محمد بن سلمان کا یمن میں عرب امارات کی قربانیوں کیلئے اظہار ستائش


ریاض ، 5 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ سعودی عرب کے ولی عہد ، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے یمن کی تمام تر حدود میں سعودی عرب کی فورسز اور دیگر عرب اتحادی فوجیوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی طرف سے دی جانی والی عظیم قربانیوں پر ابوظہبی کے ولی عہد اور عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النھیان کیلئے اظہار ستائش کیا ہے – یمن کی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان ہونے والے ریاض معاہدے کے موقع پر تقریر میں سعودی ولی عہد نے فریقین کی آمد کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ یمن کے ساتھ ایسے اتحاد اور تعاون کا اقدام بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے چلا آرہا ہے جس کا مقصد یمن میں استحکام اور خوشحالی ہے ، یمن کے عوام نے بھی تمام چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے ہمیشہ سے ہی بھرپور عزم کا اظہار کیا ہے – انہوں نے قریبی مذہبی ، ہمسائیگی اور رشتوں کے بندھن میں بندھے سعودی عرب اور یمن کے درمیان تعلقات کیلئے سعودی عرب کی جانب سے معاون کردار کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ اسی تعاون اور ساتھ دینے کی پالیسی کے تحت خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے تمام یمنی بھائیوں کے درمیان دوریاں ختم کرانے کی ہدایت کی ہے – انہوں نے یمن کے صدر عبدربہ منصور اور جنوبی عبوری کونسل کی طرف سے سعودی عرب کے کہنے پر مذاکرات کرنے کے مثبت ردعمل کو سراہا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ریاض معاہدہ ، یمن میں استحکام اور ترقی کا نیا دور لانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا – انہوں نے یمنی عوام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا ، بحران کے کسی بھی وقت میں یمن کی جائز حکومت نے مدد اور تعاون کیلئے جب بھی پکارا تب ہی سعودی عرب اس کے ساتھ کھڑا ہوا ۔ سعودی عرب کا یہ واضح اور اصولی موقف رہا ہےکہ تمام بیرونی عوام کیخلاف اپنے دفاع کا حق ہوتا ہے ۔ یمن کے ہمسائیوں اور علاقائی آبی گزرگاہوں کو لاحق خطرات کی برائیوں کو آنے نہیں دیا جاسکتا ، سب نے یمن اور خطے کیلئے بہت کچھ کیا ہے ، یمن کے عوام کے ساتھ ہمارے قریبی اور جذباتی تعلقات ہیں اور انکی ہمیشہ سے حمایت اور مدد کی جاتی رہی ہے ۔ ہم یمن کے عوام کو سیاسی استحکام ، ریاستی عملداری کی منزل تک پہنچنے میں مدد کرتے رہیں گے – سعودی ولی عہد نے کہاکہ یمن کے بحران کو حل کرنے کے تین راستے ہیں جو ، خلیجی اقدام ، قومی مذاکراے کے نتائج اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 ہیں ۔ جو یمن کے عوام کے دوست نہیں ہیں اور انکی فلاح کیلئے کام نہیں کرتے انہیں ناکامی سے دوچار کرنا ہے ۔ انہوں نے ریاض معاہدے کے تناظر میں کہاکہ یمن میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی ، استحکام اور امن مخالف اقدامات کو ناکام بنانے کیلئے سعودی عرب کا مخلصانہ کردار جاری رہے گا – انہوں نے ریاض معاہدے سے یمن میں وسیع مفاہمت کی راہیں کھلنے کی توقع کا اظہار کیا اور کہاکہ بحران کا سیاسی حل نکالنے کی کوششیں موثر ہونگیں ، یمن کے عوام اور دیگر عرب قوم کے خلاف سرگرم عوامل سے سبھی کو محفوظ رکھا جائے گا – ترجمہ - تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302800373

WAM/Urdu