بدھ 06 جولائی 2022 - 11:27:40 شام

امریکہ دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی مدد کرے گا :کمانڈر سینٹ کام

ویڈیو تصویر

ابوظہبی، 8 فروری 2021 (وام) ۔۔ امریکی سینٹرل کمان کے( سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل کینتھ ایف مکینزی نے کہا ہے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا فضائی دفاعی نظام ملک پر حالیہ میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوا ہے ۔پھر بھی، امریکہ اس دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈرجنرل کینتھ ایف مکینزی نے وام کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ امریکہ متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے مزید موثر حل تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کے موقع پر جنرل مکینزی نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ امریکی ساختہ میزائل ڈیفینس سسٹم 'تھاڈ' کو متحدہ عرب امارات نے پہلی دو جنگی آزمائشوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ،اس کے نتائج بہت اچھے رہے ہیں اور میں جانتا ہوں کے اس نظام نے متحدہ عرب امارات میں ہر ایک کے خدشےیا خوف کو ختم کرنے کے لئے مضبوط پیغام دیا ہے۔ ہم مستقبل میں اس نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ امریکی جنرل کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہے جب حوثی ملیشیا نے متحدہ عرب امارات میں شہری اہداف کے خلاف دہشت گردی کے حملے کئے ۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع (ایم او ڈی) نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے حوثی دہشت گرد گروپ کی طرف سے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔ 2 فروری کو، وزارت نےبتایا تھا کہ اس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین "دشمن" ڈرونز کو روک کر تباہ کیا۔ ڈرون حملوں سے نمٹنے کا حل: مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے نگران،جنرل میکنزی کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس خطے میں اپنے شراکت داروں اورامریکی صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے حل تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ڈرون کے خلاف کام کریں۔ ڈرونز جنہیں ہم 'Left of Launch' کہتے ہیں جس کا مطلب لانچ کیے جانے سے پہلے ہے۔ اس طرح کا نظام ڈرون کی لانچنگ کا پتہ لگانے، دوران پروازان کی نشاندہی کرکے ان کی پرواز کا رخ تبدیل کرنے کے قابل ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کرتے بتایا کہ بالفرض اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے ، تو یقینی طور پرڈرون کو ہدف تک پہنچنے تک مارگرانے کے قابل ہو جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ان تمام شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ مزید موثر ہو سکیں۔ پیشہ ورانہ فوج متحدہ عرب امارات کو محفوظ بناتی ہے: انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے دورے کو متحدہ عرب امارات کو امریکہ کی مسلسل دوستی اور حمایت کایقین دلانے کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ امریکی کمانڈر نے کہا کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات پر حملے امریکہ کے لیے بہت تشویشناک ہیں، ان کے خیال میں متحدہ عرب امارات کے پاس خطے میں سب سے زیادہ پیشہ ورانہ فوج ہے۔ جن کی قیادت بہترین ہاتھوں میں ہے اور ان کے خیال میں متحدہ عرب امارات ایک بہت محفوظ جگہ ہے۔ متحدہ عرب امارات کے لئے فوری امریکی فوجی مدد: انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پر حملہ ہوتے ہی امریکہ اپنے ایک پرانے دوست کی مدد کے لیے تیزی اور فوری طور پر آگے بڑھا ۔ ہم نے طیارہ بردار یو ایس ایس کول کوحرکت دی،جوگائیڈڈ میزائل ڈسٹرائراوربیلسٹک میزائل دفاعی صلاحیتوں کا حامل ہے،یہ متحدہ عرب امارات کی حفاظت کے لئے اس کے فضائی محافظوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں گشت کرے گا۔ اسکے علاوہ، اگلے ہفتے یا اس کے بعد، امریکہ ایف 22 لڑاکا طیاروں کا ایک سکواڈرن تعینات کررہا ہے جو دنیا کے بہترین فضائی برتری والے جنگجو لڑاکا طیارے ہیں۔ یہ طیارے بھی متحدہ عرب امارات کی حفاظت کے لئے اپنے یو اے ای کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر خدمات انجام دیں گے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک دوست ہے جو بحران کے وقت دوسرے دوست کی کی مدد کر رہا ہے۔ حوثیوں کی دہشت گردی ٹیگ کا اثر، داعش کے رہنما کی ہلاکت: امریکی حکومت کی جانب سے حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے پر غور کرنے اور اس اقدام کے ممکنہ اثرات کے بارے میں ایک سوال پر، جنرل میکنزی نے کہا کہ وہ حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق سوالات سفارت کاروں پر چھوڑنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ حوثی لاپرواہی کا اور غیر ذمہ دارانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے متحدہ عرب امارات پر حملہ کیا اور وہ سعودی عرب پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدھ کو شام کے روز شمال مغرب میں امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی ہلاکت کے بارے میں، مکینزی نے کہا کہ ان کے خیال میں داعش کے بین الاقوامی رہنما کی ہلاکت سے داعش کے لیے پوری دنیا میں اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا علاقائی سطح پراس کے امکانات اگرچہ باقی رہیں گے تاہم اس کے لئے ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں سرگرمیوں کو منظم کرنے میں سخت مشکل ہوگی۔ اس سوال پر پر کہ کیا اس کی ہلاکت سے داعش کا عالمی نیٹ ورک بننے کے خطرے کو ناکام بنا دیا گیا ہے، تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ یہ ٹل گیا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ خطرہ ہمارے ساتھ طویل عرصے تک رہے گا۔ اس خطرے کا سامنا کرنا خون کے بغیر یا عدم تشدد کا مستقبل نہیں ہے، کیونکہ افسوسناک طور پر، مجھے نہیں لگتا کہ اس کا کوئی ممکنہ نتیجہ نکلے گا۔ امریکی کمانڈر نے وضاحت کی کہ امریکہ "مقامی اور علاقائی طور پر" داعش کے خطرے پر قابو پانا چاہتا ہے تاکہ امریکی سیکیورٹی فورسزانہیں "دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر حملے منظم کا موقع دینے کے بجائے موقع پر ہی اس سے نمٹ سکیں۔ افغانستان کی صورتحال مکینزی نے کہا کہ امریکہ افغانستان کی صورتحال ک بہت قریب سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ امریکی کمانڈر نے کہا کہ افغانستان سے متعلق امریکہ کی تشویش زیادہ تر ایک علاقائی شاخ ، داعش خراسان اور القاعدہ کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بڑے حملے کرنے کی صلاحیتسے متعلق ہے۔ "جب ہم افغانستان کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بنیادی تشویش یا یہی نکتہ ہے جو اس وقت ہمیں لاحق ہے۔ ترجمہ۔تنویرملک https://www.wam.ae/en/details/1395303018778

WAM/Urdu