بدھ 20 جنوری 2021 - 3:11:56 شام

وام فیچر : موتیوں کے باکس میں سمندری غوطہ خوری کی حیران کن داستانیں

  • d4.jpg
  • d3.jpg
  • d1.jpg
  • d2.jpg
ویڈیو تصویر

بنسال عبدالقادر سے ابوظہبی ، 12 جنوری ، 2021 (وام) ۔۔ جاسم عبداللہ جب بھی اپنا موتیوں والا بکس کھولتا ہے تو اسے دیکھنے والوں کیلئے جاسم عبداللہ کی زندگی کے وہ پرجوش ایام کے منظر سامنے آجاتا ہے جن میں نہ ختم ہونے والی داستانیں بسی ہیں – یہ 61 سالہ اماراتی اپنی نوجوانی میں موتیوں کو سمندر سے نکالنے والا غوطہ خور ' پرل ڈائیور ' رہا تھا اور تب گہری پانیوں سے موتی اکھٹے کرنے کیلئے اس کی مہم جوئی بہت حیران کن رہی – عبداللہ ماضی کی یادیں دہراتے ہوئے بتاتا ہے کہ سمندر میں غوطہ خوری کرنا بہت مہم جو اور دلچسپ ہوتا تھا ۔ وہ جانتا ہے کہ اس کیلئے یہ سنسنی خیز مراحل اب دوبارہ نہیں آسکتے لیکن وہ نوجوان نسل کو اس مہارت اور فن کی میراث سے آگاہ رکھنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں گزشتہ نسلوں کے کئی خاندانوں کا گزربسر چلتا تھا – امارات نیوز ایجنسی ، وام سے گفتگو میں ماضی کی یہ یادیں دہراتے ہوئے عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے موتیوں کے اس بکس کو قیمتی خزانے کے طور پر سنبھال کر رکھتا ہے ، وہ اسے اپنے بچوں کے حوالے کرکے جانے کا عزم رکھتا ہے اور وہ بھی اس خواہش کے ساتھ کہ اس کے بچے اپنی آنے والی نسلوں کو یہ میراث منتقل کرتے رہیں – ابوظہبی کے شیخ زاید ورثہ میلہ میں اس کے سٹال پر وہ تمام روایتی آلات بھی موجود ہیں جوکہ سمندر میں غوطہ خوری کیلئے استعمال ہوتے تھے ۔ عبداللہ کو ملک کے بانی بابا مرحوم شیخ زاید بن سلطان النھیان کے افکار اور خیالات سے بھی تحریک ملتی ہے جنہوں نے ہمیشہ اماراتی لوگوں کو اپنی ثقافت کے تحفظ کا درس دیا تھا – عبداللہ جوکہ ابوظہبی کے علاقہ الراحبۃ میں رہتا ہے کا کہنا ہے کہ ملک کے بانی نے ہمیں اپنا ماضی یاد رکھنے کا درس دیا ، ملک کے موجودہ حکمران بھی اسی ثقافتی اور ورثہ کی عظمت کو آگے لیکر چل رہے ہیں ۔ عبداللہ اپنے بچوں اور نئی نسل کے ساتھ دیگر ممالک سے آنے والے لوگوں کو اپنی ثقافت سے روشناس کراتے ہیں اور انہیں اپنے اعزازات اور سوینئر دکھاتے ہیں – عبداللہ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 15 سال کی عمر میں مچھیرے کے طور پر کیا تھا اور بعد میں وہ غوطہ خور بن گیا ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس فن میں اسکا والد ہی اسکا استاد رہا تھا ۔ اسکا کہنا ہے کہ پرل ڈائیور کو کبھی ایک ہفتہ تک بھی کچھ ہاتھ نہ لگے لیکن پھر اچانک سے اس کے ہاتھ بہت قیمتی موتی لگ جائے جوکہ کچھ دن کے گزر بسر کیلئے کافی رہتا ہے ۔ اسکا کہنا ہے کہ اس کی وہ زندگی بہت دلچسپ رہی تھی – اس میلے میں اپنے سٹال پر عبداللہ کو سینکڑوں سیاحوں سے بات چیت کا موقع ملتا ہے اور وہ بہت فخر سے اپنے پیشے کو اپنی ثقافت کے طور پر پیش کرتا ہے – یہ میلہ 20 اکتوبر 2020 کو شروع ہوا تھا اور اس نے 20 فروری 2021 تک جاری رہنا ہے ۔ ہر سال ہونے والے اس میلے میں ملک بھر سے اور دنیا کے مختلف ممالک سے دس لاکھ سے زائد سیاح اور شائقین آتے ہیں – اس میلے کو مرحوم شیخ زاید بن سلطان النھیان کے نام سے منسوب کیا گیا جوکہ ملک کے ثقافتی ورثہ اور اس کی قیمتی روایات و اقدار کا اجاگر کرتا ہے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://wam.ae/en/details/1395302900926

WAM/Urdu