جمعہ 30 ستمبر 2022 - 9:02:12 شام

اسرائیل،متحدہ عرب امارات دوطرفہ تجارت میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں117فیصداضافہ ہوا: اسرائیلی سفیر

  • amir hayek, the israeli ambassador to the uae (4) (large) - copy
  • amir hayek, the israeli ambassador to the uae (3) (large) - copy
ویڈیو تصویر

بنسال عبدالقادر سے

ابوظبی، 7 ستمبر، 2022 (وام)۔۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی باہمی تجارت میں گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 117 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی سفیر عامر ہائیک نے امارات نیوز ایجنسی (وام) کو بتایا کہ اگلے دو تین سالوں میں متحدہ عرب امارات اسرائیل کے دس بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پیش کردہ جدت کے بنیادی ڈھانچے اور کاروبار کے لیے ضروری اجزاء کی وجہ سے متحدہ عرب امارات اسرائیلی صنعتوں کے لیے ایک اہم ترقی کا انجن ثابت ہو سکتا ہے۔

2021 کے پہلے چھ مہینوں کے دوران 560 ملین ڈالر [2.06 ارب درہم ] مالیت کی دو طرفہ تجارت 2022 کی پہلی ششماہی کے دوران 1.214 ارب ڈالر [4.46 ارب درہم ] تک پہنچ گئی جو 117 فیصد زائدہے۔

انہوں نے یہ باتیں ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے میں ستمبر 2020 میں کیے گئے ابراہیمی معاہدے کی دوسری سالگرہ کے موقع پر خصوصی انٹریو میں بتائیں۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئےتھے۔

2022 کے 7 ماہ کی تجارت 2021 کے اعداد و شمار سے تجاوز کرگئی

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ 2022 کے پہلے سات مہینوں کے دوران 1.407 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت پہلے ہی پورے 2021 کے دوران 1.221 ارب ڈالر کی تجارت سے تجاوزکر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑاحجم ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات ان ممالک میں 19 ویں نمبر پر آگیا ہےجن کے ساتھ اسرائیل کاروبار کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر تک متحدہ عرب امارات کا درجہ 15 یا 16 کے درمیان ہو جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ اگلے 2 سے3 سالوں میں ہم متحدہ عرب امارات کو ان دس سرفہرست ممالک میں دیکھیں گے جن کے ساتھ اسرائیل تجارت کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات کے مطابق ستمبر 2020 سے مارچ 2022 تک متحدہ عرب امارات اسرائیل غیر تیل کی تجارت 2.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی جبکہ 2022 کے پہلے تین مہینوں میں یہ 1.06 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ 2021 میں اسی عرصے کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔

پانچ عوامل متحدہ عرب امارات کو اسرائیلی صنعتوں کے لیے ترقی کا انجن بناتے ہیں

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ میں اپنے اسرائیلی دوستوں سے کہہ رہا ہوں کہ متحدہ عرب امارات اسرائیلی معیشت اور صنعت کے لیے ایک اہم ترقی کا انجن ہو سکتا ہے۔

ہمارے پاس اس کی پانچ وجوہات ہیں پہلی یہ کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایک اختراعی انفراسٹرکچر ہے جو ہمارے انوویشن انفراسٹرکچر کو فٹ کر سکتا ہے اور ایک ساتھ مل کر ون پلس ون گیارہ ہو سکتے ہے۔

دوسری وہ یہاں کسی بھی قسم کا سرمایہ تلاش کر سکتے ہیں اگر وہ تلاش کر رہے ہیں۔ شراکت داروں کے لیے بعض اوقات وہ پارٹنرز کی تلاش میں نہیں ہوتے لیکن اگر وہ پارٹنرز کی تلاش میں ہیں تو یہ انہیں تلاش کرنے کی جگہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس اچھی کمپنی ہے تو آپ یہاں صحیح پارٹنر اور صحیح سرمایہ کاری تلاش کر سکتے ہیں ۔

اسرائیلی سفیر نے نشاندہی کی کہ تیسری وجہ کاروبار یہاں بڑھئی سے لے کر مشین انجینئرز اور سافٹ ویئر انجینئروں تک کسی بھی قسم کے لوگوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر آپ انہیں یہاں نہیں ڈھونڈ سکتے تو انہیں یہاں لانا آسان ہے۔

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ چوتھی وجہ خام مال کی دستیابی ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک عالمی تجارتی مرکز ہے جو مناسب قیمت پر مواد پیش کرتا ہے۔

پانچویں وجہ نئی منڈیوں تک رسائی ہے۔ عامرہائیک نے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ پانچ اجزاء اکٹھے ہیں۔ آپ انہیں صرف یہاں تلاش کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیلی معیشت، اسرائیلی صنعتوں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ترقی کا انجن ثابت ہو گا۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ CEPA۔ اسرائیل کی تیز ترین بات چیت

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) پر 31 مئی 2022 کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ چھ ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد دستخط کیے گئے جو کہ دوسرے ممالک کے ساتھ اسی طرح کے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے "تیز ترین مذاکرات" تھے۔

انہوں نے کہا کہ CEPA اگلے چند مہینوں میں نافذ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں معیشت توقعات کا معاملہ ہے۔ لہذا جب کاروباری لوگ CEPA کے بارے میں دیکھتے اور سنتے ہیں تو وہ تعاون کرنا چاہیں گے کیونکہ وہ دیکھتے اور سمجھتے ہیں کہ معاہدوں کی ایک ٹھوس بنیاد موجود ہے جو اقتصادی تعاون میں ان کی کوششوں کی حمایت کر سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات کے مطابق توقع ہے کہ اس معاہدے سے دو طرفہ تجارت پانچ سال میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گی اور اسی مدت کے اندر متحدہ عرب امارات کی GDP میں 1.9 ارب ڈالرکا اضافہ ہوگا۔

اسی طرح 2030 تک متحدہ عرب امارات کی کل برآمدات میں 0.5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395303081319

WAM/Urdu