ہفتہ 27 فروری 2021 - 5:24:38 صبح

عرب دنیا کے مسائل حل کرنے کیلئے مشترکا ویژن اور یواین سلامتی کونسل میں مربوط موقف ضروری ہے : قرقاش


ابوظہبی ، 19 جنوری ، 2021 (وام) ۔۔ وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور بن محمد قرقاش کا کہنا ہے کہ علاقائی اور عالمی اہمیت کے کلیدی کرداروں کی قوی معاونت کے بغیر عرب دنیا کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا ، اس کیلئے امن و سلامتی کو لاحق برائیوں سے نمٹنے کی خاطر یکجہتی اور اتحاد کے جذبہ کی ضرورت ہے – انہوں نے ان خیالات کا اظہار یواین سلامتی کونسل میں عرب گروپ کے بیان کو ' سکیورٹی کونسل اور عرب لیگ میں رابطوں ' کے موضوع پر ہونے والی بریفنگ میں پیش کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے اس موقع پر تنازعات اور بحرانوں کے حل کی خاطر یواین سکیورٹی کونسل اور عرب لیگ میں تعاون کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا – گروپ کی جانب سے اس بیان میں عرب دنیا کے مسائل کو خالص عرب حل کی بنیاد پر حل کرنے کی ناگزیریت کے عزم کو دہرایا جس میں مشترکہ چیلنجز کے مربوط حل کو تلاس کرنے کے ساتھ ویٹو پاور کے کم ترین استعمال اور بحرانوں کی صورت میں ارلی وارننگ سسٹم کو شامل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا تھا – ان کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس پیچیدہ اور کثیرالجہتی بحرانوں کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں عرب اقوام اور ان کے لوگوں کے وسائل اور استعداد پر زور بھی دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موثر حل کی عدم موجودگی جاری بحرانوں کو مزید پیچیدہ بناتی ہے اور اس سے ایسی برائیاں جنم لیتی ہیں جو علاقائی و عالمی سلامتی و امن کو خطرات لاحق کرتی ہیں – انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قابل قدر کاوشوں کے ساتھ ساتھ عرب لیگ نے بھی خلوص سے ایسی کاوشیں کیں جو بحرانوں کو حل کریں ، ان میں بالخصوص یمن ، شام ، لیبیا اور فلسطین کے بحران شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اکیلی تنظیم ایسے مسائل اور بحرانوں کے پائیدار اور جامع حل کے قابل نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسے پیچیدہ معاملات اجتماعی اقدامات و کاوشوں کے متقاضی ہوتے ہیں – اس بیان میں ایک ایسی سالانہ بنیادوں کی میٹنگ کے انعقاد پر زور دیا گیا ہے جس میں نمایاں عرب امور زیرغور لائے جائیں اور بین الاقوامی عہدیدار اس خطے کے زیادہ دورے کریں تاکہ بحرانوں کی حقیقت اور شدت کو بہت انداز میں سمجھنے کا موقع مل سکے – قرقاش نے تمام ریاستوں کے تناظر میں سلامتی کونسل اور عرب لیگ میں تعاون کی اہمیت کے ساتھ نئے بحرانوں کو جنم لینے سے روکنے کیلئے ارلی وارننگ سسٹم تشکیل دینے پر بھی زور دیا ۔ اس تناظر میں بیان میں تجویز کیا گیا ہے کہ معلومات کے تبادلے کی خاطر تخلیقی ذرائع تیار کیئے جائیں ، تدارک پر مبنی سفارتکاری کو فروغ دیا جائے اور یواین اور عرب لیگ کے سیکریٹریز جنرل کے درمیان رابطوں اور تعاون کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://wam.ae/en/details/1395302902533

WAM/Urdu