منگل 04 اکتوبر 2022 - 2:31:01 شام

اسرائیل،متحدہ عرب امارات ستمبرمیں ابراہیمی معاہدے کی دوسری سالگرہ منا رہےہیں:اسرائیلی سفیر

  • amir hayek, the israeli ambassador to the uae (1) (large)
  • amir hayek, the israeli ambassador to the uae (2) (large)

بنسال عبدالقادر سے

ابوظبی، 7 ستمبر، 2022 (وام)۔۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات رواں ماہ اس ابراہیمی معاہدے کی دوسری سالگرہ منا رہے ہیں جس کے تحت ستمبر 2020 میں دو طرفہ معاہدوں، اعلیٰ سطحی دوروں اور تجارت اور سیاحت میں اضافے کے پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کیے گئے تھے۔

اکتوبر 2021 میں اسرائیلی ایلچی کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے والے امیر ہائیک نے امارات نیوز ایجنسی (وام ) کو بتایا کہ میں یہاں ساڑھے دس ماہ قبل [متحدہ عرب امارات میں پہلے اسرائیلی سفیر کے طور پر] پہنچا تھا اور [اس کے بعد سے] ہم نے اپنے صدر کے دو، وزیر اعظم کے دو اور مختلف وزراء کے تقریباً 20 دورے کرائے۔ اسکے علاوہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) سمیت 20 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

دو سال میں 450,000 اسرائیلی سیاحوں نے متحدہ عرب امارات کی سیر کی

ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے میں وام کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس امر کی تصدیق کی ہم بہت اچھے نتائج دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے نتائج پر فخر کر سکتے ہیں اور یہ تو ابھی شروعات ہے۔ اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہ پچھلے دو سالوں کے دوران اندازاً 450,000 اسرائیلی سیاحوں نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہائیک نے زور دے کر کہا کہ سیاحت دو طرفہ تعلقات میں سب سے اہم شعبوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس سے عوام کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم G سے G [حکومت سے حکومت] اور B سےB [کاروباروں سے کاروباروں] کےدرمیان روابط کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہمیں P سےP [عوام سے عوام ] کے تعلقات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو تعلقات کے سب سے اہم اجزاء کو قریب لائیں گے۔

انکا کہناتھا کہ اس سے لوگوں کو ایک دوسرے کی ثقافت کو جاننے میں مدد ملے گی اور لوگوں کے لیے مل کر کام کرنے کا یہ فطری طریقہ ہے۔

میراتھن کے طور پر نیا رشتہ

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی بات چیت کو میراتھن قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سفیر نے کہاکہ یہ ایک بچے کی طرح ہے جو پہلے ہی دو سال کا ہے اور وہ تین زبانیں بول سکتا ہے اور میراتھن دوڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اسے بار بار کہوں گا یہ میراتھن ہے۔

یہ 200 میٹر کی دوڑ نہیں ہے۔ ہم ٹھوس زمین، ٹھوس تعلقات بنانے، نتائج لانے کے لیے آئے ہیں اور ہمیں بہت کامیاب ہونا ہے۔ ہائیک نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی کامیابی خطے کے دوسرے ممالک کو "میز پر آنے" کی طرف راغب کرے گی۔ 15 ستمبر 2020 کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے نے پہلے ہی اسرائیل کے لیے مزید تین عرب ممالک بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ابراہیمی معاہدہ تعاون اور ایک نئے مشرق وسطیٰ کی نمائندگی کرتا ہے جو خطے میں بچوں کے لیے بہتر مستقبل پیش کرتا ہے۔

ایکسپو 2020، I2U2

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد کی۔ ایکسپو ایک مقناطیس تھا جو بہت سے لوگوں کو دبئی لے کر آیا۔ اور جب وہ آئے تو انہوں نے نہ صرف ایکسپو دیکھا بلکہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کو بھی دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو نے متحدہ عرب امارات کی طاقت، متحدہ عرب امارات کی خوبصورتی اور ہم اسرائیلیوں کیلئے اسکی رواداری کو فروغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اماراتی قیادت، ایکسپو کی اماراتی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا اور یہ اب تک کے سب سے بڑے واقعات میں سے ایک تھا۔ متحدہ عرب امارات ،امریکہ، بھارت اور اسرائیل پر مشتمل I2U2 گروپ جس نے فوڈ کوریڈور اور گرین انرجی پر دو اہم منصوبے شروع کیے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہائیک نے کہا کہ یہ صرف آغازہے۔ہمارے پاس ایک لمبی فہرست ہے اور ہم یہ کریں گے کیونکہ معیشت اسے حرکت دے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کی اقتصادی فزیبلٹی اور چاروں ممالک کی قیادت کا عزم انہیں آگے بڑھائے گا۔

ماحولیاتی ٹیک تعاون

نومبر 2022 میں قاہرہ میں دو آنے والے عالمی واقعات COP27 [اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے فریقین کی کانفرنس کا 27 واں اجلاس] کے تناظر میں عالمی اور علاقائی ماحولیاتی کارروائی میں دو طرفہ تعاون پر اور 2023 میں متحدہ عرب امارات میں COP 28 کے بارے اسرائیلی ایلچی نے کہا کہ دونوں ممالک کی صنعتیں ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے مل کر کام کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اسرائیل میں سب کو بتا رہا ہوں کہ متحدہ عرب امارات اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہے گا۔ جب میں اثرات کے بارے میں بات کر رہا ہوں تو میں ان تمام صنعتوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو یہاں متحد ہ عرب امارات میں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ یہ خطے اور پوری دنیا پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ فوڈ ٹیک، ایگرو ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، پانی، تعلیم، صحت خصوصاً ٹیلی میڈیسن میں دوطرفہ تعاون دنیا کو بہتر بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے لیے تعاون کریں گے۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395303081312

WAM/Urdu