اتوار 09 مئی 2021 - 3:13:33 شام

وام فیچر : امارات کا پہلا ہوٹل جو اپنی 90 سالہ تاریخ بیان کررہا ہے

  • capture 1.png
  • capture 2.png
  • capture 3.png
  • capture 4.png
  • capture 5.png
  • capture 6.png

بنسال عبدالقادر سے ابوظہبی ، 3 مارچ ، 2021 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات بھر میں واقع ہزاروں ہوٹلز رواں برس دبئی ایکسپو 2020 کے مہمانوں اور وفود کو خوش آمدید کہنے کیلئے تیاریاں کررہے ہیں ، اس موقع پر قوم کی یادوں میں بی او اے سی ریسٹ ہاؤس سے انوکھی یادیں وباستہ ہیں جوکہ یہاں کا پہلا ہوٹل تھا جو 1930 میں تعمیر ہوا – پیشہ ورانہ خدمات کی بین الاقوامی سرمایہ کار انتظامی کمپنی کولیرز کے مطابق آج کے معیار میں امارات میں برانڈڈ ہوٹلز کی کمروں کی تعداد اختتام 2021 تک 1 لاکھ 8 ہزار 300 ہوچکی ہوگی ۔ آج عالمی معیار کے اتنے زیادہ ہوٹلز کی عاجزانہ ابتداء 1932 سے 1933 کے دوران شارجہ ایئرفیلڈ میں ہوا تھا – برطانیہ اور ہندوستان کے سفر میں رات بھر کا قیام امارات کی قومی آرکائیوز کی جانب سے شائع کردہ جریدہ لیوا کے مطابق امپیریل ایئرویز جوکہ بعد میں برٹش ایرویز میں ضم ہوگئی تھی اور جس کے نتیجے میں 1939 میں برٹش اوورسیز ایرویز کوآپریشن ، بی او اے سی کا قیام عمل میں تھا نے بنیادی طور پر اس ریسٹ ہاؤس کی تعمیر کی تھی تاکہ ہندوستان کیلئے مغربی خلیجی فضائی روٹ کے سفر میں رات بھر کا قیام کیا جاسکے – جریدہ میں نکولس سٹینلے پرائس (ماہر آثار قدیمہ ) کے شائع مضمون کے مطابق اسکی تعمیر عرصہ کے نو ماہ میں فضائی مسافر یہاں خیموں والے کیمپ میں رات بسر کرتے تھے ۔ چار مربع والے دفاعی قلعہ کا ایک حصہ مہمانوں کیلئے وقف تھا ۔ تب یہ چھ سنگل اور تین ڈبل رومز پر مشتمل رہا تھا اور ان میں کل بارہ مہمان قیام کرسکتے تھے – اس عمارت میں 1935 کو مزید 5 کمرے تعمیر کیئے گئے جوکہ تب میٹرولوجیکل سروس کے ہندوستانی ارکان کیلئے تھے – ٹروسیال سٹیٹ کا واحد ہوٹل شارجہ تب ہمسائیہ امارات کی طرح ٹروسیال سٹیٹ کا حصہ تھا جوکہ اس وقت مختلف شیوخ مملکت پر مشتمل تھا اور جو برطانیہ سے الحاق رکھتے تھے اور یہ سلسلہ متحدہ عرب امارات کے 1971 کو قیام تک جاری رہا تھا – قومی آرکائیو جریدہ کے مطابق بی او اے سی نے 1947 میں اعلان کیا کہ اب اسے شارجہ میں سٹاپ اوور کی ضرورت نہیں رہی اور تب اس کی آخری فلائنگ بوٹ نے شارجہ سے 10 جنوری 1947 کو پرواز بھری تھی ۔ اس فضائی کمپنی کے جانے کے بعد ایک نئی کمپنی انٹرنیشنل ایراڈیو لمیٹڈ نے شارجہ ایئرفیلڈ کو سنبھالا جوکہ خلیج میں فضائی ٹریفک کنٹرول کا اہم مقام بنا ۔ تب یہ ریسٹ ہاؤس 1960 تک ٹروسیال سٹیٹ کا واحد ہوٹل رہا تھا – ٹروسیال سٹیٹ میں 1950 سے 1960 کے دوران آنے والے کئی سیاح اس ریسٹ ہاؤس آتے کیونکہ تب تک شارجہ و دبئی کے نواح میں یہی ایک ایسی قیام گاہ تھی – پہلا ہوٹل جس نے بنک و ہسپتال کی قیام کی راہ ہموار کی یہ ریسٹ ہاؤس دیگر سیاحوں جیسا کہ بحرین میں موجود برطانوی سفارتکاروں کیلئے بھی خدمات فراہم کرتا رہا اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد زیادہ فعال ہوا کیونکہ شارجہ و دبئی کیلئے کاروباری اور تاجر طبقہ کی آمد و رفت بڑھی تھی – جریدہ میں مصنف نے لکھا ہے کہ کاروباری لوگوں کیلئے یہ مغربی معیار کی قیام گاہ تھا جوکہ شارجہ اور دبئی سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا ۔ اس ریسٹ ہاؤس نے برٹش بنک آف دی مڈل ایسٹ اور المکتوم ہسپتال دبئی کے قیام میں بالواسطہ کردار بھی ادا کیا ۔ دبئی میں ان اداروں کے قیام کے دوران ان کا کچھ عملہ اس ایئرفیلڈ پر رہتا اور دبئی و شارجہ آتا جاتا رہتا تھا – دبئی میں قائم برٹش بنک آف دی مڈل ایسٹ کے بانی مارک سٹاٹ اور المکتوم ہسپتال بنانے والے ڈیزمنڈ میکولی طویل عرصۃ تک اس ریسٹ ہاؤس میں مقیم رہتے تھے – شارجہ کے مستقبل کا سرما ریزارٹ بننے سے متعلق ناول نگار کی پیشینگوئی نومبر 1949 کو دو ہفتوں کیلئے اس ریسٹ ہاؤس میں مقیم رہنے والے چند نمایاں مہمانوں کے بارے میں بھی لکھا گیا ہے جن میں ٹروسیال کوسٹ میں پولیٹیکل ریزیڈنٹ اور پولیٹکل ایڈوائزر کرنل موڈی اور محقق ولفرڈ تھیسیگر شامل ہیں ۔ مصنف نے ناول نگار ہیمونڈ انس سے 1954 میں منسوب حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ ریسٹ ہاؤس ایک ایئرپورٹ ٹرانزٹ ہوٹل تھا ، بطور ایک صحرائی ہاسٹل یہ غیرمعمولی طور پر اچھا تھا اور ایک دن آءے گا جب شارجہ امیر سیاحوں کیلئے ایک رنگین سرما کا تفریحی مقام ہوگا – لگ بھگ 1957 میں تیل کا تاجر اور محقق وینڈل فلپس دبئی آیا تو اسے بتایا گیا یہ یہاں قیام کی ایک ہی مناسب جگہ ہے اور وہ یہ ریسٹ ہاؤس ہے – اوائل 1960 تک واحد ایئرکنڈیشنڈ ہوٹل ایک مصری صحافی سالم زبل نے 1960 میں لکھا کہ یہ ٹروسیال کوسٹ کے علاقہ میں واحد ہوٹل ہے جو اچھا کھانا اور سونے کیلئے ایئرکنڈیشنڈ کمرے مہیا کرتا ہے – سٹینلے پرائس نے لکھا تھا کہ 1961 میں دبئی میں ایئرلائنز کا کھلنے والا ہوٹل ایئرکنڈیشنڈ نہیں تھا – شارجہ میں جدید ہوٹلز کی تعمیر کو 1960 کے اواخر تک منتظر رہنا پڑا جب یہاں مزید تین ایسے کھلے ۔ واٹر فرنٹ پر دی سی فیس ، نیو ٹاؤن میں دی شیبا اور کارلٹن جو کہ اب تک چل رہا ہے – نیشنل آرکائیوز کا بنیادی قیام 1968 میں ' ڈاکومنٹس اینڈ ریسرچ بیورو ' کے عنوان سے ہوا تھا جس کا مقصد بالعموم خلیج عرب اور بالخصوص متحدہ عرب امارات کی تاریخ و ثقافت سے متعلق دستاویز اور معلومات کو ترتیب دینا تھا ۔ اسکی معلومات کا بنیادی ذریعہ عرب اور غیرملکی ممالک تھے ۔ نیشنل آرکائیوز اپنی ممتاز حیثیت و مقام کی بدولت دانشوروں کو کئی تصنیفات فراہم کرتا ہے – ترجمہ ۔ تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302914984

WAM/Urdu