منگل 05 جولائی 2022 - 1:27:16 صبح

"میک اِن ایمریٹس فورم"ابوظبی میں شروع ہوگیا

  • مقدمة 1 / انطلاق فعاليات منتدى "اصنع في الإمارات" بمشاركة 1300 جهة استثمارية
  • مقدمة 1 / انطلاق فعاليات منتدى "اصنع في الإمارات" بمشاركة 1300 جهة استثمارية
  • مقدمة 1 / انطلاق فعاليات منتدى "اصنع في الإمارات" بمشاركة 1300 جهة استثمارية
  • مقدمة 1 / انطلاق فعاليات منتدى "اصنع في الإمارات" بمشاركة 1300 جهة استثمارية

ابوظبی، 21 جون، 2022 (وام)۔۔ وزارت صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے تازہ ترین اقدامات میں سے ایک "میک اِن ایمریٹس فورم" آج ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ کے تعاون سے شروع ہوگیا ہے۔

دو روزہ ایونٹ میں بڑی مقامی اور بین الاقوامی صنعتی کمپنیاں، متحدہ عرب امارات کے سرکاری ادارے اور متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے مالیاتی ادارے شرکت کررہے ہیں۔

فورم کا افتتاح صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے وزیر اقتصادیات عبداللہ بن طوق المری، وزیر مملکت برائے عوامی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سارہ بنت یوسف العمیری؛ ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی، وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت؛ احمد علی الصیغ، وزیر مملکت؛ ADDED کے چیئرمین محمد علی الشرافہ؛ ایمریٹس انوسٹمنٹ اتھارٹی کے سی ای او مبارک راشد المنصوری؛ مبادلہ کے انوسٹمنٹ پلیٹ فارم کے سی ای اومصعبہ الکعبی؛ فیصل البنائی، ای ڈی جی ای گروپ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایگزیکٹو چیئرمین؛ توازن اکنامک کونسل کے سی ای او طارق عبدالرحیم الحوسانی؛ عمر الفطیم، الفطیم گروپ کے وائس چیئرمین اور سی ای او؛ محمد حسن السویدی، ADQ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور CEO؛ شریف العلما، وزارت توانائی اور انفراسٹرکچر برائے توانائی اور پٹرولیم امور کے انڈر سیکرٹری؛ لولو گروپ کے چیئرمین یوسف علی مسلم؛ الظہرہ ہولڈنگ کے وائس چیئرمین اور کمپنی کے بانی خادم عبداللہ الداریی، عبداللہ ناصر حویلی المنصوری، چیئرمین، الناصر ہولڈنگز؛ محمد عیسیٰ الغریر، وائس چیئرمین، عیسیٰ الغریر انوسٹمنٹ؛ مسعود احمد المسعود، المسعود گروپ کے چیئرمین؛ حامد بن سالم، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے چیئرمین؛ حنا الرستمانی، فرسٹ ابوظہبی بینک کی گروپ سی ای او؛ رولا ابو مننہ، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک UAE کے سی ای او؛ احمد حماد بن فہد المحیری، ڈوبل ہولڈنگز کے سی ای او اور صنعت کے سرکاری اور نجی شعبے کی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

فورم میں پینلز اور نمائشیں شامل ہیں اور اسکا مقصد قومی صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینا اور صنعتی شعبے میں شراکت داری اور تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعات کی لوکلائزیشن کے مواقع پیش کرنا، قومی معیشت میں خریداری کی قدر کو ری ڈائریکٹ کرنا اور صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے مقامی قوت خرید سےفائدہ اٹھانا ہے۔

12 قومی کمپنیاں مقامی پیداوار اور خریداری کے لیے 11 شعبوں میں 300 سے زائد مصنوعات پیش کر رہی ہیں جو کہ عالمی صنعتوں کا مرکز بننے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ یہ قومی کمپنیاں جن میں ادنوک، ADQ ہولڈنگ، ایمریٹس گلوبل ایلومینیم، TAQA، اتصالات، اتحاد ایئرویز، ایج، مبادلہ، ایمریٹس اسٹیل، پیور ہیلتھ، اسٹراٹا، الدار، ایمریٹس نیوکلیئر انرجی کارپوریشن، اتحاد ریل اور مصدر شامل ہیں نے موجودہ اور نئے شراکت داروں کے لیے ممکنہ خریداری کے معاہدوں کے 110 ارب درہم کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

گیارہ شعبوں میں دھاتیں، پیٹرو کیمیکل، کیمیائی صنعتیں، پلاسٹک، مشینری اور آلات، دفاعی صنعتیں، دوا سازی کی صنعتیں، ٹیکنالوجی اور طبی آلات، مواصلات اور زرعی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ مقامی پیداوار کے لیے متعارف کرائی گئی 300 سے زائد نئی مصنوعات قومی جی ڈی پی میں سالانہ 6 ارب درہم کا حصہ ڈالیں گی۔

ان مصنوعات کو مقامی بنانے سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے، صنعتی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے، معیشت کو متنوع بنانے، اقتصادی ترقی اور پائیداری کو بڑھانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی بھی توقع ہے۔

تقریب میں 1,300 سے زائد مندوبین نے شرکت کی جن میں سرکردہ قومی کمپنیوں کے نمائندے، مینوفیکچررز اور 20 سے زائد پینل اسپیکرز کے ساتھ سرمایہ کار، جن میں بڑی صنعتی کمپنیوں کے سی ای اوز اورسرکاری اور نجی شعبے کے اعلیٰ سطح نمائندے شامل تھے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے کہا کہ وزارت صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے تاکہ ہماری کوششوں کو دوگنا کرنے، مستقبل کے لیے تیاری کرنے، ہماری قومی اقتصادی تنوع کی کوششوں میں حصہ ڈالنے اور ایک مضبوط صنعتی شعبے کی تعمیر کے لیے متحدہ عرب امارات کے مسابقتی فوائد سے فائدہ اٹھائیں جو خود کفالت کو فروغ دے اور مقامی پیداوار میں اضافہ کرے۔

انہوں نے کہاکہ وزارت کو نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی ہدایت سے بھی رہنمائی حاصل ہے جنہوں نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اپنی مضبوط قوت ارادی، وسائل، صلاحیتوں اور موثر پالیسیوں کے ساتھ ایک عالمی اقتصادی بنیاد بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ عالمی بحرانوں کے دوران اپنی معیشت کی لچک کو بڑھانے کے لیے متعدد اہم صنعتوں میں خود کفالت حاصل کرکے ہم متحدہ عرب امارات کو عالمی اقتصادی چیلنجوں سے محفوظ رکھیں گے۔

ڈاکٹر الجابر نے وضاحت کیکہ COVID-19 وباء اور جغرافیائی سیاسی چیلنجوں نے سپلائی چین کو متاثر اور عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وباء سے ایک سب سے اہم سبق جو ہم نے سیکھا وہ یہ ہے کہ عالمی معاشی حالات سے قطع نظر اہم شعبوں جیسے خوراک، صحت کی دیکھ بھال اور کاروبار کے تسلسل اور معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری شعبوں میں خود کفالت اور لچک پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو بہت سے مسابقتی فوائد حاصل ہیں جن میں سب سے اہم قیادت کی دانشمندی اور حمایت ہے جو ہمیشہ مثبت نقطہ نظر کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھتی ہے، استحکام کو یقینی بنانے اور اس پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور اس نے لچکدار اور حوصلہ افزا ماحول کے لیے ہدایات دی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہم انتہائی ہنر مند انسانی وسائل، توانائی کے وسائل، خام مال، ایک تزویراتی جغرافیائی محل وقوع، جدید انفراسٹرکچر، شفاف قوانین، بھروسے اور اعتبار، مسابقتی فنانسنگ، متنوع، روادار اور محفوظ معاشرے میں زندگی کا ایک مثالی معیار، اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سب نے ہمیں اپنی قومی صنعت کو ترقی دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، شراکت داریاں بنانے اور نئی منڈیوں میں داخل ہونے کے قابل بنایا ہے۔

ڈاکٹر الجابر نے کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اس فورم کا فائدہ اٹھائیں ۔قومی صنعتی حکمت عملی تمام متعلقہ فریقوں بشمول صنعتی شعبے، سرکاری شعبے، نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ورکشاپوں اور شفاف مکالمے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی بینچ مارکنگ کے ذریعے قریبی مشاورت اور تعاون سے بنائی گئی تھی۔

ڈاکٹر الجابر نے کہاکہ وزارت ہماری کامیابیوں کے تحفظ، ریگولیٹری اور قانون سازی کے ماحولیاتی نظام سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ملک میں صنعتی سرمایہ کاری کو تحریک دیتا ہے، صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے تجارتی طور پر قابل عمل مواقع پیدا کرتا ہے، مقامی مصنوعات کی حمایت کرتا ہے اور درآمدات پر انحصار کو کم کرتا ہے۔

انہوں نے وزارت کی اب تک کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وضاحت کی کہ وزارت نے نیشنل ان کنٹری ویلیو پروگرام شروع کیا جس کا مقصد بڑی کمپنیوں اور سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے خریداری کی سب سے بڑی رقم کو مقامی معیشت کی طرف ری ڈائریکٹ کرنا ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے سپلائرز کو ترجیح دینا ہے۔

فی الحال اس پروگرام کو 45 سرکاری ایجنسیوں اور 6 سرکردہ قومی کمپنیوں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جس میں 5,500 مقامی صنعتی کمپنیوں کی شرکت ہے۔

اپنے پہلے سال کے دوران پروگرام نے قومی معیشت کو 40 ارب درہم سے زیادہ کی ری ڈائریکٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ADDED کے چیئرمین محمد علی الشرافہ نے کہاکہ قیادت کے وژن کے تحت متحدہ عرب امارات نے انسانی ترقی، اقتصادی کشادگی اور اقتصادی تنوع کے عزم کی بنیاد پر پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ان کوششوں کے پیچھے صنعتی شعبہ اہم محرکات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو ظہبی نے صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے ٹھوس بنیادیں رکھی ہیں۔ اس نے امارات کے صنعتی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کے لیے 51 ارب درہم (13.8 ارب ڈالر) سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے اور پالیسیوں، مراعات اور فنانسنگ پر مشتمل ایک مربوط نظام تیار کیا ہے۔

اس سرمایہ کاری اور نظام نے مل کر اس شعبے کو امارات کے جی ڈی پی میں سب سے بڑا غیر تیل کا حصہ دار بننے میں مدد فراہم کی ہے۔ پچھلے سال صنعتی شعبے نے ابوظہبی کے جی ڈی پی میں 83.5 ارب درہم کا حصہ ڈالا جو ہماری مشترکہ کوششوں کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔

گزشتہ سال 21.7 فیصد اضافہ ہوا جو کہ امارات اور خطے میں کسی بھی شعبے کی بلند ترین شرح نمو میں سے ایک ہے جو ابوظہبی میں صنعتی کمپنیوں کی مضبوط کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

الشرافہ نے کہاکہ میک ان ایمریٹس فورم قومی صنعتی شعبے کو بااختیار بنانے کے مقصد کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے مسابقتی فوائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنظیموں کو ترقی دینے کے مقامی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے مواقع کی نمائش کرتا ہے۔

فورم متحدہ عرب امارات کے پرکشش سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ فورم اگلی دہائی کے دوران معروف قومی کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات کی متوقع مانگ کو متعارف کرائے گا اور صنعتی کامیابی کی کہانیاں پیش کرے گا۔ فورم اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کے لیے خریداری اور تیاری کے مواقع کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اس تناظر میں ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ نے صنعتی شعبے کو سپورٹ کرنے اور اس کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں جن میں ابوظہبی لوکل کنٹینٹ پروگرام (ADLC) اور الیکٹرک ٹیرف انسینٹیو پروگرام (ETIP) شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس شعبے میں کام کرنے والی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو شامل کرنے کے لیے پروگرام کے دائرہ کار کو بھی بڑھایا۔ مراعات میں 80 فیصد سرمائے کے اخراجات کی کم شرح سود پر فنانسنگ، دو سال کی رعایتی مدت اور 15 سال تک کی ادائیگی کی مدت شامل ہے۔

ترغیبات میں ابوظہبی ایکسپورٹ سپورٹ آفس اور ایکسپورٹ کریڈٹ یونین کے ذریعے برآمدات کو سپورٹ کرنے کے لیے مالیاتی ذرائع جیسے نرم قرضے، تجارتی مالیات اور کریڈٹ سلوشنز تک رسائی کی سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

فورم میں متعارف کرائے گئے دیگر فعال عوامل میں KIZAD میں زمین اور دفتر کے کرایے پر چھوٹ اور Tawazun Industrial City میں زمین کے کرائے پر 18 ماہ تک کی رعایتی مدت شامل ہے۔

حصہ لینے والے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں ایمریٹس ڈویلپمنٹ بینک، فرسٹ ابوظہبی بینک، ابوظہبی کمرشل بینک، اتحاد کریڈٹ انشورنس، ابوظہبی فنڈ برائے ترقی، ابوظہبی اسلامی بینک، اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ شامل ہیں۔ فورم کے پہلے دن کے ایجنڈے میں متحدہ عرب امارات کے صنعتی شعبے پر متعدد پینل مباحثے شامل تھے۔ فورم میں 24 قومی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ مواقع اور مراعات کو اجاگر کرنے والی ایک نمائش بھی پیش کی گئی جنہوں نے مندوبین کو قومی کامیابی کی کہانیوں اور ان کے توسیعی منصوبوں سے آگاہ کیا۔

TAQA نے ایک پائیدار مستقبل کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر ایک پریزنٹیشن پیش کی جبکہ ادنوک نے ڈرلنگ مصنوعات سے متعلق صنعتی مواقع پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔

ابوظہبی پورٹس نے ابوظہبی میں صنعتی ترقی کے مواقع،بوروج کمپنی نے ویلیو چین کے مواقع،نفیس پروگرام نے ایمریٹائزیشن،ایمریٹس نیوکلیئر انرجی کارپوریشن نے متحدہ عرب امارات کے پرامن نیوکلیئر انرجی پروگرام کی سپلائی چین میں موجود مواقع،ایمریٹس اسٹیل، آرکان اور ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کی جانب سے پریزنٹیشن دی گئیں۔

کل کے ایجنڈے میں مختلف موضوعات جیسے مکینیکل مصنوعات اور ایئر کنڈیشنرز، پائپ، فٹنگز اور والوز، برقی مصنوعات، کنٹرول اور مواصلات، اور ٹیکنالوجی کی مصنوعات سے متعلق صنعتی مواقع۔

پیور ہیلتھ، اتحاد ایئرویز، ایمریٹس گلوبل ایلومینیم، ای ڈی جی ای گروپ، بیکر ہیوز اور ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کی جانب سے بھی پریزنٹیشنز ہوں گی۔ متحدہ عرب امارات میں صنعت صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے قومی حکمت عملی کے آغاز کے بعد سے کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

نیشنل ان کنٹری ویلیو پروگرام نے قومی معیشت میں 41.4 ارب درہم ری ڈائریکٹ کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی صنعتی برآمدات نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جو دو سال قبل 82 ارب درہم کے مقابلے میں 116 ارب درہم تک بڑھ گئی۔

صنعتی شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ 2021 کے آخر میں 150 ارب درہم سے زیادہ ہو گیا۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395303059575

WAM/Urdu