عرب امارات کے وزیر کا فیوچر آف ورک کے چیلنجز پر نیویارک میں اظہار خیال

  • أحمد بالهول الفلاسي يناقش تحديات وظائف المستقبل في اجتماعات المنتدى الاقتصادي العالمي بنيويورك
  • أحمد بالهول الفلاسي يناقش تحديات وظائف المستقبل في اجتماعات المنتدى الاقتصادي العالمي بنيويورك

ابوظہبی ، 13 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ اعلی تعلیم اور جدید مہارت کیلئے وزیر مملکت ڈاکٹر احمد حمید بلھول الفلاسی نے نیویارک سٹی میں عالمی اقتصادی فورم کی طرف سے منگل اور بدھ کو ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کی جس کا موضوع " فیوچر آف ورک " تھا – کانفرنس کے موضوع پر جائزے اور اثرات کے حوالے سے ہونے والے اس دو روزہ ایونٹ کا انعقاد ڈبلیو ای ایف کے مرکز برائے نئی معیشت و معاشرہ نے کیا ۔ اس موقع پر فوچر آف ورک کے جائزہ سے اثرات تک کی جانب پیشقدمی کے تناظر میں مستحکم ایکشن پلان مرتب کرنے کیلئے دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے متعلقہ فریقین ، ماہرین اور منتظمین شریک ہوئے – الفلاسی کی اس کانفرنس میں شرکت اس پیشرفت کے چند ماہ بعد ہی ہورہی ہے جس میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ڈبلیو ای ایف کے " مہارت میں فرق خاتمے " کے پروگرام 2020 پر دستخط کیئے تھے ، یہ پروگرام چین کے شہر دلیان میں اس فورم کے جولائی 2019 کو ہونے والے اجلاس میں طے کیا گیا تھا ۔ اس پروگرام کا مقصد عرب امارات اور اس کے خطے میں افرادی قوت کو بہتر ماہر بنانا ، انہیں چوتھے صنعتی انقلات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا شامل ہے – سرکاری و نجی شعبے کی شراکت سے مہارت اور ہنر کو بڑھانے کے موضوع پر اس کانفرنس کے پینل مباحثے سے خطاب میں عرب امارات کے وزیر نے چار بنیادی عوامل کو کامیابی کی کنجی قرار دیا ، ان میں ورک سنٹرک ، موثر گورننس ، فنڈنگ اور ڈٰیٹا شامل ہیں ۔ انہوں نے ورک سنٹرک کیلئے کمیونیکیشن اور تمام پروگراموں کی ڈلیوری کا ناگزیر جزو قرار دیا اور افرادی قوت اور ہنرمندوں کے ساتھ معلومات کے مسلسل تبادلے اور انکی آگہی کو بڑھانے پر زور دیا – انہوں نے مقاصد کے حصول کیلئے فنڈنگ کی اہمیت کو بیان کیا جبکہ چوتھے محرک و عمل کیلئے ڈیٹا اور اسکے مشترکا مفادات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ۔ ڈاکٹر الفلاسی کا کہنا تھا کہ کامیابیوں کے حصول کیلئے مل جل کر کاوشیں کرنے اور مشترکا اقدامات کی بہت اہمیت ہے – انہوں نے اس کانفرنس کے اختتامی مباحثے میں بھی شرکت کی جس کا موضوع " اے روڈ میپ فار ایکشن " تھا ۔ انہوں نے ہنر و مہارت میں فرق کے چیلنج سے نمٹنے کا ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اب جب چوتھا صنعتی انقلاب آرہا ہے تو ایسے ماحول میں ملازمت اور مواقع کی ھیئت تبدیل ہورہی ہے ، ایسے میں نئی افرادی قوت کی تشکیل کیلئے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے – انہوں نے ان تمام تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے متحدہ عرب امارات کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ جدید مہارت اور مصںوعی ذہانت کے فروغ سے متعلق اہم پیشرفت بھی بیان کیں ۔ اس تناظر میں محمد بن زاید یونیورسٹی برائے مصںوعی ذہانت کے قیام کے انقلابی اقدام کو بھی بیان کیا ۔ انہوں نے چوتھے صںعتی انقلاب کیلئے عرب امارات کے سفیر کے تقرر سے متعلق کابینہ کے فیصلے پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے ورک فورس کیلئے ضروری شفٹ ، ملازمین کو زیادہ خودمختاری دینے ، لچک اور احساس ملکیت کی اہمیت کو بیان کیا –

ترجمہ ۔ تنویر ملک –

http://wam.ae/en/details/1395302802454

WAM/Urdu