ہفتہ 27 فروری 2021 - 5:49:57 صبح

عرب امارات ، کم ترین آلودگی والے تیل و گیس کے پیداواری ممالک میں شامل ہے: سی ای او اٹلانٹک کونسل


ابوظہبی ، 19 جنوری ، 2021 (وام) ۔۔ بین الاقوامی تعلقات پر نظر رکھنے والا امریکن اٹلانٹک خطے کے تھنک ٹینک ادارہ اٹلانٹک کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فریڈرک کیمبے کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ماحول دوست اقدامات و کاوشیں بالخصوص دنیا بھر میں تیل و گیس شعبے کی پیداوار میں کم ترین آلودگی رکھنا قابل قدر ہیں – امارات نیوز ایجنسی ، وام کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں صاف ذرائع اور قابل تجدید منصوبوں سے توانائی پیداوار کے کئی کلیدی منصوبے زیر تکمیل ہیں جوکہ ماحولیاتی پائیداری میں بڑا کردار ہیں ، متحدہ عرب امارات نے قابل تجدید توانائی ذرائع کی ترقی میں قابل ذکر کردار ادا کرکے نمایاں پیشرفت کی ہے جس سے ایسے منصوبوں کی لاگت بھی کم ہوئی ہے ، سبز توانائی کی مسابقت کو قائم کرکے متحدہ عرب امارات نے صاف و شفاف توانائی کی جانب منتقلی کو تیز بنانے کی مثال قائم کی ہے – انہوں نے کہا کورونا وائرس کی عالمی وباء سے قابل تجدید و صاف توانائی کے ذرائع کم تر متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں گزشتہ سال 2020 میں ہائیڈروکاربن وسائل سے زیادہ پیشرفت دکھائی ، دنیا میں اہم کمپنیاں اور ممالک کی جانب سے کاربن کو ختم کرنے کے عزم کی وجہ سے توانائی کے صاف و شفاف ذرائع کی مجموعی صورتحال نے تقویت پائی – سال 2020 میں متحدہ عرب امارات نے ہائیڈروکاربن اور گیس کے نئے وسیع ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا تھا ۔ اس تناظر میں عالمی توانائی کی طلب پر اثرات سے متعلق کیمبے کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ آںے والی دہائیوں میں ہائیڈروکاربن کی طلب میں کمی ہو لیکن یہ بھی واضح رہنا چاہیئے کہ متحدہ عرب امارات اس وقت دنیا میں ان ذرائع کی کم ترین لاگت اور کم ترین آلودگی والے ممالک میں شامل ہے ، اس تناظر میں سبز توانائی کی جانب دنیا کے رحجان کے باوجود توانائی کی منتقلی اور کم ترین لاگت کے ساتھ کم ترین کاربن والی توانائی میں متحدہ عرب امارات کی پوزیشن مستحکم ہے – توانائی شعبے پر عالمی وباء کے اثرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ توانائی کے نظام پر کووڈ 19 ایک تبدیلی لانے والے محرک کے طور پر کام کرے اور یہ صورتحال آںے والی نسلوں کیلئے ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران سے توانائی کے عالمی نظام کو تبدیل کیا ہے جس کی وجہ سے طلب میں بہت کمی بھی آئی ، اسی وقت میں دنیا کی حکومتوں نے اپنی معیشتوں کو فعال کرنے کیلئے قابل قدر وسائل استعمال کیئے اور یہ قابل تجدید توانائی کی ترقی میں سرمایہ کاری کا اہم موقع ہوسکتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں 2020 اور 2021 کے سال ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں نتیجہ خیز بھی ہوسکتے ہیں – ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں تیل و گیس کی طلب خدشات سے دوچار ہے اس تناظر میں توانائی کا شعبہ کم لاگت اور کم آلودگی والے وسائل کی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے ، یہ تب بھی منافع بخش رہے گا اگر تیل قیمتوں میں ایک بار پھر گراوٹ آئے – انہوں نے عالمی وباء کے عرصۃ میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے تیل و گیس منصوبوں میں مسلسل ترقی اور کامیابی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سمارٹ اور ڈیجیٹل کاروباری طریقوں کو اپنا کر متحدہ عرب امارات نے بہت اہم پیشرفت کی اور یہ واضح کردیا کہ ایسے طریقوں سے بھی لاگت کو کم کرنے کے ساتھ آلودگی کو بھی روکا جاسکتا ہے تاکہ پیرس ماحولیاتی معاہدہ کے اہداف کو حاصل کیا جاسکے – کیمبے کل 20 جنوری کو اٹلانٹک کونسل گلوبل انرجی فورم 2021 کا افتتاح کریں گے ، یہ فورم اپنی نوعیت کا پانچواں ایونٹ ہے اور ابوظہبی میں منعقد ہونے جانے والے اس فورم کو ورچوئل انداز میں ترتیب دیا گیا ہے جس میں سینئر حکومتی عہدیدار ، متعلقہ صنعت کے ایگزیکٹوز ، وزراء توانائی اور ممتاز ماہرین و مفکرین شریک ہونگے ۔ اس موقع پر گلوبل انرجی ایجنڈا کا اجراء کیا جائے گا جوکہ کووڈ 19 کے اثرات کے تناظر میں سینکڑوں نمایاں توانائی ماہرین کی جانب ترتیب دیا گیا ایک جامع سروے ہے ، یہ توانائی کی صںعت کیلئے طویل مدتی جائزہ بھی پشی کرے گا – یہ کانفرنس امریکہ کی نئی بائیڈن انتظامیہ کیلئے توانائی ترجیحات کا تعین بھی کرے گی جبکہ مشرق وسطی میں توانائی کی منتقلی کے کردار کو بھی اجاگر کرے گی – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://wam.ae/en/details/1395302902569

WAM/Urdu