ہفتہ 02 جولائی 2022 - 12:40:42 شام

''میک اٹ اِن دی امارات'' فورم میں متحدہ عرب امارات کے عالمی صنعتی مرکز بننے کے امکانات کاجائزہ لیا گیا

  • "اصنع في الإمارات" يستعرض إمكانات الإمارات في التحول إلى مركز عالمي للصناعات
  • "اصنع في الإمارات" يستعرض إمكانات الإمارات في التحول إلى مركز عالمي للصناعات
  • "اصنع في الإمارات" يستعرض إمكانات الإمارات في التحول إلى مركز عالمي للصناعات
  • "اصنع في الإمارات" يستعرض إمكانات الإمارات في التحول إلى مركز عالمي للصناعات

ابوظہبی، 21 جون، 2022 (وام) ۔۔ ''میک اٹ اِن دی امارات'' فورم کے پہلے دن متحدہ عرب امارات کی جانب سے مینوفیکچررزکو فراہم کی جانے والی صنعتی صلاحیتوں، فوائد اور قابلیتوں کے علاوہ صنعتی شعبے کو عالمی سطح پر مسابقتی اور متحدہ عرب امارات کو عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکزبنانے میں معاون سہولیات ، دنیا کے بہترین لاجسٹکس اور مواصلاتی ڈھانچے کو اجاگر کیا گیا۔ ' امارات میں کیوں بنائیں؟' کے عنوان سے ہونے والے سیشن کے دوران ان چیزوں پر روشنی ڈالی گئی، سیشن میں متحدہ عرب امارات کی فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکرٹری جنرل حمید محمد بن سالم ، ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ (اے ڈی ڈی ای ڈی) میں اقتصادی امور کے ڈائریکٹر جنرل سامح القبيسی، ابوظہبی پورٹس گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او کیپٹن محمد جمعہ الشامسی، امارات ڈیویلپمنٹ بینک کے سی ای او احمد النقبی ، دبئی انڈسٹریل سٹی کے منیجر ڈائریکٹر سعود ابو الشوارب اور یو اے ای میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے سی ای او رولا ابو منہ نے شرکت کی۔ 'صنعتی مواقع: تعمیراتی لچک' کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں، شرکاء نے متحدہ عرب امارات کی معیشت اور سپلائی چین کے غیر معمولی استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔ سیشنز میں ٹیکنالوجی، ہائیڈروجن، پیٹرو کیمیکلز اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں مختلف مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس نے نے بڑے سولر پاور پلانٹس کی تعمیر مکمل کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو صاف توانائی کا ایک عالمی مرکز بننے میں مدد کی ۔ متحدہ عرب امارات میں تیل اور گیس کے شعبے نے صاف توانائی کے شعبے میں جدت کے بے مثال مواقع فراہم کیے ہیں، جو ملک کو توانائی کی عالمی منتقلی کا ایک بڑا محرک بنا رہے ہیں۔ سیشن میں توازن اقتصادی کونسل کے سی ای او طارق عبد الرحيم الحوسنی ، ایج گروپ کے بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین فیصل البنائی، امارات گلوبل ایلومینیم کے سی ای او عبدالناصر ابراہیم بن کلبان ، پیور ہیلتھ کے سی ای او فرحان مالک، اسٹراٹا مینوفیکچرنگ کے سی ای او اسماعیل علی عبداللہ اور اتصالات کے کنزیومر ڈیجیٹل سروسز کے سی ای او خليفہ الشامسی نے شرکت کی۔ 'صنعتی نمو' کے عنوان سے ہونے والے تیسرے سیشن میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح سرکردہ قومی کمپنیاں صنعتی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے سپلائی چینز کو مقامی بنا رہی ہیں۔ سیشن میں صنعتی شعبے کے اندر موجودہ اور مستقبل کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے اس باموجوؑ پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ توانائی کا شعبہ، دیگر شعبوں کے ساتھ، کس طرح متحدہ عرب امارات کے اقتصادی تنوع میں کردار ادا کررہاہے، جس سے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ پینلسٹس نے صنعتی کوششوں کو تقویت دینے میں ان کنٹری ویلیو پروگرام کے کلیدی کردار اور ان اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جو ملک نے پورے شعبے میں ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے اٹھائے ہیں۔ ابوظہبی نیشنل انرجی کمپنی (طاقہ) کے سی ای او اور منیجنگ ڈائریکٹر جاسم ثابت کے ساتھ تیسرے سیشن میں تعز کے قائم مقام سی ای او خلیفہ المھیری، الدار کے سی ای او عادل عبداللہ البریکی اور ادنوک میں ایکسپلوریشن، ڈیویلپمنٹ اور پروڈکشن کے ڈائریکٹر عبد المنعم الكندی شریک ہوئے۔ 'مینوفیکچررز آؤٹ لک' کے عنوان سے، چوتھے اور آخری پینل میں یوے ای کی صنعتی مہارتوں اور بڑی عالمی کارپوریشنز، ایس ایم ایز اور مقامی کمپنیوں کے لیے ایک مرکز کے طور پر اس کے نمایان مقام پر صنعتی رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا۔ سیشن کے دوران، شرکاء کو ملک میں مینوفیکچررز کے مثبت تجربات خاص طور پر فنانسنگ اور اہم عالمی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے مفید بات چیت سننے کا موقع ملا۔ اس سیشن کے شرکاء میں ایمرسن کے نائب صدر اور جنرل منیجر وداد حداد، الغربیہ پائپ کمپنی کے جنرل منیجر متسورو انیساکی، ٹیکنیپ ایف ایم سی کے سی ای او تھیری کونٹی، ريثيون امارات کے ڈپٹی جنرل منیجر فہد المھیری، بیکر ہیوز مشرق وسطی و شمالی افریقہ کے کارپوریٹ نائب صدر زاهر ابراهيم اور المسعود گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین مسعود أحمد المسعودشامل تھے۔ ترجمہ۔تنویرملک http://wam.ae/en/details/1395303059590

WAM/Urdu