پیر 28 ستمبر 2020 - 11:08:47 شام

عالمی مسابقتی رپورٹ 2019: عرب امارات عرب دنیا میں پہلے اور دنیا بھر میں پچیسویں نمبرہے


دبئی ، 8 اکتوبر ، 2019 ( وام ) ۔۔ عالمی اقتصادی فورم ڈیووس کی بدھ کو جاری کی جانے والی عالمی مسابقتی رپورٹ دوہزار انیس کے مطابق متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں پہلے اور دنیا بھر میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ ایک سو اکتالیس ممالک کی معاشیات کے مسابقتی منظر نامے کو ظاہر کرنے والی رپورٹ کے مطابق عرب امارات گزشتہ کے مقابلے میں دو درجے اوپر آیا ہے۔ اس کامیابی کے حوالے سے ، کابینہ امور اور مستقبل کے وزیر اور وفاقی مسابقتی واعدادوشمار اتھارٹی ، ایف سی ایس اے کے چیئرمین محمد بن عبد اللہ القرقاوی نے کہا: '' ہم صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید ،نائب صدر،وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے کے متعین کردہ نقطہ نظر پر عمل پیرا ہیں ۔ '' انہوں نے مزید کہا کہ اس اپروچ کو جدت ، ہم آہنگ قانون سازی اور طریقہ کار کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی مسابقت کے معیارات کو حاصل کرتے ہوئے مسابقتی اشاریوںمیں ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے حاصل کیا جائے گا۔ ایف سی ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل ، عبد اللہ لوتاہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت معیشت ، صحت ، تعلیم اور جدید علوم سمیت اہم شعبوں میں کارکردگی میں مسلسل بہتری کو اولین ترجیح دیتی ہے جس کے ذریعے ہماری قومی معیشت اعلی درجے کی عالمی معیشتوں کے ہم پلہ ہوگئی ہے۔ وزیر اقتصادیات سلطان بن سعید المنصوری نے عالمی مسابقتی رپورٹ دوہزار انیس میں متحدہ عرب امارات کی ترقی یافتہ درجہ بندی کو '' ایک اہم سنگ میل '' قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ قیادت نے ایک ایسا معاشی ڈھانچہ اختیار کیا ہے جس کی صلاحیت علاقائی اور عالمی سطح پر مسلمہ ہے۔" میکرو معاشی استحکام میں عرب امارات کی برتری ، آج عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے ، اور معاشی ترقی کے جدید ترین رجحانات کے لئے قومی معیشت کی متحرک طاقت کا ایک اور ثبوت ہے۔ "

ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ امارات کے شراکت دار ممالک ، سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے لئے مضبوط پیغام ہے کہ متحدہ عرب امارات کی معیشت اور اس کے سرمایہ کاری کا ماحول '' محفوظ '' ہے۔ انیس سو اناسی سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں پیداواری اور طویل مدتی معاشی نمو کے اشاریوں کا سالانہ جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ عالمی مسابقتی انڈیکس ، جی سی آئی پر مبنی ہے ، جو ایک سو اکیس شعبوں میں معاشی،اقتصادی سماجی ترقی وخدمات کے ایک سو تین اشاریوں کے ذریعے ایک سواکتالیس ممالک کی معیشتوں کے مسابقتی منظرنامے کاتعین کرتا ہے۔

عرب امارات نے رواں سال کی رپورٹ کے مطابق باون اشاریوں میں نمایاں بہتری دکھائی ہے اور ایک سو تین اشاریوں میں سے ستائیس میں اپنی کارکردگی کو برقرار رکھا۔ متحدہ عرب امارات کو انیس معاشی اشاریوں میں دنیا کے پہلے پانچ ممالک جبکہ ستاون اشاریوں میں عالمی سطح پر پہلے بیس ممالک میں شامل کیا گیا ہے ۔ عرب امارات میکرو اقتصادی استحکام میں دنیا بھر میں پہلے ، آئی سی ٹی کو اختیار کرنے میں دوسرے اور پیداواری مارکیٹ میں چوتھا نمبر پر ہے۔متحدہ عرب امارات نے بارہ میں سے آٹھ اہم شعبوں میں ترقی کی ہے جن میں انفراسٹرکچر، آئی سی ٹی، تعلیم،ہنر،مصنوعات کی مارکیٹ،لیبر مارکیٹ، کاروباری اور اختراعات کی صلاحیت شامل ہیں۔ خدمات اور اقتصادی ترقی کے ذیلی اشاریوں میں عرب امارات نے بائیس میں سے سترہ میں پیشر فت کی: عوامی شعبے کی کارکردگی (چوتھا) ملکی سطح پر مسابقت (چھٹا) ، سیکیورٹی (ساتواں) ، کھلی تجارت (ساتواں) ، کاروباری حجم (آٹھویں) ، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ (آٹھویں) اورمستقبل کے لئے حکومتی ترجیح کے شعبے میں(نویں) پوزیشن حاصل کی۔ آبادی کے تناسب سے بجلی تک رسائی ، موبائل براڈ بینڈ کی خریداری اور اندرون ملک لیبرنقل و حرکت میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے۔ تبدیل ہوتی صورتحال سے نمٹنے میں تیسرا اور چیلینجنگ ریگولیشنزمیں قانونی فریم ورک کی کارکردگی میں چوتھا ، حکومتی ضابطے، ڈیجیٹل بزنس ماڈلز کے لئے قانونی فریم ورک ،حکومت کی ترجیحات کے تعین ، فائبر انٹرنیٹ کے استعمال ، تنخواہ اور پیداوری صلاحیت، انٹرنیٹ صارفین ، جدید کمپنیوں کی نمو اور مسابقت پر ٹیکسوں اور سبسڈیز کے منفی اثرات میں پانچویں نمبر پر ہے۔ تنازعات کوحل کرنے کے قانونی ڈھانچے کی استعداد ، روڈ انفراسٹرکچر ، کاروباری خدشات کے حوالے سے رویوں اور ہوائی نقل و حمل کی خدمات کی استعداد میں چھٹا اورکاروبار پر منظم جرائم کے اثرات میں ساتویں پوزیشن ہے۔ 2019 کی عالمی مسابقتی رپورٹ کے مطابق سنگا پور امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر مسابقتی انڈیکس میں پہلی پوزیشن پر آگیاہے۔

ترجمہ۔تنویر ملک

http://www.wam.ae/en/details/1395302793291

WAM/Urdu