پیر 27 جون 2022 - 10:09:31 صبح

متحدہ عرب امارات کا نظام صحت منکی پوکس سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے:وزارت صحت


دبئی، 22 مئی، 2022 (وام) ۔۔ وزارت صحت و تدارک (ایم او ایچ اے پی) نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا نظام صحت منکی پوکس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، اور یہ کہ وہ کسی بھی مشتبہ کیس کی پوری سرگرمی سے تحقیقات اور قریبی نگرانی کر رہا ہے۔ منکی پوکس ایک وائرل زونوٹک بیماری ہے جو بنیادی طور پر وسطی اور مغربی افریقہ کے استوائی بارشی جنگلات میں ہوتی ہے اور کبھی کبھار دوسرے خطوں میں بھی کسی ذریعے سے برآمد ہوجاتی ہے ۔ یہ بیماری کسی متاثرہ شخص یا جانور سے قریبی رابطے یا وائرس سے آلودہ مواد سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس زخموں، جسمانی رطوبتوں، سانس کے آبی قطروں اور آلودہ مواد جیسے بستر سے قریبی رابطے سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ نایاب اور عمومی طور پر ہلکی نوعیت کی ہے لیکن منکی پوکس اب بھی ممکنہ طور پر شدید بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وائرس کے حالیہ دنوں میں پھیلنے سے پہلے، یہ بیماری لوگوں کے ایک چھوٹے اور درمیانے گروپ تک محدود تھی جو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کا امکان کم ہے۔ اگرچہ نایاب اورعمومی طور پر ہلکی نوعیت کی ہے لیکن منکی پوکس اب بھی ممکنہ طور پر شدید بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ منکی پوکس کے علامات عموماً اس سے متاثر ہونے کے 7 سے 14 دن تک نمودار ہوتی ہیں، لیکن یہ دورانیہ 21 دن تک بھی ہوسکتا ہے۔کسی مخصوص شخص میں اس انفیکشن کی شروعات جلد کے پھٹنے سے ہوتی ہے، جو عام طور پر بخار میں مبتلا ہونے کے 3 دن بعد ظاہر ہوتا ہے۔ منکی پوکس سے عموماً بخار، جلد پر دانے اور لمف نوڈس میں سوزش واقع ہوتی ہےجو کئی قسم کی طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ وہ فی الحال مقامی طور پر اس بیماری کی سنگینی کا مطالعہ اور جائزہ لے رہی ہے، اور اس کے مطابق ملک میں کام کرنے والے تمام طبی عملے کے لیے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ کیس کی اطلاع صحت کے متعلقہ اداروں کو دیں۔ وزیر نے کہا کہ ہم نے مشتبہ مریضوں کی تشخیص کے لیے ایک درست طریقہ کار وضع کیا ہے۔ وبائی امراض پر قابو پانے کے لیے تکنیکی مشاورتی ٹیم نے نگرانی، بیماری کا جلد پتہ لگانے، طبی طور پر متاثرہ مریضوں کے انتظام اور احتیاطی تدابیر کے لیے ایک جامع ہدایات نامہ بھی تیار کیا ہے۔ ایم او ایچ اے پی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ پوری دنیا میں منکی پوکس کے پھیلاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ کیسز کا پتہ لگانے اور وائرس کے مقامی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صحت کےدیگر اداروں کے تعاون سے مقامی سطح پر وبائی امراض کی نگرانی کو تیز کر رہا ہے۔ وزارت نے عوام سے افواہوں کو آگے پھیلانے یا ان افواہوں سے گمراہ نہ ہونے اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے، ہر ایک پر زور دیا کہ وہ صحت کے مستند اداروں کی جاری کردہ تازہ ترین پیشرفت اور رہنما خطوط پر عمل کریں۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395303049662

WAM/Urdu