پیر 05 دسمبر 2022 - 1:54:42 صبح

نائب صدر کی “We The UAE 2031”کے اجراء کی تقریب میں شرکت

  • (05) 22-11-2022 hisham 1 (large)
  • (04) 22-11-2022 hisham 1 (large)
  • (05) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (07) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (11) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (10) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (01) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (15) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (16) 22-11-2022 khalifa 1 (1) (large).jpg
  • (12) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (08) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (06) 22-11-2022 hisham 1 (large)
  • (07) 22-11-2022 hisham 1 (large)
  • (04) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (06) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (02) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (03) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (03) 22-11-2022 hisham 1 (large)
  • (09) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (13) 22-11-2022 khalifa 1 (large)
  • (08) 22-11-2022 hisham 1 (large)
  • inforgraphic - arabic
  • (01) 22-11-2022 hisham 1 (large)
ویڈیو تصویر

دبئی،22 نومبر، 2022 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کےنائب صدر،وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے آئندہ 50 سالوں کے لیے قومی منصوبے اور روڈ میپ “We The UAE 2031” کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی ۔

قومی منصوبہ سماجی، اقتصادی، سرمایہ کاری اور ترقی کے پہلوؤں پر توجہ کے ساتھ اگلے دس سالوں میں ملک کے مستقبل کو تشکیل دینے والا ایک مربوط پروگرام ہے۔ یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کے عالمی پارٹنر اور ایک پرکشش اور بااثر اقتصادی مرکز کے طور پر ملک کی پوزیشن کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔

اس کے علاوہ اس کا مقصد متحدہ عرب امارات کے کامیاب اقتصادی ماڈل اور تمام عالمی شراکت داروں کو فراہم کردہ مواقع کو اجاگر کرنا ہے۔ عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ "We The UAE 2031" ملک کی ترقی کو ایک ایسے زیادہ کامیاب اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جائے گاجس میں تمام ادارے ایک مربوط ماحولیاتی نظام کے اندر تعاون کریں گے۔ شیخ محمد بن راشد نے کہاکہ آج ہم نے اماراتی حکومت کے سالانہ اجلاسوں کے دوران "We The UAE 2031" کا آغاز کیا ہے۔یہ اگلے عشرے کے لیے ہمارے حکومتی وژن کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ ہم اپنے بھائی محمد بن زاید کی قیادت میں نئی کامیابیوں کی طرف ایک قومی راستہ شروع کر رہے ہیں۔

شیخ محمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک اقتصادی منزل کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ معاشی خوشحالی، سماجی بہبود اور انسانی سرمائے کی ترقی اگلے 50 کے اہم ستون ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگلے پچاس سال میں سماجی اور اقتصادی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور دنیا کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنا کر اور اس کے ترقیاتی ماڈل کو مستحکم کرتے ہوئے ایک مضبوط، پائیدار اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ "We The UAE 2031" ایک قومی منصوبے کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعے متحدہ عرب امارات اگلے 10 سالوں تک اپنی ترقی کے راستے کو جاری رکھے گا۔

انہوں نے ان خیالات کااظہارابوظہبی میں منعقدہ متحدہ عرب امارات کےسالانہ حکومتی اجلاسوں کے دوران کیا جس میں متحدہ عرب امارات کے تمام سرکاری اداروں کو وفاقی اور مقامی سطحوں پر اکٹھا کیا گیا تاکہ متحدہ عرب امارات کے صد سالہ 2071 وژن کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ملک کے قومی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق چیلنجوں اور حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

"We The UAE 2031" پروگرام کے اجراء میں دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم،شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم، دبئی کے نائب حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ؛ عجمان کے ولی عہد شیخ عمار بن حمید النعیمی، فجیرہ کے ولی عہد شیخ محمد بن حمد الشرقی؛ شیخ محمد بن سعود بن صقر القاسمی، راس الخیمہ کے ولی عہد اور شیخ سلطان بن احمد بن سلطان القاسمی، شارجہ کے نائب حکمران نے شرکت کی۔

تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ، شیخ منصور بن زاید النہیان، نائب وزیراعظم اور صدارتی عدالت کے وزیر؛ شیخ حامد بن زاید النہیان، ابوظہبی کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن؛ شیخ خالد بن محمد بن زاید، ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور ابوظہبی ایگزیکٹو آفس کے چیئرمین؛ شیخ طیب بن محمد بن زاید النہیان، ابوظہبی کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور شیخہ لطیفہ بنت محمد بن راشد المکتوم، دبئی کلچر اینڈ آرٹس اتھارٹی (دبئی کلچر) کی چیئرپرسن اور متعدد شیوخ، وزراء اور سرکاری محکموں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے قومی منصوبے کے لیے ایک چارٹر پر دستخط کیے جو قومی منصوبے کی اہم ترین خصوصیات، متحدہ عرب امارات کی حکومت کے اصولوں اور مستقبل کے لیے باہمی انحصار اور خواہشات کی نمائندگی کرتا ہے۔

قومی ستون

یہ منصوبہ چار اہم ستونوں پر مبنی ہے جو معیشت، معاشرت، ماحولیاتی نظام اور سفارت کاری سمیت تمام شعبوں اور شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

ترقی پسند معاشرہ

اس ستون کا تعلق معاشرے کی خوشحالی کے حصول سے ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کرکے اور انہیں بااختیار بنانے اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک مربوط نظام تیار کرکے تمام شعبوں میں ان کی موثر شراکت کو بڑھانا ہے۔

یہ ستون خاندانوں کی ہم آہنگی کی حمایت اور مضبوطی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ "فارورڈ سوسائٹی" تعلیم کے شعبے کا احاطہ کرے گی، قومی سطح پر باصلاحیت افراد کو تیار کرنے اور ہنر کو تربیت اور تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے ایک اہم محور کے طور پرکام کرے گا۔

اس منصوبے کا مقصد صحت کے شعبے کی ترقی کو جاری رکھنا اوراس کی خدمات کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں معاشرے کو بہترین صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنا ہے۔

اس ستون کے ذریعےمتحدہ عرب امارات کے قومی منصوبے کا مقصد ملک کو انسانی ترقی کے انڈیکس میں سرفہرست 10 ممالک میں شامل کرنا اور اس کے شہروں کو دنیا کے 10 بہترین شہروں میں شامل کرنا ہے۔

یہ منصوبہ خطے میں علاج معالجے کی بہترین منزل بننے کے لیے متحدہ عرب امارات کی پوزیشن کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مزید برآں یہ منصوبہ تمام طبی سہولیات اور عملے کی مکمل تیاری کے حصول میں معاون ثابت ہو گا اور ملک کا درجہ صحت کے معیار میں دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل کر دے گا۔

ترقی پسند معیشت

یہ ستون ایسی پالیسیاں اور منصوبے بنائے گا اور تیار کرے گا جو تمام شعبوں میں اعلیٰ اقتصادی ترقی کے حصول کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں تبدیلی کی رفتار کو تیز کرنے اور گرین اکانومی میں ملک کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

"فارورڈ اکانومی" کا ستون اگلے 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کے بنیادی محرک کے طور پر انسانی سرمائے کی اہمیت پر متحدہ عرب امارات کے یقین کی عکاسی کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا مقصد عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو راغب کرنے کے لیے دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہونا ہے۔

اس ستون کا مقصد متحدہ عرب امارات کی مجموعی قومی پیداوار کو 3 ٹریلین درہم تک بڑھانا اور ملک کی غیر تیل برآمدات کو 800 ارب درہم تک بڑھانا ہے۔ نیز یہ متحدہ عرب امارات کی غیر ملکی تجارت کی مالیت کو 4 ٹریلین درہم تک بڑھا دے گا اور جی ڈی پی میں سیاحت کے شعبے کا حصہ 450 ارب درہم تک بڑھا دے گا۔

ترقی پسند سفارتکاری

"فارورڈ ڈپلومیسی" قومی منصوبے کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے جو متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی کردار کے فریم ورک کا تعین کرتا ہے۔ یونین کے قیام کے بعد سے متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی اصولوں کے ایک مجموعے پر مبنی ہے جس کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر امن اور مشترکہ تعاون کی بنیادوں کو مستحکم کرنا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد انسانی اقدار کے احترام کی بنیاد پر متحدہ عرب امارات کے اہم کردار اور اثر و رسوخ کو مستحکم کرنا ہے۔

یہ منصوبہ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے خارجہ تعلقات کو مضبوط بنانے، اس کی بین الاقوامی موجودگی، تعاون اور دوستی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مثبت بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی ماحولیاتی ایجنڈے کے لیے ایک معاون قوت کے طور پر متحدہ عرب امارات کے کردار کو مضبوط بنانے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کے ذریعے پائیداری کے حصول ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدت کے مرکز کے طور پر ملک کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ترقی پسند ماحولیاتی نظام

"We The UAE 2031" پلان کے چوتھے ستون کا مقصد حکومت کی کارکردگی کو بڑھانا، دنیا میں بہترین سرکاری خدمات فراہم کرنا اور نتائج کے حصول کے لیے انتہائی لچکدار کاروباری ماڈل تیار کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات بہترین سماجی، خوراک، پانی اور ڈیجیٹل سیکورٹی کے ساتھ دنیا کے سب سے محفوظ ممالک میں سے ایک کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ یہ ستون جدید ترین تکنیکی طریقوں کے مطابق بنیادی ڈھانچے اور اس کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

اس ستون میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے۔ اس ستون کا مقصد نئے اقتصادی شعبوں کے لیے فعال قانون سازی کے لیے متحدہ عرب امارات کو دنیا میں سرفہرست ملک بنانا اور حفاظتی انڈیکس میں ملک کی پوزیشن کو عالمی سطح پر پہلے نمبر پر لانے کے ساتھ ساتھ عالمی سائبر سیکورٹی انڈیکس میں تین ممالک اور عالمی فوڈ سیکورٹی انڈیکس میں سرفہرست 10 ممالک میں سے ایک ملک کی پوزیشن کو سرفہرست بنانا ہے۔

"We The UAE 2031" ایک روڈ میپ ہے جس میں تمام سرکاری ادارے اور نجی شعبے منصوبے کے 10 سالہ فریم ورک کے مطابق ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون کریں گے۔

 

ترجمہ: ریاض خان ۔

Maryam