تیسری سہ ماہی میں بنکنگ کا شعبہ مثبت رہا


ابوظبی، 5 دسمبر ، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی جائزے کے مطابق 2019 کی تیسری سہ ماہی کے دوران بینکاری کے شعبے کا مجموعی استحکام مثبت رہا۔ متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے بینکوں میں Capital Adequacy Ratio 17.7 فیصد، Tier 1 Capital16.5 فیصد اور Common Tier 114.7 فیصد رہا جو مرکزی بنک کے طے شدہ ریگولیٹری شرائط سے زیادہ ہیں۔ پورے بینکنگ نظام کے لئے قرضوں سے ڈیپازٹس کا تناسب جون 2019 میں 95.4 فیصد سے تھوڑا سا بڑھ کر ستمبر 2019 کے آخر میں 95.5 فیصد ہو گیا ہے۔ روایتی اور اسلامی بینکوں کے مابین بریک ڈاون کو دیکھیں تو L/D تناسب بالترتیب 96.2 فیصد اور 92.9 فیصد ہے۔ روایتی بینکوں کے لئے پچھلی سہ ماہی سے 0.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اسلامی بینکوں کے لئے 0.3 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔ روایتی بینکوں کے لئے قرض جمع کروانے کا تناسب ستمبر 2019 میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں بڑھ گیا تھا جب یہ 95.5 فیصد تھا۔ اسلامی بینکوں کے لئے L/D بھی ستمبر 2018 میں 92.6 فیصد سے بڑھ کر 2019 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر 93.9 فیصد تک پہنچ گیا۔ دوسری طرف قومی بینکوں میں L/D کا تناسب 95.6 فیصد ہے جو جون 2019 کے مقابلے میں نسبتا مستحکم ہے جب کہ غیر ملکی بینکوں کے لئے تناسب 2019 کی تین سہ ماہیوں میں بڑھ کر 94.5 فیصد ہو گیا ہے جو 2019 کی دوسری میں 91.6 فیصد سے زیادہ ہے۔ دریں اثنا نقد اثاثے کل واجبات کے تناسب کے طور پر 2019 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر 17.6 فیصد پر رہے۔ نقد اثاثوں کی یہ سطح مرکزی بنک کو مطلوبہ کم سے کم 10 فیصدی ریگولیٹری کے بارے میں کافی حد تک بفر بناتی ہے۔ بینکوں میں کل نقد اثاثوں کی سطح 2019 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک 430.6 ارب درہم رہی جو 2019 کی دوسرے سہ ماہی کے اختتام کے مقابلے میں 7.9 ارب درہم زیادہ ہے۔ سالانہ بنیادوں پر بینکوں میں نقد اثاثے 58.4 ارب درہم بڑھ گئے جو 15.7 فیصد کا اضافہ ہے۔ بینکوں کے مابین بریک ڈاون کو دیکھتے ہوئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی اور قومی بینکوں کے لئے 2019 کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی کے دوران ELARs میں اضافہ ہوا جبکہ روایتی اور غیر ملکی بینکوں کے لئے اس میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302808324

WAM/Urdu