آرمینیا اور متحدہ عرب امارات دنیا بھر میں رواداری پھیلا سکتے ہیں: صدر ارمن سرکسیان

ویڈیو تصویر

ابوظبی ، 21 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ آرمینیا کے صدر ارمن سرکسیان نے کہا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین مسیحی ریاست آرمینیا اور مضبوط اقدارکے حامل ملک متحدہ عرب امارات کے مابین بڑھتے ہوئے ڈائیلاگ سے دنیا بھر میں رواداری کے خیال کو پھیلانے میں مدد ملے گی۔ ابو ظبی میں امارات نیوز ایجنسی، وام کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نےکہا کہ ہمیں چھوٹے ملکوں کے درمیان گہری تفہیم، بات چیت اور ربط تلاش کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس مضبوط اقدار ہیں اور ہم دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ ہم سب ہم آہنگی اور دوستی سے رہ سکتے ہیں۔ آرمینیا کے صدر نے متحدہ عرب امارات کی رواداری کو اسلامی تعلیمات پر مبنی قدر کی حیثیت سے فروغ دینے کو سراہا۔ سرکسیان نے کہا کہ انھیں کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کیوں نہیں کرسکتے۔ ہم ایک دوسرے کی ثقافت، طرز عمل، مذہب اور اقدار کا احترام کریں تو ہم نہ صرف ساتھ رہ سکتے ہیں بلکہ مل کر بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آرمینیا دنیا کی قدیم ترین عیسائی ریاست ہے۔ ہمارے چار ہمسایہ ممالک ہیں اور ان میں سے تین [آذربائیجان ، ترکی اور ایران] میں آبادی کی اکثریت اسلامی اقدار پر قائم ہے۔ ان میں سے ایک عیسائی اکثریت کا حامل ملک جارجیا ہے۔ آرمینیا کے صدر نے زور دے کر کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ [ان پڑوسیوں کے ساتھ] مل کر کام نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ ایسے حیرت انگیز نظریات کو فروغ دیتے ہیں جو دوسروں کی قدر اور ان کا احترام کرنا سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے پڑوسی اور دوستوں کے اعتقادات کا احترام کریں۔ رواداری ایک صحیح لفظ ہےلیکن ہمیں رواداری سے بالاتر ہو کر کچھ کرنا ہے جسے انسانی محبت اور خدا پر اعتقاد کہا جاتا ہے۔ آرمینیا کے صدر نے کہا کہ انکی سمجھ میں رواداری برداشت سے کچھ بالاتر چیزہے۔ یہ آپ سے کسی مختلف سے پیار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ آرمینیا اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس بات کی مثال ہیں کہ مختلف ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے اور ہم آہنگی اور دوستی سےرہ سکتے ہیں۔ آرمینیا کے صدر گزشتہ ہفتے ہونے والے ابوظبی ہفتہ استحکام ADSW میں بہت سے دوسرے عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایک نمایاں مہمان کے طور پر شریک تھے۔ اپنی شرکت کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ انھیں نوجوانوں سے ملنا بہت پسند آیا۔ انکا کہنا تھا کہ یہ مستقبل سے ملنے جیسا ہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے ماحولیات کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پائیداری ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جب میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو ثقافت کے استحکام، اخلاقی اقدار، بچوں کو تعلیم دینے کا طریقہ اور صنفی مساوات میرے ذہن میں آجاتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات میں متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو "متاثر کن" قرار دیتے ہوئے انکی تعریف کی۔ متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کے صنفی مساوات انڈیکس 2019 میں عرب دنیا میں پہلے نمبر اور عالمی سطح پر 26 ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ متحدہ عرب امارات کا موازنہ یورپی ممالک سے کریں تو صنفی مساوات میں متحدہ عرب امارات نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ اس سے بہت متاثر ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت میں اعلی عہدوں پر اماراتی خواتین کی زیادہ تعداد کافی متاثر کن ہے۔ آرمینیا میں سائنس اور ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لئے اپنے خواب جیسے منصوبے ATOMکے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں مستقبل تک لے جانے کی ایک مشق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل کے ڈیزائن اور پیش گوئی کرنی ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے میں ایک تفریحی پارک ہوگا جس میں مستقبل کی مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ کل کا میوزیم بھی شامل ہے جس میں یہ دکھایا جائے گا کہ اگلے 50 سال کے دوران دنیا کس طرح ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اسمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کا شہر بھی ہوگا جس میں معروف بین الاقوامی کمپنیاں، تحقیقی مراکز اور یونیورسٹیاں قائم ہوں گی جو اپنی اختراعات کا آغاز کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس منصوبے میں ایک تعلیمی پلیٹ فارم بھی شامل ہوگا جو نوجوانوں کو بتائے گا کہ انھوں نے زندگی میں کہاں جانا ہے اور کہاں مناسب تعلیم حاصل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا مستقبل میں نوجوانوں کو یہاں ملازمت بھی مل سکتی ہے۔ صدر نے آرمینیائیوں اور اور ان کے گرجا گھروں کی میزبانی پر متحدہ عرب امارات کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مزید آرمینیائی متحدہ عرب امارات میں آکر رہیں اور وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے دوستوں کو آرمینیا کے دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ ترجمہ: ریاض خان .

http://wam.ae/en/details/1395302817706

WAM/Urdu