اتوار 13 جون 2021 - 6:35:39 صبح

متحدہ عرب امارات اور سعودی جوہری ریگولیٹرزکا نیوکلیئر مہارت وں کا تبادلہ

  • "الاتحادية للرقابة النووية" و"الرقابة النووية والإشعاعية السعودية" يعززان تعاونهما الثنائي
  • "الاتحادية للرقابة النووية" و"الرقابة النووية والإشعاعية السعودية" يعززان تعاونهما الثنائي

ابوظبی، 31مئی، 2021 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن (ایف اے این آر) اور سعودی عرب کے نیوکلیئر اینڈ ریڈیولوجیکل ریگولیٹری کمیشن (این آر آر سی) نے جوہری ریگولیٹری صنعت میں پہلا باہمی تعاون کا اقدام مکمل کرلیا ہے ۔ تعاون کا اقدام دونوں ممالک کے مابین جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے بارے میں 2019 میں طے پانے والے معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ ان دونوں ریگولیٹری باڈیز کے مابین ایک ماہ تک ورکشاپس کے ایک سلسلے کا انعقاد کیا گیا جہاں اطلاعات کے تبادلے اور معلومات کی منتقلی کے لئے دس ورکنگ گروپس کا قیام عمل میں لایا گیا اور ان میں ایٹمی تحفظ اور حفاظت جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ دونوں ریگولیٹری اداروں کے ارکان نے ورکشاپس کے دوران متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جن میں جوہری ریگولیٹری فریم ورک کی ترقی اور جوہری عدم پھیلاؤ پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند عائد کرنا شامل ہے۔ ایف اے این آر کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹر ویکٹرسن نے کہا کہ ہمیں باہمی تعاون کے معاہدے کے بعد اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ یہ تعاون شروع کرنے پر خوشی ہے۔ انھوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات ایک پرامن جوہری توانائی پروگرام کی ترقی کا عالمی رول ماڈل ہے اور جوہری اور ریڈیولاجیکل شعبوں کی نگرانی کے لئے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح کے اقدامات ہمیں اپنے سعودی شراکت داروں سےمتعلقہ تجربات سے سیکھتے ہوئے کئی سالوں سے حاصل شدہ علم کی منتقلی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ نیوٹرلر اینڈ ریڈیولوجیکل ریگولٹری کمیشن سعودی عرب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر خالد اے عیسیٰ نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے جاری مذاکرات ریاستوں خصوصاََ پڑوسی ممالک کے مابین بین الاقوامی جوہری ریگولیٹری تعاون کی ایک عمدہ مثال ثابت ہوں گے۔ انھوں نےکہا کہ 1960 کی دہائی سے مختلف درخواستوں پر ریگولیٹری سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ سعودی عرب میں میڈیکل اور کان کنی سے متعلق سرگرمیوں بنیادی طور پر تیل اور گیسکے شعبے میں کھدائی کے دوران استعمال کی جانے والی جوہری ٹیکنالوجیز پر ان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ لو پاور ایٹمی ریسرچ ری ایکٹر (ایل پی آر آر) کی تعمیر اور بجلی پیدا کرنے کے لئے ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کی وجہ سے سعودی عرب میں جوہری سرگرمیاں حالیہ برسوں میں زیادہ حقیقت پسندانہ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جوہری سرگرمیاں متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں این آر آر سی کے باقاعدہ کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ورکشاپ سے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک پر محیط دونوں اداروں کے مابین جوہری ریگولیٹری تعاون کو تقویت دینے کے لئے متعدد سفارشات تیار کی گئیں جن میں ریگولیٹرز کو شامل کرنے والے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ورکنگ گروپ کی تشکیل، صلاحیتوں میں اضافے کے بارے میں متعدد ورکشاپس کا انعقاد، ایف اے این آر کے دوروں کا اہتمام کرنا اور ایمرجنسی آپریشن سنٹر کا قیام شامل ہیں۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302939299

WAM/Urdu