پیر 18 جنوری 2021 - 2:56:22 صبح

متحدہ عرب امارات میں سائیکلنگ سروے کے نتائج جاری


ابوظہبی ، 22 نومبر ، 2020 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات میں سائیکلنگ کمیونٹی کے بارے میں مزید معلومات جاننے کیلئے وفاقی مسابقتی و شماریاتی مرکز ، ایف سی ایس سی کی طرف سے منعقد کیئے گئے " متحدہ عرب امارات : پائیدار قوم کیلئے سائیکلنگ " سروے کے نتائج جاری کردیئے گئے – اس سروے میں سائیکل چلانے والوں کو شامل کرکے انکی ترجیحات ، انہیں درپیش چیلنجز اور ان کی آراء و تجاویز جانی گئیں – ایف سی ایس سی کے قائمقام ڈائریکٹر حنان اہلی نے سروے کے سوالنامے کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کی سائیکلنگ کمیونٹی کی خصوصیات سے متعلق ڈیٹا بیس کا اظہار ہوتا ہے ، سائیکلنگ سے ملک میں کاربن اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے ، اگرچہ متحدہ عرب امارات دنیا میں کم ترین کاربن اخراج والے ممالک میں شامل ہے اور ایسی ماحول دوست حکمت عملی کی پیروی متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی 2050 کے مطابق ہے جبکہ 2021 کے اہداف کے مطابق کاربن کے موجودہ اخراج کو 16 فیصد تک کم کرنا ہے – ایف سی ایس سی میں سروے کے لیڈ فیلڈ ریسرچر حسن العلی کا کہنا ہے یہ سروے پانچ کلیدی ستونوں پر منعقد کیا گیا جن میں عمومی معلومات ، سائیکل کی ترجیحات ، حفاظت و سلامتی ، سائیکلنگ کمیونٹی کی ترجیحات و ضروریات کو جاننا اور چیلنجز و سفارشات شامل ہیں ۔ اس سروے میں بہت اعلی ردعمل سامنے آیا ، دو ہفتوں کے دوران 31 سو مکمل ریسپانس شامل رہے – ایف سی ایس سی میں ماہر پائیدار ترقی اہداف کریستیان کوتزی کا کہنا ہے کہ سائکل چلانا ، پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں اہم عنصر کے اور یہ اہداف عالمی ادارہ صحت نے مقرر کیئے ہیں ، سائیکل چلانا نہ صرف بہتر ٹرانسپورٹ ذریعہ ہے بلکہ یہ دل کے امراض ، دماغی فالج ، ذیابیطس اور کچھ اقسام کے کینسر کے خطرے سے بچانے میں بھی اہم ہے – سروے نتائج کے مطابق اماراتی شہریوں میں سائیکل چلانے کا رحجان 42 فیصد ہوچکا ہے ، سائیکل سواروں میں 11 فیصد خواتین اور 89 فیصد مرد شامل ہیں جبکہ غیر اماراتی شہریوں میں 58 فیصد میں سائیکل چلانے کا رحجان پایا گیا ، ان میں 19 فیصد خواتین اور 81 فیصد مرد شامل ہیں ۔ سروے میں معلوم ہوا ہے کہ ملک میں زیادہ تر استعمال ہونے والے سائیکلوں میں روڈ بائیکس 6ء59 فیصد ، ٹرائیتھلون بائیکل 6ء17 فیصد ، ماؤنٹین بائیکس 9ء7 فیصد ، فولڈنگ بائیکس 7ء5 فیصد ، ہائبرڈ بائیسکلز 5ء4 فیصد اور دیگر برانڈ کے سائیکل 7ء4 فیصد ہیں – سائیکل چلانے والوں کی عمر کے تناسب میں سب سے زیادہ رحجان 30 سے 39 سال عمر والوں میں دیکھنے میں آیا جوکہ تمام سائیکل چلانے والوں کا 40 فیصد ہیں ، 28 فیصد سائیکل چلانے والوں کی عمر 40 سے 49 سال کے درمیان ، 19 فیصد کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان اور 13 فیصد کی عمر 50 سال سے زائد ہے – ملک میں سب سے زیادہ سائیکل دبئی میں چلائے جاتے ہیں اور یہ بات 47 فیصد لوگوں نے بتائی ، سائیکل پرفارمنس کے رحجان میں سب سے زیادہ شرح 51 فیصد انٹرمیڈیٹ سطح کی رہی جبکہ 37 فیصد ایڈوانسڈ لیول اور 9 فیصد آغاز کرنے والے سائیکل سوار ہیں – سروے میں جواب دینے والوں میں سے 8 فیصد نے بتایا کہ انہوں نے کووڈ 19 کی عالمی وباء سے پہلے بھی سائیکل چلایا ، 20 فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے وباءآنے کے بعد سائیکل چلانا شروع کیا ۔ ملک میں 2019 کے دوران بائیسکل کی کل تجارت کا حجم 148 ملین درہم رہا جبکہ رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں یہ حجم 69 ملین درہم رہا – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302888948

WAM/Urdu