جمعرات 27 جنوری 2022 - 10:18:38 شام

ابوظبی ورلڈپروفیشنل جیو جتسوچیمپئن شپ جاری، متحدہ عرب امارات کے عمر الفضلی نے طلائی تمغہ جیت لیا


ابوظبی، 18 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ تیرھویں ابوظبی ورلڈ پروفیشنل جیو جتسوچیمپئن شپ (ADWPJJC) ابوظبی کے زاید اسپورٹس سٹی کے جیو جیتسو ایرینا میں چوتھے دن بھی بھرپور انداز میں جاری رہی۔ چیمپئن شپ اپنے "دی کیپٹل آف ہیروز" کی ٹیگ لائن کے مطابق رہی کیونکہ دنیا کے ممتازمرد اور خواتین براؤن اور بلیک بیلٹس نے نو میٹ پر مرکزی کردار ادا کیا ۔ اب تک کی کارروائی کے ایک سنسنی خیز ہفتے کے بعد ماسٹرز نے اپنا تجربہ اورمارشل آرٹس کا جادو دکھایا۔ چیمپئن شپ کے چوتھے روز معزز مہمانوں میں شیخ زاید بن نھیان بن زاید آل نھیان ، متحدہ عرب امارات میں رومانیہ کے سفیر ایڈریان میسیلر اور ابوظبی ڈیپارٹمنٹ آف نالج اینڈ ایجوکیشن (ADEK) کی چیئرپرسن سارہ المسلم، متحدہ عرب امارات اور ایشیائی فیڈریشنز کے صدر عبدالمنعم الہاشمی اور انٹرنیشنل جیو کے سینئر نائب صدراور محمد سالم الظہری شامل تھے ۔ متحدہ عرب امارات کے عمر الفضلی نے 62 کلوگرام مردوں کے براؤن بیلٹ مقابلے میں برازیل کے لیونارڈو ماریو کو 6-3 سے شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس فتح کے بعد الفضلی کو شیخ زاید بن نھیان بن زاید آ ل نھیان، عبدالمنعم الہاشمی اور ہالی ووڈ کے ایکشن ہیرو اسٹیون سیگل کی موجودگی میں پوڈیم پر بلیک بیلٹ میں اپ گریڈ کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس شاندار چیمپئن شپ میں ایک اور گولڈ میڈل جیتنا بہت خاص بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے سب سے بہترین احساس پوڈیم پر اپنے ملک کا جھنڈا اٹھانا ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس لمحے کے لیے غیر معمولی طور پر سخت تربیت کی اور پچھلی چیمپئن شپ جیسے کہ ایشین چیمپئن شپ اور ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران کافی تجربہ حاصل کیا اور اس تجربے نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گولڈ آج تک میرے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک احساس تھا کہ میں فائنل میں لیونارڈو کا سامنا کروں گا اس لیے میں حالیہ ہفتوں کے دوران اسکی سٹدی کرتا رہا اور میں جانتا تھا کہ اس سے کیسے بہتر ہونا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ عمر الفضلی صرف 21 سال کی عمر میں مشرق وسطیٰ میں سب سے کم عمر جیو جِتسو بلیک بیلٹ بن گئے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات اور ایشیائی فیڈریشنز کے صدر اور نائب صدر عبدالمنعم الہاشمی نے کہا کہ آج جب ہم اس کامیابی کا جشن منا رہے ہیں تو ہمیں ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہیےکیونکہ انکی حمایت کے باعث یہ چیمپئن شپ دنیا میں سب سے زیادہ مشہور ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے کم وقت میں ہمارے کھلاڑیوں نے عالمی چیمپئن بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ رامون لیموس نے کہاکہ عمر اپنی بلیک بیلٹ کے پوری طرح سے مستحق ہیں۔ انہوں نے ناقابل یقین حد تک محنت کی ہے، اپنی تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے اور اس کی لگن سب کو دیکھنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے اس نے اپنے مخالفین کا بغورمطالعہ کیا وہ نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ترجمہ:ر یاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302994398

WAM/Urdu