منگل 29 نومبر 2022 - 5:44:49 صبح

صدر اور نائب صدر کی سالانہ حکومتی اجلاسوں کے اختتامی اجلاس میں شرکت

  • 20221123mhz91_3481 (large)
  • 20221123mhz91_3655 (large)
  • 20221123mh_ha27571 (large)
  • 20221123mhz91_3601 (large)
  • 20221123mhz91_5161 (large)
  • 20221123mhz91_3501 (large)
  • 20221123mhz91_3619 (large)
  • 20221123mhz91_2568 (large)
  • 20221123mh_ha27442 (large)
  • 20221123mhz91_4857 (large)
  • 20221123mhz91_5251 (large)
  • 20221123mhz91_4463 (large)
  • 20221123mhz91_4320 (large)
  • 20221123mhz91_3813 (large)
  • 20221123mhz91_3970 (large)
  • 20221123mhz91_3643 (large)
  • 20221123mh_z918704 (large)
  • 20221123mh_z918574 (large)
  • 20221123mh_ha27634 (large)
  • 20221123mh_z918383 (large)
  • 20221123mh_z918568 (large)
ویڈیو تصویر

ابوظبی،23 نومبر، 2022 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے صدرعزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے حکومت کے سالانہ اجلاسوں کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی۔

یہ اجلاس 22 سے 23 نومبر تک ابوظہبی میں ہوئے اور ان میں مختلف وزارتوں، ایگزیکٹو کونسلوں اور مختلف وفاقی اور مقامی اداروں نے موجودہ چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے اور متحدہ عرب امارات کے مستقبل کے لیے ایک وژن تیار کرنے پر غور کیا۔

دوسرے دن کے اجلاسوں میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے ویژن اور ہدایات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے جامع ترقیاتی عمل سے متعلق اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجیحی شعبوں میں تعلیم، ایمریٹائزیشن، قومی معیشت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائبرسیکورٹی سمیت دیگر ایسےمسائل جو متحدہ عرب امارات میں ترقی کے مستقبل پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں جن میں بہبود کو فروغ دینا، تمام شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی مسابقت اور مستقبل کے لیے اس کی تیاری کو بڑھانا شامل ہیں ۔

تعلیم میں مستقبل کی سمت اختتامی سیشن کے دوران خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر، چیئرمین ایجوکیشن اینڈ ہیومن ریسورسز کونسل (EHRC) شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے تعلیم کے شعبے میں مستقبل کی سمتوں کا جائزہ لیا۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی اسٹریٹجک ہدایات کا مقصد متحدہ عرب امارات کے مستقبل اور مختلف شعبوں میں مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے ایک ایسی نسل تیار کرنا ہے جو قومی معیشت کو سہارا دینے اور ریاست کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے باشعور اور جدید علم اور ہنر کے ساتھ بااختیار ہو۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے کی خصوصیت تعلیم کے شعبے میں تعاون اور انضمام سے ہے جس کا مقصد اس ضروری شعبے کے لیے ملک کے مستقبل کے وژن کو پورا کرنا ہے جو انسانی ترقی کی مہم کی بنیاد کا کام کرتا ہے۔ شیخ عبداللہ نے کہاکہ اس مرحلے پر ہمارا مقصد تعلیمی نظام کو اپنی ضروریات کے مطابق بنانا ہے۔

شیخ عبداللہ نے کہا کہ ہم نے وزارت تعلیم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس شعبے کی قانون سازی اور ریگولیٹری ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرے اور تعلیمی نصاب اور اعلیٰ تعلیم کے نتائج کو مضبوط کرے۔ اس کے علاوہ ہم نے ایمریٹس فاؤنڈیشن فار اسکول ایجوکیشن کو سرکاری اسکولوں اور طلباء اور اساتذہ دونوں کے لیے سیکھنے کے ماحول کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ شیخ عبداللہ نے معاشرے کے تمام طبقات بشمول اساتذہ، اسکول کے منتظمین، والدین، بچے، نوجوان اور سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین پر زور دیا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں تعلیم کے مستقبل کی تشکیل کے لیے مل کر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کو ایک سرکاری اسکول میں داخل کر کے ایک عملی تجربہ شروع کیا ہے اور میں ان کی پیشرفت پر نظر رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم میں جس چیز کی اجازت نہیں دوں گا اس کی اجازت متحدہ عرب امارات کے شہریوں کے لیے بھی نہیں ہوگی۔ تعلیم سے متعلق سیشن میں EHRC کے ممبران نے شرکت کی جن میں وزیر تعلیم ڈاکٹر احمد بلہول الفلاسی، وزیر مملکت برائے پبلک ایجوکیشن اینڈ ایڈوانس ٹیکنالوجی سارہ بنت یوسف العمیری، امور نوجوانان کی وزیر مملکت شمع بنت سہیل بن فارس المزروئی اور ابتدائی تعلیم کی وزیر مملکت سارہ عواد عیسیٰ مسلم نے شرکت کی۔ سیشن کے شرکاء نے تعلیم کے شعبے کے لیے مستقبل کی اہم سمتوں اور اسے درپیش ممکنہ چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔

جامع اقتصادی شراکت داری وزیر اقتصادیات عبداللہ بن طوق المری اور وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے متحدہ عرب امارات کی جامع اقتصادی شراکت داری کی اہمیت اور قومی معیشت میں اس کی کارکردگی اور طاقت کو بڑھانے میں ان کے اہم کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اگلے مرحلے میں ریاست کی مستقبل کی سمتوں اور اقتصادی منصوبوں کے اہم ستونوں، دنیا بھر کے متعدد ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی معاہدوں کے بنیادی مقاصد اور متحدہ عرب امارات کے جامع ترقیاتی مارچ پر ان کے اثرات پر بھی بات کی۔ ایمریٹائزیشن... نئی پالیسیاں اور طریقہ کار وزیر برائے انسانی وسائل ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالمنان الاوار اور اماراتی ٹیلنٹ مسابقتی کونسل کے سیکرٹری جنرل غنم بٹی المزروئی نے اماراتی حکومت کی تازہ ترین پالیسیوں، طریقہ کار اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے حاصل کیے گئے قومی اہداف پر روشنی ڈالی اور اس اہم شعبے کی اہمیت پر زور دیا جسے قیادت کی طرف سے اعلیٰ ترجیح دی جاتی ہے اور یہ متحدہ عرب امارات کے ترقیاتی مارچ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکانومی اور ریموٹ ورک ایپلی کیشنز عمر بن سلطان العلماء نے متحدہ عرب امارات کی کوششوں اور ایک اہم ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے اس کے وژن پر روشنی ڈالی جو جدید ترین جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ غیر معمولی مہارتوں کو یکجا کرتی ہے۔ سیشن میں معاشی تنوع کو بڑھانے اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مبنی خوشحال معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ملک کے وژن کی اہمیت پر بات کی گئی۔ حکومتی کام اور سائبر سیکورٹی چیلنج متحدہ عرب امارات کی حکومت میں سائبر سیکورٹی کے سربراہ عزت مآب ڈاکٹر محمد حماد الکویتی نے سرکاری کام میں سائبر سیکورٹی کو برقرار رکھنے کی اہمیت، سائبر سیکورٹی کے حصول کے سب سے نمایاں عناصر، سائبر سیکورٹی سسٹم کی اہمیت اور "We The UAE 2031" کے اہداف میں سے ایک متحدہ عرب امارات کو سائبر سیکورٹی انڈیکس میں دنیا کے سرفہرست تین ممالک میں سے ایک بنانے پر روشنی ڈالی۔

یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد کے روزگار کو تیز کرنا متحدہ عرب امارات کےسالانہ حکومتی اجلاسوں کے دوران پانچ مختلف سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں سے ایک میں یونیورسٹی اور کالج گریجویٹس کے اماراتی لیبر مارکیٹ میں تیزی سے انضمام کو یقینی بنانے کے لیے معاون طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نئے اقتصادی شعبوں میں اماراتی افرادی قوت میں اضافہ وزیر اقتصادیات عبد اللہ بن طوق المری نے نئے اقتصادی شعبوں میں اماراتی اور قومی کمپنیوں کی تعداد بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی کمپنیاں لچکدار اور متنوع نقطہ نظر پر مبنی اقتصادی ترقی کا ایک بڑا محرک ہیں جو اماراتیوں اور نوجوانوں کو نئے منصوبوں کی ترقی میں اپنی شرکت بڑھانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

قانونی شعبے اور قومی مشاورت میں اماراتیوں کے لیے ملازمت کے مواقع سیشن میں قانونی شعبے اور قومی مشاورت میں قانونی پیشے کے ضوابط سے متعلق وفاقی قانون کے مقاصد کے مطابق اماراتیوں کے لیے کیریئر کے مواقع کی حمایت کرنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

ایمریٹائزیشن کی ضروریات کو پورا کرنا متحدہ عرب امارات کی حکومت کےسالانہ اجلاسوں میں ایک سیشن پیش کیا گیا جو اماراتی ضروریات کو پورا کرنے والی نجی کمپنیوں کو حکومتی معاہدوں میں دی جانے والی ترجیح پر بحث کے لیے وقف تھا۔ سیشن میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہترین طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ حکومتی ٹھیکے ان کمپنیوں کو دیے جائیں جو اماراتی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے سالانہ اجلاس موجودہ چیلنجوں، حکمت عملیوں اور اقدامات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وفاقی اور مقامی سطح پر تمام سرکاری اداروں کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم تشکیل دیتے ہیں جو ملک کو صد سالہ 2071 کے منصوبے کے حصول کی راہ پر گامزن کریں گے۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

https://wam.ae/en/details/1395303105100

Maryam