منگل 24 نومبر 2020 - 12:10:52 صبح

خواتین و نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا اماراتی ماڈل ، یو این - آئی پی یو فورم میں پیش


ابوظہبی ، 21 نومبر ، 2020 (وام) ۔۔ وفاقی قومی کونسل ایف این سی ، پارلیمانی ڈویژن نے مختلف طبقہ ہائے زندگی میں خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے سے متعلق متحدہ عرب امارات کا ماڈل پیش کیا ہے ۔ ایف این سی پارلیمانی ڈویژن کی رکن میرا سلطان السویدی نے " نوجوان خواتین کی سیاسی شرکت اور قیادت " کے موضوع سے ہونے والے ایک آن لائن ایونٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اماراتی خواتین اپنے مرد ساتھیوں کے ہمراہ ملک کی مربوط و مجموعی ترقی کے عمل میں کلیدی اور متحرک کردار کی حامل رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یواین ڈی پی کے صنفی مساوات انڈکس میں متحدہ عرب امارات کو ایڈوانسڈ درجہ ملتا ہے ۔ یہ آن لائن ایونٹ بین الپارلیمانی یونین ، آئی پی یو اور یواین سیکریٹری جنرل کے نمائیندہ برائے نوجوانان کے دفتر کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کیا گیا – اس ایونٹ میں آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل مارٹن چنگونگ اور یواین سیکریٹری جنرل کی نمائیندہ برائے نوجوانان جایتھما وکرمانائیکے سمیت نمایاں پارلیمنٹیرینز اور کلیدی محرکین نے شرکت کی ۔ اس ایونٹ کا مقصد نوجوان خواتین کو درپیش چیلنجز کو سمجھتے ہوئے ان کے تجربات کا تبادلہ کرکے انہیں سیاسی شرکت میں حوصلہ افزائی فراہم کرنا ہے ۔ السویدی نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے معاشرے میں ایک پرمغز ، بتدریج اور مناسب انداز میں کاوش کرکے خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کا کامیاب اور ابتدائی تعمیری کردار ادا کیا – انہوں نے کہا کہ ملک کی قیادت نے نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے اور سیاست و پارلیمان سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں آگے لانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، یہ صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید النھیان کے فیصلہ اور ویژن کے مطابق اور دور اندیش اقدامات کا نتیجہ ہے کہ وفاقی قومی کونسل میں اماراتی خواتین کو 50 فیصد نمائیندگی حاصل ہوئی – آئی پی یو کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کے ارکان پارلیمنٹ میں صرف 2ء2 فیصد ارکان 30 برس سے کم عمر کے ہیں جن میں خواتین کا تناسب بہت کم بھی ہے ۔ خواتین کے حقوق کو ترقی دینے سے متعلق بیجنگ اعلامیہ کے 25 سال بعد بھی دنیا میں سیاسی قیادت کے عہدوں پر آج بھی خواتین بہت کم تعداد میں ہیں – ایونٹ کے شرکاء نے خواتین کو بااختیار بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے مختلف تجاویز اور حل پیش کیئے ، ان میں ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر میں کمی کرنا ، خواتین کی شرکت کو بڑھانے کیلئے فنڈز کا قیام اور قیادت کے عہدوں پر زیادہ خواتین کو بھرتی کرنے کا عمل یقینی بنانا شامل تھے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302888480

WAM/Urdu