منگل 04 اکتوبر 2022 - 1:48:34 شام

موسمیاتی تبدیلی کیلئےمتحدہ عرب امارات کے خصوصی نمائندےکاصاف توانائی پر منتقلی کیلئے عملی اقدامات پر زور


نیویارک، 22ستمبر، 2022 (وام)۔۔ صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر اور موسمیاتی تبدیلی کے لیے متحدہ عرب امارات کے خصوصی نمائندے ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اقتصادی ترقی اور موسمیاتی کارروائی کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کے لیے منصفانہ، سستی اور کامیاب توانائی کی منتقلی کے حوالے سے عالمی رہنماؤں، وزراء اور ماہرین کے اجلاس میں شرکت کی ۔

اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے کہا کہ توانائی کی منتقلی کیلئےایک حقیقت پسندانہ، عملی اور اقتصادی طور پر قابل عمل منصوبے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کی حفاظت اور اقتصادی ترقی کے ساتھ موسمیاتی پیشرفت میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کی توانائی کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتی ہیں تو اقتصادی ترقی اور موسمیاتی عمل بھی سست ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج کے توانائی کے نظام میں کم سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ہم معاملات کو مزید خراب کر دیں گے۔

انکا کہنا تھاکہ عالمی سطح پر ڈیڑھ ملین بیرل سے بھی کم فالتو تیل کی گنجائش ہے جو کہ عالمی کھپت کے 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں مارکیٹوں کو مزید خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ہمیں بہت زیادہ گنجائش نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ تباہی کا ایک نسخہ ہے جبکہ ہمیں ترقی کانسخہ درکار ہے۔

ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے کہاکہ توانائی کی منتقلی کے بنیادی چیلنج درج ذیل ہیں۔ پہلا یہ کہ اخراج پر قابو پاتے ہوئے معیشتوں کے آگے بڑھنے کو کیسے یقینی بنایا جائے۔

دوسرا یہ کہ ایک ہی وقت میں تحفظ توانائی اور ماحولیاتی ترقی کو کیسے برقرار رکھا جائے۔

اور تیسرا یہ کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم کر سکتے ہیں اور ہمیں ضرور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہمارے پاس ان چیلنجوں کو مل کر حل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے لیے متحدہ عرب امارات کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ حل تلاش کرنے سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ توانائی کا موجودہ نظام وسیع، پیچیدہ اور کثیر جہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے نئے نظام میں منتقلی کے لیے نظام کے وسیع ردعمل کی ضرورت ہے۔

اس کے لیے طے شدہ، عملی اور سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری کے اندر رکھنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے جبکہ سستی توانائی تک رسائی کو بڑھانا ہے۔

صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر نے اس حقیقت کا خیرمقدم کیا کہ ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی اور شمسی توانائی گزشتہ سال بجلی پیدا کرنے کی تمام نئی صلاحیتوں کا 80 فیصد سے زیادہ رہی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کا شعبہ تیزی سے قابل تجدید ذرائع کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

تاہم انہوں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والے شعبے اب بھی روایتی ذرائع پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجیز میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو بھاری صنعت، مینوفیکچرنگ، تعمیر، نقل و حمل اور زراعت کو مؤثر طریقے سے زیرو کاربن والی توانائی پرمنتقل کر سکتی ہیں۔

یہاں فنڈنگ ​​کا فرق بہت بڑا ہے اور اعداد کو سمجھنا ضروری ہے۔ گزشتہ سال قابل تجدید توانائی میں عالمی سرمایہ کاری 365 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اس رقم کا 5 فیصد سے بھی کم توانائی ذخیرہ کرنے، کاربن کااخراج روکنے اور ہائیڈروجن ویلیو چین میں لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صرف یہی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض صنعتی تخمینوں کے مطابق توانائی کی منتقلی کے لیے اگلے تیس سالوں میں 200 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی جو کہ ہر سال چھ ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

انہو ں نے واضح کیا کہ کوئی ایک ملک یا کارپوریشن اتنی سرمایہ کاری نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے اس بات پر زور دیا کہ قابل تجدید ذرائع کی توسیع اور موجودہ ہائیڈرو کاربن کی ڈی کاربنائزیشن متوازی طور پر ہونی چاہیے۔

عالمی توانائی کے مرکب کا صرف 4 فیصد قابل تجدید ذرائع کے ساتھ تیل اور گیس عالمی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی میں ایک علاقائی رہنما کے طور پر متحدہ عرب امارات نے 70 ممالک میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور آنے والے سالوں میں مزید 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ ہے۔

متحدہ عرب امارات میں دنیا کے تین سب سے بڑے سنگل سائٹ سولر پلانٹس قائم ہیں اور ملک بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (IRENA) کی میزبانی کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات ہائیڈرو کاربن کی صنعت کو ڈیکاربونائز کرنے کی کوششوں کی قیادت کے ساتھ کاربن کے اخراج کو روکنے اور اسے ذخیرہ کرنے میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تلاش کر رہا ہے۔

بلومبرگ ایمرجنگ فرنٹیئر فورم میں ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے خطرے سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ توانائی کے عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم ان توانائیوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے جو آج استعمال کرتے ہیں آنے والے کل کی توانائیاں پیدا کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کامیابی کا مطلب کسی کو پیچھے نہ چھوڑنا اور ترقی اور خوشحالی کو سب کے لیے دستیاب کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395303085899

WAM/Urdu