عرب امارات اور مصر ۔۔ حکومتی کارروائی کیلئے متاثر کن عرب ماڈل


ابوظہبی ، 13 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات اور مصر کے درمیان حکومتی امور جدید بنانے میں سٹریٹجک شراکت داری نے بہترین عالمی معیار کے مطابق حکومتی اقدام کیلئے مشترکا عرب ماڈل کی تشکیل میں دونوں ممالک کی قیادت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے – مصر میں حکومتی کارکردگی بڑھانے اور مصر کے ویژن 2030 کے حصول کی خاطر دونوں ممالک نے اپریل 2018 میں سٹریٹجک شراکت داری کا آغاز کیا کیا تھا ۔ اسکا مقصد چار کلیدی شعبوں میں تعاون کو بڑھانا تھا ، ان میں ایک حکومتی امور کیلئے بہترین عالمی نظام کو اختیار کرکے حکومتی کارکردگی کے معیار کو بلند کرنا ، دوسرا مختلف منصوبوں اور پروگرامز کے ذریعے حکومتی صلاحیت کو بڑھانا ، تیسرا حکومتی امور سے متعلق عالمی سٹارز نظام کو لاگو کرکے حکومتی خدمات کے شعبے کو بہترین بنانا اور چوتھا پہلی بار مصری حکومتی کارکردگی کو تیز کرنے کیلئے نظام کو لاگو کرنا ہے – اس شراکت داری کے تحت مصر کے حکومتی نمائیندوں اور ملازمین کی صلاحیت بڑھانے ، مستقبل کیلئے ایک اچھے انسانی وسائل کو تیار کرنے اور ویژن 2030 کے اہداف کے حصول کی خاطر تربیتی پروگرامز منعقد کرائے جارہے ہیں ۔ مصر کی جانب سے حکومتی ایکسلینس ایوارڈ کو فوری فعال کرنے کی خواہش کے تحت عرب امارات کے ماڈل کو اپنایا گیا ہے – قاہرہ میں جولائی 2018 کو مصری حکومت کی ایکسیلینس کانفرنس میں عرب امارات کی حکومت نے بھی حمایت اور شرکت کی تھی ۔ دونوں کی یہ شراکت داری اپنی نوعیت کی پہلی سٹریٹجک شراکت داری ہے ۔ رواں سال 30 اکتوبر کو مصر کے وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفی مدبولی نے ایسے ایکسلینس ایوارڈ کے پہلے سیشن کی خصوصی تقریب میں انعام جیتنے والوں کو اعزازات عطا کئے تھے ، اس تقریب میں مصر کے صدر نے خصوصی شرکت کی جبکہ عرب امارات کا وزارتی وفد بھی وزیر کابینہ امور محمد بن عبداللہ القرقاوی کی سربراہی میں اس میں شریک ہوا تھا - ترجمہ ۔ تنویر ملک –

http://wam.ae/en/details/1395302802457

WAM/Urdu