بدھ 29 جون 2022 - 10:05:39 صبح

آذربائیجان متحدہ عرب امارات کی حمایت سے قابل تجدید توانائی کا برآمد کنندہ بننے کا خواہاں ہے:وزیر توانائی


بنسل عبدالقادر سے ابوظہبی، 19 مئی، 2022 (وام) ۔۔ تیل کی دولت سے مالا مال آذربائیجان کے ایک اعلی عہدیدار نے کہاہے کہ ان کاملک قابل تجدید توانائی کا برآمد کنندہ بننے کا خواہاں ہے اور یہ کہ اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ شراکت داری کا اہم کردار ہوگا۔ امارات نیوز ایجنسی وام کو ایک انٹرویو میں آذربائیجان کے وزیر توانائی پرویز شہبازوف نے کہا کہ ان کا ملک روایتی طور پر تیل اور گیس پیدا کرنے والا اور برآمد کنندہ رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ بجلی کا بھی خالص برآمد کنندہ ہے۔ اب ہم توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو متحرک طور پر ترقی دے رہے ہیں۔ اپنے شراکت داروں بشمول متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر، ہم ایک ایسا ملک بننے جا رہے ہیں جو مستقبل میں سبز توانائی بھی برآمد کرے گا۔ سابق سوویت جمہوریہ، جس کی سرحدیں چار ممالک روس، جارجیا، آرمینیا اور ایران اور بحیرہ کیسپین سے ملتی ہیں، دنیا کا سب سے پہلا تیل کا کنواں اسی ملک میں 1800 کی دہائی کے وسط میں کھودا گیا تھا۔ قابل تجدید توانائی کے بلند نظر منصوبے: شہبازوف نے بتایا کہ آذربائیجان نے اب قابل تجدید ذرائع توانائی پیدا کرنے کے ایک پرجوش سفر کا آغاز کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ابوظہبی میں ورلڈ یوٹیلیٹیز کانگریس کے موقع پروام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم نے حال ہی میں ایک نئے سولر پاور اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ جو متحدہ عرب امارات کی 100 فیصد سرمایہ کاری کے ساتھ صنعتی پیمانے پر قابل تجدید توانائی کا پہلا منصوبہ ہے۔ شہبازوف آذربائیجان میں 230 میگاواٹ کے گراداغ سولر فوٹوولٹک (پی وی) پلانٹ کا حوالہ دے رہے تھے، جسے دنیا کی معروف قابل تجدید توانائی کمپنیوں میں سے ایک،ابوظہبی کی کمپنی مصدر تعمیر کر رہی ہے۔ مصدر نے مارچ 2022 میں اس منصوبے کی تعمیر کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیاتھا۔ مصدر نے اپریل 2021 میں الات کے علاقے کے شمال مغرب میں نو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گراداغ پروجیکٹ کے معاہدوں پر دستخط کیے، پلانٹ سے 2023 میں تجارتی آپریشن شروع ہونے کی امید ہے۔ متحدہ عرب امارات کی مالی اعانت سے 1لاکھ10ہزار گھروں کو بجلی فراہمی کا منصوبہ: اس منصوبے سے سالانہ 50کروڑ کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی، جو 1لاکھ10ہزار سے زیادہ گھروں کی بجلی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سے کاربن اخراج میں سالانہ 2لاکھ ٹن سے زیادہ کمی آئے گی اور اہم ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ ابوظہبی فنڈ برائے ترقی (اے ڈی ایف ڈی) اس منصوبے کے لیے اہم مالیاتی شراکت دار ہے اور قابل تجدید توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے آذربائیجان کی مزید مدد کرنے کا خواہاں ہے۔ مصدر نے پورے آذربائیجان میں صاف توانائی کے مزید منصوبوں کی ترقی سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔ وزیر توانائی نے مزید کہاکہ ہم مستقبل میں بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کامیاب تعاون کو جاری رکھیں گے۔ 2030 کے قابل تجدید توانائی ہدف پر نظرثانی: قابل تجدید ذرائع کے حوالے سے آذربائیجان کے اہداف کے بارے ایک سوال پر شہبازوف نے بتایا کہ ہم 2030 تک انرجی مکس میں قابل تجدید ذرائع کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے جا رہے ہیں۔ تاہم، یہ بھی حتمی ہدف نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم آنے والے وقتوں میں اس ہدف پر نظرثانی کریں۔ شاید ہم ہدف میں اضافہ کریں۔ بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (ارینا) کے مطابق،ایک اندازے کے مطابق آذربائیجان میں 23ہزار 40 میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعاون کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر نے کہاکہ ہم اپنے توانائی کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کی وسیع اور جامع شرکت کے بارے میں تفصیلی بات چیت کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بہت سے اہم منصوبے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان بہترین تعلقات کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ہم مزید قریبی تعاون چاہتے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے سالوں میں ہم توانائی کے شعبے میں بہت جامع تعاون کریں گے۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395303048940

WAM/Urdu