ہفتہ 27 فروری 2021 - 5:02:04 صبح

متحدہ عرب امارات کاعالمی دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ


نیویارک، 18جنوری، 2021 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات نے دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ تیونس کی زیرصدارت دہشتگردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے متعلق اعلی سطح بحث کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک تحریری بیان میں متحدہ عرب امارات نے اس بات پر زور دیا ہےکہ مستقل کوششوں کے باوجود خطرناک دہشتگرد گروہ جیسے القائدہ، داعش اور بوکو حرام سرگرم عمل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ اب بھی اپنے عالمی نیٹ ورک کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس سے اجتماعی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے کہا ہےکہ یہ خطرہ اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب دہشتگرد جدید ترین اسلحہ حاصل کرتے ہیں اور اپنے پروپیگنڈے کو پھیلانے، جنگجوؤں کو بھرتی کرنے اور فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے نئی ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے اپنی کوششوں کا خاکہ پیش کیا جس میں مشرق وسطی اور اس سے باہر کے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دہشتگرد گروہوں کو شکست دینے کے لئے ایڈہاک اتحاد اور فوجی کارروائیوں میں اس کی شمولیت شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایک حکمت عملی کے ذریعے ان تنظیموں کو فنڈز کی فراہمی اور جنگجوؤں کی بھرتی کو روکنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بنیاد پرستی سے نمٹنے اور رواداری، پرامن بقائے باہمی اور معاشرے میں بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دینے پر بھی کام کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یہ بھی بتایا کہ وہ کس طرح شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ خواتین اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے بااختیار بنایا جاسکے۔ دہشتگردی کے ابھرتے ہوئے خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کیلئے متحدہ عرب امارات نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی کوزیادہ متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس میں یہ جانچنا شامل ہے کہ تکنیکی جدت طرازی انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو بہتر بناسکتی ہے اور صنفی حساس اثرات کے تجزیے کا انعقاد کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رکن ممالک کو انسداد دہشتگردی کی روک تھام اور حکمت عملیوں کامسودہ تیار کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے میں خواتین کی شمولیت سمیت ہر سطح پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت کی حوصلہ افزائی، تعمیر اور ان میں اضافہ جاری رکھنا چاہئے۔ متحدہ عرب امارات نے رکن ممالک کی استعداد کار بڑھانے اور دہشتگردی کے خطرات سےنمٹنے اور ان کا جواب دینے کے لئے بحرانوں سے نمٹنے کی اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں متحدہ عرب امارات نے قومی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لئے اقوام متحدہ کے انسداد دہشتگردی مرکز (یو این سی ٹی سی) اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہدایہ کے کام کی بھی تعریف کی۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے اتحاد کے بغیر دہشتگردی کے خاتمے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتی ہیں۔رکن ممالک نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ پیشرفت کی ہے لیکن ابھی ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ متحدہ عرب امارات اس لعنت کے خاتمے کے لئے اپنی کوششوں میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات کو 2022-2023 کی مدت کیلئے سیکورٹی کونسل کیلئے منتخب کیا جاتا ہے تو وہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے اس نقطہ نظر کو برقرار رکھے گا۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ https://wam.ae/en/details/1395302902315

WAM/Urdu