بدھ 10 اگست 2022 - 11:41:40 صبح

امارات ریپروگرافک رائٹس منیجمنٹ ایسوسی ایشن /ایرا/ کا قیام عمل میں آگیا


شارجہ، 4 اگست، 2022 (وام) ۔۔ خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی، امارات ریپروگرافک رائٹس منیجمنٹ ایسوسی ایشن (ایرا) کی لانچنگ، متحدہ عرب امارات کی اشاعتی صنعت کے لیے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ صحت مند پرنٹ اور پبلشنگ مارکیٹ کی بنیادوں کومستحکم کرے گی جہاں مواد کی تخلیق اور اسے فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

ایرا کے قیام کے ساتھ، متحدہ عرب امارات عرب خطے میں ماہر ٹیکسٹ اور امیج ری پروڈکشن رائٹس آرگنائزیشن (آر آراو) رکھنے والا پہلا ملک اور دنیا بھر کے 80 سے زیادہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں اسی طرح کی اجتماعی انتظامی تنظیمیں موجود ہیں۔

ایرا سےامارات کی کتب کی صنعت میں مصنفین، بصری فنکاروں اور پبلشرز سمیت مواد کے تخلیق کاروں کے کاپی رائٹس کو مناسب قوانین اور قانون سازی کے ذریعے محفوظ رکھا جائے۔

مصنفین اور مصوروں کے لیے مواد تخلیق کرنے اور پبلشرز کے لیے پائریسی اور غیر مجاز فوٹو کاپی کے خوف کے بغیر اس صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے آر آر او کا قیام ایک بنیادی شرط ہے۔ آر آر او تک رسائی نہ ہونے کے باعث مصنفین، مصوروں اور پبلشرز کو ان کے کام کی بغیر کسی معاوضے کے اجازت کے بغیر نقل کرنے کے خطرے کا سامنا رہتاہے ایرا میں شمولیت اختیار کرنے کی صورت میں رجسٹرڈ لائسنس یافتہ صارفین جب اپنے کام کو دوبارہ پیش کریں گے تو تخلیق کاروں کو ہر بار رائلٹی ملے گی۔

ایرا کی صدر ڈاکٹر اليزيہ خليفہ کا کہنا ہے کہ علم پر مبنی معیشت کی تعمیر اور معاشی ترقی اور ترقی کے مرکز میں معلومات اور علم کو مستکم کرنے کے لیے دانشورانہ املاک کے تحفظ کے مضبوط فریم ورک کی ضرورت ہے۔

ریپروگرافک رائٹس منیجمنٹ ایسوسی ایشن کا قیام کا مقصد مناسب قوانین اور قانون سازی کے ذریعے مواد کے تخلیق کاروں کے کاپی رائٹس کی حفاظت اور مصنفین اور ناشرین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے ایرا کی لانچنگ کے موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف ری پروڈکشن رائٹس آرگنائزیشن (افرو) کی سیکرٹری جنرل اور سی ای او کیرولین مورگن نے کہاکہ صرف مصنفین اور پبلشرز ہی اجتماعی انتظام سے مستفید نہیں ہوتے ہیں بلکہ موثر اجتماعی انتظام تعلیمی اور کاروباری اداروں جیسے صارفین کو کاپی رائٹ کے مواد کی وسیع اقسام تک رسائی کے لیے آسان اور قانونی ذرائع کے ساتھ تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

ایرا کی حکمت عملی میں وزارت اقتصادیات اور وزارت تعلیم سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے اسکولوں، یونیورسٹیوں، کاپی اور پرنٹ سینٹرز اور پبلک لائبریریوں میں پرنٹ اور ڈیجیٹل کام کے دوبارہ استعمال کی نگرانی شامل ہے۔

اس کے علاوہ، لائسنس یافتہ ادارے ایسوسی ایشن سے فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ شفاف قواعد و ضوابط کے تحت مناسب فیس پر مواد کا ایک بھرپور ذخیرہ دستیاب ہوگا۔ ایرا کے ممبران اب پیمنسٹ وصول کر سکیں گے جب ان ممالک میں لائسنس یافتہ صارفین ان کے تخلیقی مواد کو کاپی کریں گے۔

اس عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا مطلب ہے کہ ان تمام 80 ممالک کے ادبی ،وتصنیفی مواد اب ایرا کے تعلیمی و کاروباری لائسنسز کے لیے دستیاب ہوں گے۔ ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (وائپو) میں کاپی رائٹ اور تخلیقی صنعتوں کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سلوی فوربن نے کہاکہ تخلیقی صنعتوں میں ڈیجیٹلائزیشن کی جانب عالمگیر تبدیلی کے ساتھ اور خاص طور پر نصابی کتب سمیت کتابوں کی اشاعت اور استعمال کے حوالے سے ایک اجتماعی منتظم ادارے کا کردار مواد تک رسائی اور اسے تخلیق کرنے والوں کی مدد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ترجمہ۔ تنویرملک

https://wam.ae/en/details/1395303071915

WAM/Urdu