ہفتہ 31 جولائی 2021 - 12:25:00 شام

شارجہ میں کمرشل کمپنیوں کےقانون پرسرمایہ کاروں، کاروباری افراد کیلئے بزنس سیمینارکا انعقاد


شارجہ، 17جولائی، 2021 (وام) ۔۔ شارجہ ایف ڈی آئی آفس (شارجہ میں سرمایہ کاری) اور شارجہ اکنامک ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ایس ای ڈی ڈی) نے حال میں متحدہ عرب امارات کے کمرشل کمپنیوں کےقانون (سی سی ایل) کے بارے میں شارجہ میں سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور کاروباری اداروں کو معلومات فراہم کرنے کیلئے بزنس سیمینار کا انعقاد کیا۔ پیشہ ورانہ خدمات کی کمپنی کے پی ایم جی کی شراکت میں "شارجہ میں نیو متحدہ عرب امارات کی کمرشل کمپنیوں کا قانون اور بزنس سیٹ اپ" کے عنوان سے سیمینار House of Wisdom میں منعقد ہوا۔ اس کا مقصد کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو کاروبار کے بارے میں بصیرت فراہم کرنا تھا ۔ اس پروگرام میں معروف کاروباری شخصیات اور مقررین نے شرکت کی جن میں شارجہ میں سرمایہ کاری کے سی ای او محمد المشرخ، ایس ای ڈی ڈی میں کاروباری امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد سیف بن سعید السویدی اور کے پی ایم جی میں تجارت اور کسٹم مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر پاسکل کینج شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات نے جون 2021 میں لاگو ہونے والے قانون میں متعدد نمایاں تبدیلیاں کیں جن سے نہ صرف آن شور کمپنیوں کی غیر ملکی ملکیت بلکہ متحدہ عرب امارات کے کارپوریٹس کے لین دین کے معاملات بھی متاثر ہوئے۔ اس نظرثانی شدہ قانون کے تحت جو زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ضرورت پر توجہ دیتا ہے۔آن شور شروع کیے گئے نئے کاروباروں میں مقامی کارروائیوں کی 100 فیصد ملکیت ہوسکتی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شارجہ میں سرمایہ کاری کے سی ای او محمد المشرخ نے کہا کہ ان ترامیم سے ملک کے مسابقتی فائدہ کو فروغ دینے اور غیرملکی سرمایہ کو متحدہ عرب امارات کی طرف راغب کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کی تشکیل، کورونا وائرس وباء کے دوران صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں متحدہ عرب امارات کااہم کردار اور اس کے بعد تجارت اور سفر کی بحالی سے 2022 تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں زبردست اضافہ کا باعث بنے گی۔ جدید قانون سے شارجہ میں مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کو حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق ایک سوال پر ایس ای ڈی ڈی میں کاروباری امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد سیف بن سعید السویدی نے کہا کہ شارجہ میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں مصروف کمپنیوں کے لئے 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار صنعتی اور تجارتی شعبوں کے تحت آنے والی 1,289 کاروباری سرگرمیوں میں مکمل ملکیتی کمپنیاں تشکیل دے سکتے ہیں۔ وفاقی رہنما خطوط کے تحت سلامتی اور دفاع، بینکاری، ایکسچینج ہاؤسز اور مالیات سے متعلق سرگرمیوں، ٹیلی مواصلات اور ماہی گیری سمیت سات اسٹریٹجک اثرات کی سرگرمیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ کے پی ایم جی میں تجارت اور کسٹم مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر پاسکل کینج نے کہا کہ نئے سی سی ایل سے متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں داخل ہونے والی بین الاقوامی کمپنیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302953582

WAM/Urdu