اتوار 13 جون 2021 - 6:00:02 صبح

کرونا کے باعث چائلڈ لیبر میں دو دہائیوں کے دوران پہلی مرتبہ اضافہ ہوا ہے:اقوام متحدہ


جنیوا، 10 جون، 2021 (وام) ۔۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور یونیسیف کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق COVID-19 کے اثرات کی وجہ سے دنیا بھر میں چائلڈ لیبرکی تعداد 160 ملین ہوگئی ہے جو گذشتہ چار سالوں میں 8.4 ملین اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ 14 جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن سے قبل جاری کی جانے والی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران پہلی بار چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششوں میں پیشرفت تعطل کا شکار ہوئی ہے۔ 2000 سے 2016 کے درمیان چائلڈ لیبر میں 94 ملین کمی واقع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں چائلڈ لیبر میں 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے جو اب کل عالمی تعداد میں نصف سے زیادہ ہیں۔ خطرناک کام میں 5 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کی 2016 کے بعد سے تعداد 6.5 ملین سے بڑھ کر 79 ملین ہوگئی ہے۔ زراعت کے شعبے میں چائلڈ لیبرکی تعداد 70 فیصد(112 ملین)، خدمات میں 20 فیصد (31.4 ملین) اور صنعت میں 10 فیصد (16.5 ملین) ہے۔ 5 سے 11 سال کی عمر کے تقریبا 28 فیصد اور 12 سے 14 سال کی عمر کے 35 فیصد بچے چائلڈ لیبر کے باعث اسکول سے باہر ہیں۔ ہر عمر کے بچوں میں لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں چائلڈ لیبر زیادہ ہوتی ہے۔ جب گھر میں ہونے والے کاموں کو ہر ہفتے 21 گھنٹوں یا اس سے زیادہ انجام دیا جاتا ہے تو بچوں میں مزدوری کے تناسب میں اضافہ ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر(14 فیصد) کا پھیلاؤ شہری علاقوں (5 فیصد) کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے رائڈر نے کہا کہ نئے اعدادوشمار انتباہ ہیں اور ایسی صورتحال میں ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے جب کہ بچوں کی ایک نئی نسل کو خطرہ لاحق ہے۔ انھوں نے کہا کہ جامع سماجی تحفظ سے خاندانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنے اور اپنے بچوں کو اسکول میں رکھنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ دیہی ترقی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور زراعت میں اچھے کاموں کا انعقاد ضروری ہے۔ ہم ایک اہم لمحے پر ہیں اور اس پر زیادہ انحصار ہوتا ہے کہ ہم کس طرح کی رائے دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ غربت کے خاتمے اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے تجدید عہد کا وقت ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر وبائی بیماری کے نتیجے میں 2022 کے آخر تک نو ملین اضافی بچے چائلڈ لیبر میں جاسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان کو معاشرتی تحفظ کے اہم کوریج تک رسائی حاصل نہ ہوئی تو یہ تعداد 46 ملین تک جا سکتی ہے۔ COVID-19 کی وجہ سے اضافی معاشی جھٹکے اور اسکول بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے ہی چائلد لیبر کا شکار مزید زیادہ گھنٹے یا بدتر حالات میں کام کر سکتے ہیں جبکہ بہت سے دیگر کمزور خاندانوں میں ملازمت اور آمدنی کے نقصان کی وجہ سے چائلڈ لیبر کی بدترین شکلیں سامنے آسکتی ہیں۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا کہ ہم چائلڈ لیبر کے خلاف جنگ ہار رہے ہیں اور گزشتہ سال نے اس لڑائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اب عالمی سطح پر لاک ڈاؤن، اسکولوں کی بندشوں، معاشی رکاوٹوں اور کم ہوتے ہوئے قومی بجٹ کے دوسرے سال کے اختتام پر غربی خاندان اپنے بچوں کو چائلڈ لیبر کیلئے بھیجنے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم حکومتوں اور بین الاقوامی ترقیاتی بینکوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے پروگراموں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں جو بچوں کو چائلڈ لیبر سے باہر نکال سکیں۔ انھوں نے کہا کہ معاشرتی تحفظ کے پروگراموں سے خاندانوں کو اس مشکل انتخاب سے بچنے میں مدد ملک سکتی ہے۔ چائلڈ لیبر میں اضافے کی روک تھام کے لئے آئی ایل او اور یونیسیف نے بچوں کے لئے یونیورسل فوائد سمیت سب کے لئے مناسب معاشرتی تحفظ، مفت اور اچھی معیار سکولنگ اور تمام بچوں کو اسکول میں واپس لانے پر اخراجات میں اضافے،ڑوں کے لئے مہذب کام کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ خاندانوں کو آمدنی پیدا کرنے میں مدد کرنے والے بچوں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ انھوں نے چائلڈ لیبر پر اثر انداز ہونے والے صنفی اصولوں اور امتیازی سلوک کےخاتمے، بچوں کے تحفظ کے نظام، زرعی ترقی، دیہی عوامی خدمات، بنیادی ڈھانچے اور معاش معاش میں سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے۔ ترجمہ:ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302942420

WAM/Urdu