میں ایک سمارٹ پلیٹ فارم "FAWRI TICK" کا آغاز بھی شامل ہے جو متعلقہ سرکاری حکام کے مابین رابطوں اور ہم آہنگی میں مدد دیتا ہے اور اس میں مالی خطرات کا تیزی سے پتہ لگانے کی خصوصیت ہے۔ کمیٹی کی کاوشوں کی حمایت میں فنانشل انٹیلی جنس یونٹ متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام اور مرکزی بنک کے ساتھ مل کر باضابطہ تعاون کر رہا ہے تاکہ متعدد اقدامات کے ذریعے تعاون کے موثر ذرائع کو فروغ دیا جاسکے۔ اسکے علاوہ مالی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ "GO AML"پلیٹ فارم کا آغاز کیا گیا جو مشکوک لین دین کا تجزیہ اور متعلقہ حکام کو رپورٹ پیش کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ مرکزی بنک کے گورنر نے متحدہ عرب امارات کے قومی ایجنڈے کے تحت اس مسئلے کو حل کرنے اور منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کے لئے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کوششوں میں ایف اے ٹی ایف کے معیارات کے مطابق لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کی نگرانی اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو آسان بنانے کے لئے ایک مخصوص محکمے کا قیام شامل ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیر نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں معاشی شمولیت کو فروغ دینے میں ڈیجٹلائزیشن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ جدید مالی اور بینکاری خدمات تک معاشرے کے تمام طبقات کی رسائی آسان ہونی چاہیئے۔ بین الاقوامی تصفیوں کے بنک کے ڈپٹی جنرل منیجر لیوز ڈی سلوا نے مالیاتی نظام پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹیکنالوجی، سیاسی اور معاشرتی اصولوں اور آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق واقعات جن میں لیکویڈیٹی، کریڈٹ اور آپریشنل خطرات ہوتے ہیں بعد میں نظام میں رسک کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں مرکزی بینکوں کی کویڈ 19 کے بعد معاشی بحالی کی حکمت عملی کے تحت گرین بانڈز کے استعمال کی اہمیت کا بھی حوالہ دیا کیونکہ یہ وہ عنصر ہے جو مالی استحکام کو متاثر کرسکتا ہے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://www.wam.ae/en/details/1395302870127

WAM/Urdu