ہفتہ 02 جولائی 2022 - 1:11:40 شام

ورلڈ گورنمٹ سمٹ رپورٹ کا اخراج میں 80 فیصدتک کمی کیلئےپانچ اقدامات پر زور

  • تقرير للقمة العالمية للحكومات : تغيير جذري للمؤسسات التعليمية والبرامج والشهادات لمواكبة متطلبات العصر
  • تقرير القمة العالمية للحكومات بالشراكة مع

ابوظبی، 21 جون، 2022 (وام)۔۔ ورلڈ گورنمنٹ سمٹ (WGS) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اخراج میں کمی کرکے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے قومی ترجیحات اور حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کرنے پر توجہ دیں۔ رپورٹ میں خطے کے ممالک کے لیے پالیسی سفارشات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جو اختیار کیے جانے پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اندازاً 80 فیصد تک کمی آئے گی۔

یہ رپورٹ عالمی انتظامی مشاورتی فرم اولیور وائمن کے ساتھ شراکت میں تیار کی گئی ہے اور اس میں خطے کے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہائی کے آخر تک عالمی اخراج میں 42 فیصد کمی کا عہد کرتے ہوئے فوری طور پر موسمیاتی اقدام کریں۔ متحدہ عرب امارات نے خلیجی خطے میں 2050 تک جبکہ سعودی عرب اور بحرین نے 2060 تک نیٹ زیرو ہدف پورا کرنے کا عہد کررکھا ہے۔

سعودی عرب نے "سعودی گرین" اقدام کے ساتھ اس جانب ایک اہم قدم اٹھایا جس کا مقصد CO2 کے اخراج کو سال 2030 تک 278 MTA تک کم کرنا ہے۔ قطر نے بھی دہائی کے آخر تک CO2 کے اخراج کو 25 فیصد تک کم کرنے کا عہد کیا ہے۔

ورلڈ گورنمنٹ سمٹ آرگنائزیشن کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر محمد یوسف الشرحان نے کہا کہ یہ تنظیم حکومتوں کے لیے ایسی تبدیلیاں اپنانے کا عالمی پلیٹ فارم ہے جو ایک بہتر دنیا کی طرف لے جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ WGS کمیونٹی پر مثبت اثر ڈالنے کے لیے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے عالمی سطح پر حکومتوں کو بھی جوڑتا ہے۔

الشرحان نے کہا کہ یہ رپورٹ حکومتوں کو کم کاربن والی معیشت کی طرف منتقلی کے لیے ضروری پالیسی تبدیلیاں کرنے کا ایک ٹھوس موقع فراہم کرتی ہے اور روشن مستقبل کے لیے نیٹ زیروکے اقدامات کو نافذ کرتی ہے۔

پارٹنر، Oliver Wyman اور رپورٹ کے سرکردہ مصنفین میں سے ایک Matthieu De Clercq نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں حکومتوں نے اخراج کو کم کرنے کی اہمیت کو محسوس کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرین ٹیکنالوجیز اقتصادی ترقی کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کریں گی۔ انکا کہنا تھا کہ دونوں ایک پائیدار معیشت اور خطے کے خالص صفر اہداف کو پورا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

2030 تک گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے اولیور وائمن کا اندازہ ہے کہ اس خطے کو اپنے اخراج کو 42 فیصد، یا تقریباً 1,325MT CO2e - 'اخراج کا فرق' کم کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق چار توانائی سے متعلق شعبوں کا مشترکہ طور پر اخراج کے فرق کا 85 فیصد حصہ ہے جن میں توانائی کی پیداوار (39 فیصد)، صنعتی (21 فیصد)، رہائشی اور عوامی عمارتیں (14 فیصد) اور نقل و حمل (11 فیصد) ہے۔

اپنے مختلف آب و ہوا کے اہداف کو حاصل کرنا ان معیشتوں کے لیے چیلنج ہو گا جو زیادہ تر تیل کی پیداوار پر منحصر ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کو اقتصادی تنوع اور عالمی مسابقت اور ڈیکاربونائزیشن کے اہداف میں اضافے کے تین گنا دباؤ کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں اولیور وائمن کےکلائمیٹ ایکشن نیویگیٹر پر روشنی ڈالی گئی ہے جو 2021 میں شروع کی گئی ۔یہ ایک ٹول ہے جو پالیسی کے فیصلہ سازوں کو عالمی اخراج کے اہداف اور ان کو پورا کرنے کے لیے لیورز کے درمیان تعلقات کو نیویگیٹ کرکے خالص صفر اہداف حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

نیویگیٹر ممکنہ اقدامات، پالیسی کے بہترین طریقوں اور آلات کے بارے میں مخصوص تفصیلات فراہم کرتا ہے جو اخراج کو کم کرنے اور اخراج کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے تمام اقتصادی شعبوں اور جغرافیوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کم کاربن معیشت میں ہموار اور کامیاب منتقلی کے لیے رپورٹ حکومتوں کو اخراج میں کمی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے پانچ اہم پالیسی اقدامات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔

ان میں کاربن کیپچر اسٹوریج (CCS) اور کاربن کیپچر یوٹیلائزیشن (CCU) ٹیکنالوجیز کی ترقی میں سرمایہ کاری خاص طور پر توانائی اور صنعتی شعبوں میں؛ عمارتوں کی حرارت اور ٹھنڈک میں اخراج میں کمی کے مواقع پر توجہ مرکوز کرنا؛ کم اخراج والی بجلی کی پیداوار میں اضافہ؛ رسد اور نقل و حمل کے شعبوں میں ہدف کے اخراج اور صنعتی عمل کی توانائی کی کارکردگی میں اضافہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کے پالیسی سازوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی معیشتوں کو خالص صفر پر منتقل کرنے کے لیے احتیاط سے ایک واضح منصوبہ تیار کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی کارروائی مشرق وسطیٰ کی معیشت کو متنوع بنانے اور صنعت کے نئے شعبوں میں پائیدار ترقی کے لیے نئے راستے کھولنے کے لیے ایک علاقائی عمل انگیز بن سکتی ہے۔ Clercq De Matthieu نے کہاکہ مشرق وسطی کے ممالک کو احتیاط سے اپنی منتقلی کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ خالص صفر مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس اقدام سے علاقائی اقتصادی ترقی کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔

انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کے عمل کو ہموار کرنے کے لیے، اقتصادی، سماجی اور مالیاتی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط، بتدریج اور پائیدار منتقلی کے حصول کے لیے ہر عمل میں متعدد پالیسی ٹولز کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کا باقاعدہ آغاز WGS2022 اجلاس میں کیا گیا تھا جو دبئی میں 29 اور 30 ​​مارچ 2022 کو نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی سرپرستی میں ہوا تھا۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395303059407

WAM/Urdu