منگل 26 جنوری 2021 - 6:41:15 صبح

شہروں کے مستقبل پر دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے کلیدی رحجانات و چیلنجز


دبئی ، 23 نومبر ، 2020 (وام) ۔۔ دبئی فیوچر فاؤنڈیشن نے مستقبل کے شہروں سے متعلق قائم دبئی فیوچر کونسل کے اشتراک سے " شہروں کے مستقبل " کے موضوع پر رپورٹ کا اجراء کردیا – رپورٹ میں اس بات کی پیشینگوئی کی گئی ہے کہ شہروں میں گنجان ہونے کا رحجان بڑھتا ہوا اہم معاملہ بن جائے گا ، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں دو تہائی آبادی اس وقت شہروں میں رہ رہی ہے اور شہری آبادیاں 2040 تک دگنا ہوجانے کی توقع ہے – اس رپورٹ میں کووڈ 19 کی عالمی وباء کے شہری زندگی کی طرز پر سب سے زیادہ اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جس کی وجہ سے رہائشی ، کاروباری اور سماجی مقامات کے درمیان نقل و حرکت میں اضافہ پر توجہ مبذول کی گئی ہے جبکہ شہری منصوبہ بندی کے معیارات اور انفراسٹرکچر سے مطلوب تبدیلیوں اور تقاضوں کو بھی بیان کیا گیا ہے – اس رپورٹ کے اجراء موقع پر دبئی میونسپلٹی کے ڈی جی اور دبوئی فیوچر کونسل کے چیئرمین ڈاود عبدالرحمن الحجری کا کہنا تھا کہ ان کی کونسل اپنی دانش ور قیادت کے ویژن پر عمل کرتی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر میں مسابقت کو تقویت دی جاسکے ، مختلف شعبوں کو تخلیقی تصورات سے ہمکنار کیا جاتا ہے جس میں اعلی ترین مہارت کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے – انہوں نے کہا کہ دبئی کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنائے رکھنے اور کووڈ 19 کے اثرات کو کم سے کم تر رکھنے کی خاطر انفراسٹرکچر ، شہری منصوبہ سازی ، ماحولیات اور مستقبل کے شہروں کیلئے انتظام کاری کے ذرائع اور گورننگ کی خاطر ایسے اقدامات بہت ضروری ہیں ، یہ رپورٹ ان سٹریٹجک اور موثر منصوبوں کی حمایت کرتی ہے جوکہ بہترین عالمی معیار کے مطابق ترتیب دیئے جاتے ہیں – ڈی ایف ایف کے سی ای او خلفان بلھول کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں کلیدی تبدیلیوں کا درست اندازہ لگانے کی خاطر متعلقہ فریقین میں تعاون بہت ضروری ہے تاکہ مستقبل کی جامع منصوبہ بندی میں درپیش چیلنجز کی خاطر تیار ہوا جاسکے ، اس تناظر میں قومی سماجی اور اقتصادی منصوبوں کو تیار کرنا ہوتا ہے اور مستقبل کی تعمیر میں بہترین عالمی کیس سٹڈیز سے استفادہ کرنا ہوتا ہے – اس رپورٹ میں سمارٹ اقدامات اور ڈیٹا حصول کی کاوشوں کو بہت اہمیت دی گئی ہے ، شہری سطح کے ڈیٹا کی مقدار بڑھانے سے حکومتی سمارٹ ریگولیشن پر عملدرآمد میں سہولت میسر آتی ہے اور شہروں کے مکینوں کو شہری مراکز میں زیادہ صحت مند انداز میں آنے جانے کا موقع میسر آتا ہے – تخلیقی ٹیکنالوجیز سے مینوئل ہیومن آپریشنز کی ضرورت کم ہوجاتی ہے ، ان میں خودکار صفائی والے آلات اور آٹومیٹڈ ٹچ لیس سسٹمز شامل ہیں ، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں زیادہ کھلے مقامات سے ہنگامی حالات اور فوری اخراج کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے – رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تعمیراتی ضابطوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے جنہیں مقیم افراد کی حفاظت ، صحت اور بھلائی کے تناظر میں ترتیب دیا جانا چاہیئے ، اس میں میکینیکل اور آرکیٹیکچرل تقاضوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں قدرتی روشنی کے استعمال کو بڑھانا اور ہوا کی صفائی کو فروغ دینا شامل ہیں ۔ مزید برآں اس رپورٹ میں کام کے مقامات کو مربوط ورچوئل انداز میں نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں انفرادی مرکوزیت اور پیداواری معاونت کے درمیان توازن رکھا گیا ہے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302889163

WAM/Urdu