پیر 28 ستمبر 2020 - 10:48:28 شام

داعش کے حملوں کے بعد سری لنکا میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تجدید ہوئی،سیکرٹری خارجہ

  • sri lanka info-1-03
  •  مع سكرتير وزارة خارجية سريلانكا _2.jpg
ویڈیو تصویر

بنسال عبدالقادر سے ابوظہبی، 17 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ سری لنکا کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں اپریل میں داعش کے حملے جس کے نتیجے میں دو سو پچاس سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے کے بعد ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تجدید ہوئی ہے۔ ابوظہبی کے سرکاری دورہ کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی وام کو خصوصی انٹرویو میں سری لنکا کے سیکرٹری خارجہ روی ناتھ پی آرایا سنہا نے کہا کہ"چرچ نے سب سے پہلے یہ کہا کہ 'ہمارے ساتھ جو ہوا اس کے لئے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔'جس کے بعد بدھ مت کے پیروکاروں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس جیسے کسی واقعے کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لئے ہمیں مسلم برادری کی جانب سے زبردست حمایت حاصل ہوئی۔ "

انہوں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی نے ان واقعات کے بعد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے میں سکیورٹی فورسز کی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ"چار دن کے اندر ہم نے حملوں میں ملوث پورا نیٹ ورک ختم کردیا یہ صرف مسلم برادری کی حمایت کی وجہ سے ممکن ہوا۔"

انہوں نے بتایا کہ سری لنکا کی سیکیورٹی فورسز ، جنھیں دہشت گردی کے خلاف تین دہائیوں کی طویل لڑائی کا تجربہ حاصل ہے، نے بھی ان واقعات کے بعد ملک میں صورتحال کو معمول پر لانے میں مدد کی .

انہوں نے زور دے کرکہا کہ سری لنکا کے مسلمان متحدہ عرب امارات کے مسلمانوں کی طرح اعتدال پسند اسلام کی پیروی کرتے ہیں ۔ دونوں ممالک کے عوام کے مابین مضبوط تعلقات کو دیکھتے ہوئے، متحدہ عرب امارات کی جانب سے اعتدال پسند اسلام کے یقینی طور پر سری لنکا کی مسلم کمیونٹی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق مشرق وسطی میں دس لاکھ سے زیادہ سری لنکن تارکین وطن میں سے عرب امارات میں تقریبا تین لاکھ قیام پزیر ہیں۔انہون نے نے وضاحت کی کہ "ان میں سے تقریبا ایک لاکھ (متحدہ عرب امارات میں) وائٹ کالر ملازمت کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ان کے کیریئر کی یہ ترقی متحدہ عرب امارات کی جانب سے تارکین وطن کارکنوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنے کی پالیسی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ"جب میں نے یہاں کئی سالوں سے مقیم کچھ سری لنکن سے بات کی ، تو انہوں نے عرب امارات کے رہنماؤں کے بارے میں پیار اور محبت کے جذبات کا اظہار کیا جو وہ اپنی سری لنکا کی قیادت سے متعلق رکھتے ہیں۔"

انہوں نے بتایا کہ صرف دوہزار اٹھارہ میں بتیس ہزار آٹھ سو چھتیس سری لنکن ملازمت کے لئے متحدہ عرب امارات پہنچے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایکسپو دوہزار بیس دبئی میں سری لنکا کی شرکت سے تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے دورے کے دوران ایکسپو میں سری لنکا کے مجوزہ مقام کا دورہ کیا۔اور بتایا کہ پویلین کی تعمیر جلد شروع کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا اور متحدہ عرب امارات اگلے سال سفارتی تعلقات کی چالیس ویں سالگرہ منا رہے ہیں ، اس وجہ سے بھی ہمیں دوطرفہ تعاون کے ہرممکن مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302803608

WAM/Urdu