ہفتہ 02 جولائی 2022 - 12:21:59 شام

مصنوعی ذہانت اگلی دہائی میں MENA خطےمیں بھرپور اقتصادی اثرات کی حامل ہوگی:رپورٹ


دبئی، 20 جون، 2022 (وام)۔۔ گوگل نے ایک نئی رپورٹ The Future of AI in the MENA خطےکے اجراء کا اعلان کیا جو کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، مصر اور کویت پر خصوصی توجہ کے ساتھ اگلی دہائی کے دوران مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، سیاحت، نقل و حمل، مالیات، ریٹیل، توانائی اور سرکاری خدمات میں صنعت کے رجحانات پر روشنی ڈالتی ہے۔

رپورٹ میں پالیسی کے اہم پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جن پر حکومتوں کو اپنے مصنوعی ذہانت کےماحولیاتی نظام اور صلاحیتوں کو مضبوط کرتے وقت غور کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق خطے کی اقتصادی ترقی پر مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اقتصادی اثرات نمایاں ہیں۔ MENA کے علاقے میں مصنوعی ذہانت کی اضافی قدر سے 2030 تک 320 ارب ڈالرحاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

خطے نے قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی تیار کرنے میں پہل کی ہے جو ایک دوستانہ کاروباری ماحول پیدا کر سکتی ہے تاہم ان میں مناسب ڈیجیٹل پالیسیوں جیسے کہ ڈیٹا گورننس کے ساتھ ساتھ اعتماد اور حفاظت کے شعبے میں کی کمی ہے۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں حکومتی امور اور عوامی پالیسی کے سربراہ مارٹن روزکا کہنا ہے کہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ AI کی ذمہ دارانہ ترقی MENA کے علاقے میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور اہم شعبوں کو ٹربو چارج کرنے کے وسیع مواقع پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم تکنیکی تبدیلی کی اس لہر کے ثمرات حاصل کریں نجی شعبے، حکومتوں اور سول سوسائٹی کے درمیان انفراسٹرکچر، لوگوں، ٹیکنالوجی اور پالیسی کی ترقی میں سرمایہ کاری کیلئےمشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت کے مصنوعی ذہانت کے دفتر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر صقر بن غالب نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اور نجی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے نظام کو بڑھانے کے لیے کلیدی پالیسیاں ترتیب دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ سسٹم اور کاروبار میں بنیادی عنصر کے طور پر AI پر انحصار کرنے کے تصور کو بڑھانا خطے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹس اور اعداد و شمار ترقی کے سفر کی تازہ کاریوں کی پیروی کرنے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور اختراعات میں مدد کرتے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ اسی طرح یہ تمام مطلوبہ شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات تخلیق اور شروع کرکے AI فیلڈ میں مسلسل بہتری کو یقینی بناتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا میں مصنوعی ذہانت کی پہلی قسم کی قومی حکمت عملی مستقبل کے شعبوں میں AI ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانے کے عالمی نقطہ نظر کے مطابق ہے۔

یہ حکمت عملی کے اہداف کو حاصل کرنے اور AI پر منحصر پروگراموں اور منصوبوں کے نفاذ کو تیز کرنے میں مدد کرتا ہے۔

منیجر ٹیک اینڈ سوسائٹی اکانومسٹ امپیکٹ والٹر پاسکوریلی نے کہا کہ حالیہ کامیابی کے پیچھے وہ کردار ہے جو حکومتوں نے ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ اپنا اگلا باب لکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہماری رپورٹ MENA کی ترقی کی رفتار، سیکھنے کے تجربات پر روشنی ڈالتی ہے اور ایک محفوظ اور خوشحال AI ماحولیاتی نظام کاراستہ تجویز کرتی ہے۔

چھ اہم شعبے AI کو اپنانے سے فائدہ اٹھانے کے سب سے زیادہ امکان کے طور پر نمایاں ہیں۔

1. خطے کی حکومتیں سرکاری خدمات کی رفتار، رسائی اور تاثیر کو بڑھانے کے لیے AI کے استعمال کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

2. مالیاتی خدمات اور بینکنگ سیکٹر کے AI ٹیکنالوجیز پر سب سے زیادہ خرچ کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کا حصہ خطے میں AI کی تمام سرمایہ کاری کا 25 فیصد ہے۔خطے میں ڈیٹا کی شفافیت ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔

3. ٹرانسپورٹ کے شعبے سے مصر اور خلیجی معیشتوں میں حصہ ڈالنے کی توقع ہے اور 2030 میں اس کے جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

4. وباء کے دوران آن لائن ریٹیل اور تجارت میں اضافے نے کسٹمر ڈیٹا کے گہرے پول بنائے جو AI الگورتھم کو بہتر بنانے اور کسٹمر کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

5. توانائی کے شعبے پر AI کے اثرات نے خطے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ توقع ہے کہ 2030 تک یہ خطے کی جی ڈی پی میں 6 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالے گا۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395303059087

WAM/Urdu