پیر 27 جون 2022 - 3:10:49 شام

أم القيوين کی تاریخ 700 سال پرانی ہے:آثار قدیمہ کی  نئی تحقیق میں انکشاف


أم القيوين ، 21 فروری، 2022 (وام) ۔۔ السينیہ کے جزیرے پر ہونے والی آثار قدیمہ کی نئی تحقیق کے مطابق آج کے شہر أم القيوين کی تاریخ کم از کم 700 سال پرانی ہے۔ أم القيوين کے سیاحت و آثار قدیمہ کے شعبہ(ٹی اے ڈی- یو اے کیو) کے سربراہ الشيخ ماجد بن سعود المعلاکی ہدایات پرکی گئی اس تحقیق سے سے آج کے شہر کے بالمقابل جزیرہ سینیہ پر دو ساحلی آبادیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں سے قدیم ترین کا تعلق 13 ویں یا 14 صدی سے ہے۔ أم القيوين کے بارے میں پہلے خیال تھا کہ یہ شہر 1768 میں شیخ راشد بن ماجد المعلا کے قائم کردہ قلعے کے آس پاس پروان چڑھا ہے تاہم نئی تحقیق سے اس شہر کی تاریخ کے مزید 500سال قدیم ہونے کا پتہ چلا ہے۔ شیخ ماجد نے کہا وہ ان دریافتوں سے بہت خوش ہیں ہمیں معلوم تھا کہ المعلاخاندان نے آج سے تقریباً 250 سال پہلے موجودہ أم القيوين کے علاقے میں بودوباش اختیار کی تھی تاہم اس نئی تحقیق سے ہماری امارت کی تاریخ میں مزید 500 سال کا اضافہ ہوا ہے۔ سینیہ کا جزیرہ ام القیوین کے اور امارات کی گلف کوسٹ کے درمیان واقع ہے، جو خور البيضاء جھیل کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ مینگروو والی جھیل شمالی امارات میں اپنی نوعیت کی بہترین مثال ہے۔ اس کے ساحلوں کے ارد گرد کم از کم 6ہزار سال پہلے کے آثار ملتے ہیں، جس میں نوولتھک اور کانسی کے دور کے مقامات کے ساتھ ساتھ ed-Dur کی بڑی آبادی بھی شامل ہے، بندرگاہ پر واقع اس بستی کے لوگوں کی جانب سے 2ہزار سال قبل رومن سلطنت کے ساتھ تجارت کے شواہد ملے ہیں۔ سینیہ جزیرے پر آثار قدیمہ کی دریافت کے حالیہ کام کے دوران دو پڑوسی تاریخی بستیوں کی نشاندہی بھی ہوئی ہے ۔ پہلا قصبہ 13ویں سے 14ویں اور 15ویں صدی کے درمیان پروان چڑھا۔ اس کے تاریخی ثبوت چین کے علاقے یوآن سے منگ عہدکے دوران برآمد کردہ سبز چمکدار مٹی کے برتنوں کی یہاں موجودگی ہے۔ یہ پہلی بستی حال ہی میں سینیہ جزیرے پر دریافت ہوئی جو دونوں سے بڑی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس میں پتھرکی عمارتوں کاایک شہری مرکز تھا جس کے مضافات میں واقع گھروں کے سامنے کھجور کے درخت تھے۔ یہ آبادی بعد میں قریب واقع دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئی، یہ نئی دوسری بستی کے ساتھ پھر 17ویں صدی کے اوائل سے 19ویں صدی کے اوائل تک پھل پھولتی رہی۔اس آبادی کی تاریخ کا ثبوت چین کے منگ عہد اور ابتدائی چھنگ عہد کے دورا وہاں سے درآمد کردہ نیلے اور سفید چینی مٹی کے برتنوں کی موجودگی سے ہوسکتی ہے۔ یہ دوسرا قصبہ 18 جنوری 1820 کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے بحری قزاقی سے نمٹنے کے لیے خلیج عرب بھیجے گئے ایک بحری دستے نے تباہ کر دیا ۔ راس الخیمہ کے حکمران شیخ سلطان بی صقر القاسمی کے دورا کا ایک نایاب سکہ اسی مقام سے دریافت ہوا انہوں نے 1820 کے میری ٹائم معاہدے پر دستخط کیے جس سے مخاصمت کا خاتمہ ہوا اور جدید متحدہ عرب امارات کی بنیاد رکھی۔ دوسرے قصبے کے کھنڈرات کا 1822 میں ایک برطانوی بحریہ کے سروے میں ذکر ملتا ہے، جس میں بتایا گیا کہ اسے ام القیوین قصبے کی موجودہ جگہ کے حق میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ تیسرا قصبہ ، جو 19 ویں اور 20 ویں صدی کے وسط کے درمیان ایک خوشحال علاقہ تھا۔ ام القیوین کے تین تاریخی قصبوں کا اب 13ویں یا 14ویں صدی سے لے کر آج تک کے ایک ہی پیشہ وارانہ سلسلے سے تعلق ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ یہ سلسلہ غیر معمولی ہے، کیونکہ امارات کے خلیجی ساحلوں کے تاریخی قصبوں کے آثار کی باقیات تقریباً تمام صورتوں میں بڑے پیمانے پر جدید ترقی کی وجہ سے ماند پڑ رہے ہیں۔ ام القیوین کے پہلے اور دوسرے قصبوں کے آثار کی کھدائی سردیوں کے موسم میں بھی شیخ ماجد بن سعود المعلا کی قیادت میں جاری رہے گی۔ جس میں کمیونٹی مرکز کی عوامی عمارات ،قلعوں اور مساجد کے مقامات کی نشاندہی کی جائے گی جنہیں بعد ازاں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395303022785

WAM/Urdu