بدھ 10 اگست 2022 - 12:17:37 شام

جی سی سی ممالک اورامریکہ کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری


جدہ، 16 جولائی، 2022 (وام) ۔۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک اور امریکہ نے "جدہ سیکورٹی و ترقیاتی سربراہی اجلاس" کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ بیان میں جی سی سی اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان دفاع، سیکورٹی اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کے معاہدے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

مشترکہ بیان کے مطابق خادم الحرمین الشریفین سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود کی دعوت پر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک اور امریکہ کے رہنماؤں نے جدہ میں ملاقات کی۔ گزشتہ یو ایس-جی سی سی سربراہی اجلاس 14 مئی 2015 کو کیمپ ڈیوڈ میں جبکہ 21 اپریل 2016 اور 21 مئی 2017 کو ریاض میں منعقد ہوئے تھے۔ رہنماؤں نے اپنے ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کی اسٹریٹیجک اہمیت اور تمام شعبوں میں تعاون، رابطوں اور مشاورت کومضبوط بنانے کے لیے گزشتہ سربراہی اجلاسوں کی کامیابیوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

رہنماؤں نے عالمی اقتصادی بحالی کی کوششوں کو تقویت دینے، وبا اور یوکرین جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات سے نمٹنے، سپلائی چین کو مستحکم بنانے ، خوراک اور توانائی موثر فراہمی کو یقینی بنانے، صاف توانائی کے ذرائع اور ٹیکنالوجیز تیار کرنے اور ضرورت مند ممالک کو انسانی اور امدادی ضروریات کی فراہمی کے لیے مشترکہ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

امریکہ نے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کم از کم 10 ارب ڈالر فراہم کرنے کے عرب رابطہ گروپ (اے سی جی) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ رہنماؤں نے مشرق وسطی و شمالی افریقہ (مینا) کے خطے کے لیے قریب اور طویل مدتی طور پر فوڈ سیکورٹی کے لیے امریکہ کی جانب سے 1 ارب ڈالر کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا۔

رہنماؤں نے صارفین، پیداوار کننددگان کے مفاد میں تیل کی عالمی منڈی کو مستحکم اور اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے اوپیک پلس کی جاری کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اوپیک پلس کے اراکین کی جانب سے جولائی اور اگست کے دوران سپلائی بڑھانے کے حالیہ اعلان کا خیرمقدم کیا،اوراوپیک پلس کے اراکین کے درمیان اتفاق رائے حاصل کرنے میں سعودی عرب کے اہم کردارکو سراہا۔

صدر بائیڈن نے جی سی سی کے کچھ ممالک کی جانب سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری منصوبے کو بھی سراہا۔

امریکی صدر نے مشرقی بیت المقدس ہسپتال نیٹ ورک کے لیے جی سی سی ممالک کے10کروڑ ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کی تعریف کی، جو مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرے گا۔

 رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے، علاقائی کشیدگی میں کمی کے مقصد سے سفارت کاری کی حمایت،خطے کے وسیع دفاع، سلامتی اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور آبی گزرگاہوں کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

اس تناظر میں، جی سی سی ممالک کے رہنماؤں نے صدر بائیڈن کی طرف سے جی سی سی ممالک کے ساتھ اپنی سٹریٹجک شراکت داری اور یہ کہ وہ تمام بیرونی خطرات کو روکنے اوران کا مقابلہ کرنے ان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ اہم آبی گزرگاہوں بالخصوص آبنائے هرمز اور باب المندب کو لاحق خطرات کے خلاف جی سی سی میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، کے امریکی عزم کا خیرمقدم کیا ۔

رہنماؤں نے خلیج عرب کے خطہ کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیاروں سے پاک رکھنے کو یقینی بنانے،ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو متحد کرنے اور دہشت گردی اور سلامتی و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی تمام سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ۔

رہنماؤں نے خطے اور اس کی آبی گزرگاہوں کی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے جی سی سی کے رکن ممالک اور امریکا کے درمیان جاری تعاون کو سراہا۔

انہوں نے بغیر پائلٹ کے فضائی نظام اور کروز میزائلوں کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ ساتھ دہشت گرد ملیشیا اور مسلح گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کے خلاف اپنی دفاعی و مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اپنے ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا۔

رہنماؤں نے باہمی مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جس کا مقصد جی سی سی کے رکن ممالک کی ڈیٹرنس اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے فضائی اور میزائل دفاع اور سمندری سلامتی کی صلاحیتوں کو مربوط کرتے ہوئے باہمی تعاون کو بڑھانا اور قبل از وقت وارننگ سسٹم اور معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔

رہنماؤں نے کمبائنڈ ٹاسک فورس 153 اور ٹاسک فورس 59 کے قیام کا خیرمقدم کیا، جس سے جی سی سی کے رکن ممالک اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے درمیان مشترکہ دفاعی ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا تاکہ سمندری خطرات کی بہتر نگرانی اور جدید ترین ٹیکنالوجیز اور سسٹمز کواستعمال کرتے ہوئے بحری دفاع کو بہتر بنایا جا سکے۔

رہنماؤں نے ہر سال یو ایس جی سی سی سربراہی اجلاس کے انعقاد کو جاری رکھنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا۔

ترجمہ۔ تنویر ملک

http://wam.ae/en/details/1395303066675

WAM/Urdu