ہفتہ 26 ستمبر 2020 - 8:00:47 شام

خاندان ابراھیمیہ کے سیمینار میں مذاہب کے درمیان امن ، بقائے باہمی پر تبادلہ خیال


میڈرڈ ، 16 ستمبر ، 2020 (وام) ۔۔ سپین میں اسلامی ثقافت اور مذہبی رواداری کی فاؤنڈیشن نے پیر کو ایک ورچوئل سیمینار کا انعقاد کیا جس کا موضوع " ابراھیمیہ خاندان : امن و ابلاغ " تھا اور اس میں ممتاز سکالرز نے شرکت کرکے انسانیت کی خدمت کیلئے مختلف مذاہب کے درمیان امن و بقائے باہمی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا – فاؤنڈیشن کے صدر الفریڈ گیوتریز نے اس سیمینار میں میزبانی کے فرائض انجام دیئے – اسلامی امور و انڈاؤمنٹ کی جنرل اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد مطر الکعبی نے اس میں " محمد ﷺ کے معاہدہ کی روشنی میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا امن معاہدہ " کے موضوع پر اکیڈیمک پیپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں یہ معاہدہ اسلام کی نوبل اقدار کی بنیاد پر ہونے والا جرات مندانہ سٹریٹجک فیصلہ ہے ، ایسے معاہدے پیغمبر محمد ﷺ کے دور سے امن کے حصول کیلئے ذریعہ رہے ہیں ۔ انہوں نے اس تناظر میں محمد ﷺ کے یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ساتھ ہونے والے امن معاہدوں کی مثالیں بھی پیش کیں – ان کا کہنا تھا کہ محمد ﷺ کے ایسے معاہدوں میں سکالرز نے دو بنیادی صورتحال پر توجہ دی ہے ، پہلی یہ کہ فیصلہ کا اختیار حکمران کو ہے اور دوسرا یہ کہ ہر کسی کے مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیئے ۔ ڈاکٹر الکعبی نے مناسب اور جامع امن کیلئے متحدہ عرب امارات کی کاوشوں پر روشنی ڈالی جن کی وجہ سے مرحوم شیخ زاید بن سلطان النھیان کی طرف سے مملکت کے قیام کے بعد سے اس کا ممتاز مقام مزید مستحکم ہوا ہے اور جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کو خطہ میں اور دنیا بھر میں امن اقدامات کے حوالے سے بھی پہچانا جاتا ہے – سپین کے اسلامی کمیشن کے سیکریٹری جنرل محمد عجانہ الوافی نے اس سیمینار میں جو اکیڈیمک پیپر پیش کیا اس کا عنوان تھا " امن معاہدے اور ثقافتی ہم آہنگی و بقائے باہمی میں ان کا کردار " ۔ اس میں انہوں نے سپین کی مذہبی اور ثقافتی تنوع و خصوصیات کو بیان کیا اور سب کو کہا کہ وہ اسلام کو درست طور پر سمجھیں تاکہ دوسروں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی منزل کو حاصل کیا جاسکے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302870422

WAM/Urdu