خلیج میں برطانوی باشندوں کو ہنگامی سفری دستاویز کا اجراء دو سال میں کم ہوگیا ، برطانوی عہدیدار


بنسال عبدالقادر سے

ابوظہبی ، 4 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ خلیج عرب میں مقیم برطانوی شہریوں کو ہنگامی سفری دستاویز کی فراہمی کی تعداد گزشتہ دو برس میں واضح طور پر کم ہوئی ہے ۔ برطانوی سفارتخانے ایسے دستاویز عموما ان اپنے شہریوں کو جاری کرتے ہیں جو اپنے پاسپورٹ کی تاریخ تجدید بروقت معلوم نہیں کرپاتے یا انکی تجدید میں کسی وجہ سے ناکام رہتے ہیں – ایسی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کیلئے برطانوی سفارتی دفاتر نے اپنے باشندوں کیلئے شعور اجاگر کرنے کی خصوصی مہم بھی چلائی ہیں ۔ متحدہ عرب امارات جوکہ برطانوی شہریوں کیلئے خلیج عرب کے ممالک میں قیام کا بڑا ملک ہے ، وہاں بھی ایسے سفری دستاویز کے اجراء میں واضح کمی ہوئی ہے – ان خیالات کا اظہار برطانوی وزارت خارجہ میں قونصلر امور کی ڈائریکٹر جولیا لانگ باٹم نے امارات نیوز ایجنسی " وام" کو ای میل انٹرویو میں کیا ۔ انہوں نے بتایاکہ عرب امارات میں 1 لاکھ دو ہزار برطانوی مقیم ہیں جبکہ تفریحی و تعطیلاتی سیاحت کیلئے یہ مزید 15 لاکھ برطانوی باشندوں کا انتخاب ہوتا ہے – انہوں نے بتایا کہ 2016 سے 2018 تک اس خطے میں ایسے ہنگامی سفری دستاویز کے اجراء میں 37ء12 فیصد کمی ہوئی جبکہ اسی عرصے میں عرب امارات میں اس کی کمی 9ء28 فیصد رہی ۔ 2018 میں خلیج عرب میں برطانوی شہریوں کو ایسے 333 دستاویز جاری ہوئے جبکہ عرب امارات میں انکے اجراء کی تعداد 187 رہی ۔ اس کے مقابلے میں 2016 میں خلیج عرب میں ایسے 380 دستاویز جاری ہوئے جبکہ عرب امارات میں انکی تعداد 263 تھی – انہوں نے کہاکہ تجدید کی تاریخ کو بھول جانے والوں کے ساتھ پاسپورٹ کے چوری یا گم ہونے کے واقعات کی وجہ سے بھی ایسے دستاویز کا اجراء کرنا پڑتا ہے ۔ اس تناظر میں برطانیہ کا یہ کھلا عزم ہے کہ ایسے واقعات کو روکنا چاہیئے جن سے بچا جاسکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ برطانوی باشندوں کو ایسے مسائل سے اجاگر کرنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جاتی رہتی ہیں – بریگزٹ کے بعد یورپی ممالک میں برطانوی باشندوں کے سفر سے متعلق مستقبل کے امور کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یورپیئن یونین نے اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ برطانوی باشندوں کو یورپی ممالک میں بغیر ویزا آمد و رفت کی سہولت برقرار رہے گی ۔ یورپی سفری نظام کے تحت غیر یورپی لیکن اہل ممالک کے باشندوں کو بغیر ویزا آمد پر صرف ایک فارم پر کرکے معمولی فیس کے ساتھ تین سال تک قابل عمل سفر کی سہولت میسر ہوتی ہے – انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں برطانوی اور یورپی باشندوں کیلئے ایک دوسرے کے ملک میں سفر کی سہولیات برقرار رکھنے کی خاطر انتظامات کیئے جارہے ہیں تاہم اس میں آئرش باشندے شامل نہیں ہونگے ، یہ سہولت الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن کہلاتی ہے –

ترجمہ ۔ تنویر ملک –

http://wam.ae/en/details/1395302799912

WAM/Urdu