بدھ 01 دسمبر 2021 - 7:26:12 شام

حمدان بن محمد نے ڈرون ٹرانسپورٹیشن کو فعال کرنے کے دبئی پروگرام کا آغازکردیا

  • حمدان بن محمد يطلق برنامج دبي لتمكين النقل بالطائرات بدون طيار
  • حمدان بن محمد يطلق برنامج دبي لتمكين النقل بالطائرات بدون طيار
  • حمدان بن محمد يطلق برنامج دبي لتمكين النقل بالطائرات بدون طيار

دبئی، 20 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ دبئی کے ولی عہد اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین اور دبئی فیوچر فاؤنڈیشن (ڈی ایف ایف) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے ڈرون ٹرانسپورٹیشن فعال کرنے کے دبئی پروگرام کا آغازکردیا۔ یہ پروگرام نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے وژن کے مطابق جدید ترین ٹیکنالوجیز کو ترقی اور استعمال کو فروغ دے گا۔ شیخ حمدان بن محمد نے کہا کہ ڈرون ٹرانسپورٹیشن کا دبئی پروگرام ایک جدید انفراسٹرکچر کی تشکیل کرتے ہوئے انوویٹرز اور متعلقہ اداروں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں کو مخصوص علاقوں میں آزمائشی بنیادوں پر چلاسکیں اور اس کو قابل عمل بنانے کے لیے قانون سازی کر سکیں۔ا س پروگرام کا مقصد نئی اقتصادی سہولیات فراہم کرتے ہوئے مواقع اور مستقبل پر مبنی متنوع شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی میں دبئی کے مقام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے منصوبوں میں معیار زندگی اولین ترجیحات میں شامل ہے،اس حوالے سے ہم جدید آئیڈیا تیار کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے پاس ڈرون کے استعمال کے لیے مناسب ماحول، بنیادی ڈھانچہ اور قانون سازی موجود ہے ۔ ہمارے پاس لیبارٹریزاور مہارت کے ساتھ پروٹو ٹائپ کو قابل عمل شکل میں بدلنے کی صلاحیت موجود ہے ۔مستقبل کی تشکیل میں ڈرون کی صلاحیت کا ادراک کرتے ہوئے 2014 میں یواے ای ڈرونز فار گڈ ایوارڈ کا اجرا کرتے ہوئے ملک میں اس کی ٹیسٹنگ شروع کی گئی جس میں165 ممالک کے ہزاروں ماہرین کوشریک کیا۔اس ایوارڈ کے ساتھ ہم نے اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز اور انسانیت کے مفاد میں مستقبل کی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر اپنے یقین کا اظہار کیا۔ پروگرام کے آپریشنز شروع کرنے کےلئے مختلف حکومتی اور نجی شعبے کے اداروں کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخطوں کی تقریب میں چیئرمین دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی ، چیئرمین دبئی ایئرپورٹس اور امارات ایئر لائن اور گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو شیخ احمد بن سعید المکتوم، وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکانومی و ٹیلی ورکنگ ایپلی کیشنز عمر بن سلطان العلماء ، روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے ڈائریکٹر جنرل چیئرمین اور کمشنر جنرل برائے انفراسٹرکچر، اربن پلاننگ و ویلبیئنگ مطر محمد الطایر نے شرکت کی۔ دستخط کنندگان میں ڈی ایف ایف، ڈی سی اے اے، دبئی سلیکون اوسس اتھارٹی (ڈی ایس او اے)، فقيه یونیورسٹی ہسپتال، ماجد الفطیم اور امارات اسکائی کارگو شامل تھے۔ معاہدے پر دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عبد الله أهلي، دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خلفان بالهول، روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر أحمد بهروزيان، انجینئرنگ اینڈ اسمارٹ سٹی، دبئی سلیکون اوسس اتھارٹی کے ایگزیکٹو نائب صدرانجینئر معمر الكثيري ، ماجد الفطیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آلان بجاني ، امارات اسکائی کارگو کے ڈویژنل سینئر نائب صدر نبیل سلطان اور فقيه کیئر گروپ کے بورڈ چیئرمین عمار سليمان فقيه شامل تھے۔ دبئی ایئر شو 2021 کے دوران ہونے والی لانچنگ اور دستخطوں کی تقریب میں 1ہزار200سے زیادہ زیادہ نمائش کنندگان کے ساتھ ساتھ سے 140 سے زیادہ ممالک کے سویلین اور عسکری وفود نے شرکت کی۔ ڈرون ٹرانسپورٹیشن کے دبئی پروگرام کا بنیادی مقصد صحت، سیکورٹی، شپنگ اور خوراک سمیت کئی شعبوں میں ڈرون کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔یہ پروگرام شپنگ اورٹرانسپورٹ کے روایتی طریقوں سے پیدا ہونے والے کاربن کے اخراج کو کم کرکے اور سامان اور مواد کی نقل و حرکت کو آسان بنا کر لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے گا۔ اس طرح، یہ دبئی کو دنیا کے سمارٹ ترین شہروں میں سے ایک بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کا مقصد ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو ڈرون ایپلی کیشنز کے شعبے میں لاتے ہوئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور متعلقہ شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس موقع پر عمر العلماء نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور دبئی نے دانشوروں اور تخلیق کاروں کے لیے ایک منزل، اور اسٹارٹ اپس کے لیے ان کی اختراعات اور نظریات کو جانچنے کے لیے ایک پرکشش ماحول کے طور پر ایک عالمی تجربہ گاہ کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے ۔ العلماء نے کہا کہ ڈرون ٹرانسپورٹیشن کے دبئی پروگرام کا آغاز دبئی حکومت کے وژن اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے میں دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے کردار، مستقبل کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے آلات کے استعمال اور علم پر مبنی اور قومی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر میں کاروباری شعبے کی شمولیت کو فروغ دینےکی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مطر الطایر نے کہا کہ دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت خود مختار گاڑیوں کے ٹرائلز کی جانب ایک بڑا قدم ہے،یہ معاہدہ دبئی کی سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ حکمت عملی کو بھی مدد دے گا جس کا مقصد 2030 تک مجموعی ٹرانسپورٹ کے 25% کو بغیر ڈرائیور کے سفر میں تبدیل کرنا ہے۔ الطایر نے کہا کہ سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ بین الاقوامی کمپنیاں خود مختار گاڑیوں کی ٹیکنالوجیز اور سافٹ ویئر تیار کرنے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی قیادت میں، دبئی نے سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے 2016 میں سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ کی حکمت عملی کا آغاز کیاتھا۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی اے خود مختار گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ ذرائع کے مختلف نمونوں کی آزمائش کے ذریعے عزت مآب کے وژن اور ہدایات کو حقیقت میں بدلنے کا خواہاں ہے۔ تجربات میں 10 سیٹوں والی بجلی سے چلنے والی خود مختار گاڑی، پہلی خود مختار ہوائی ٹیکسی اور مختلف سائز اور حجم کے خودکار اور سمارٹ موبلٹی پوڈز کا ٹرائل رن شامل ہے۔ آر ٹی اے نے 2023 تک ٹیکسی سروس اور مشترکہ ٹرانسپورٹ کے لیے کمپنی کی خود مختار گاڑیاں چلانے کے لئے جنرل موٹرز کروز کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر خلفان بالهول نے کہا کہ ڈرون ٹرانسپورٹیشن کا دبئی پروگرام ،جس کا آج شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے افتتاح کیا گیا ہے، دبئی کے مستقبل کی تشکیل میں ایک نیا سنگ میل ہے ۔ بالهول نے کہا کہ دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کی دبئی فیوچر لیبارٹریز، سرکاری اور نجی شعبوں کے تمام پروگرام پارٹنرز کو تکنیکی مدد کے علاوہ جدید خیالات اور منصوبوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ضروری ریگولیٹری قانون سازی فراہم کرے گی ۔ دبئی سلیکون اوسس اتھارٹی کے وائس چیئرمین اور سی ای او ڈاکٹر محمد الزرعوني نے کہا کہ ڈرون ٹرانسپورٹیشن کو فعال کرنے کے لیے دبئی پروگرام کے اسٹریٹجک پارٹنرز کی حیثیت سے دبئی سلیکون اوسس پائلٹنگ زون فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ سمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ایک انکیوبیٹر بننے کے ہمارے عزم کے مطابق، ہمیں اس اہم پروگرام کی میزبانی کرنے پر خوشی ہے۔ نبیل سلطان نے کہاکہ امارات اسکائی کارگو کو ڈرون ٹرانسپورٹیشن کو فعال کرنے کے لیے دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے ۔ جدت طرازی امارات کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ہم مسلسل ایسی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لے رہے ہیں جو سپلائی چینز کو زیادہ موثر اور لچکدار بنا سکتی ہیں۔ ڈرون کے ذریعے ترسیل کے لیے دبئی میں پائلٹ ایریا کا قیام نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے آزمائش میں پیشرفت کو آسان بنائے گا۔ آلان بجاني نے کہاکہ یہ شراکت داری اس بات ک اظہار ہے کہ کس طرح مختلف شعبوں کے ادارے ٹیکنالوجی کے استعمال اور مستقبل کے لیے حل فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ہم متحدہ عرب امارات میں خوش قسمت ہیں کہ ایک آگے کی سوچ رکھنے والی حکومت کی قیادت میں کام کر رہے ہیں، جو نہ صرف جدت کے فروغ کے لیے ایک نظام فراہم کرتی ہے بلکہ اسکیل آپریشنز کے لیے انفراسٹرکچر، ضابطے اور کی مووجدگی کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال تمام صنعتوں کے لیے بڑی صلاحیت کا حامل ہے۔ ڈرون کی ترسیلی کارروائیاں تیز، محفوظ، زیادہ مؤثر اور ماحول دوست ہوسکتی ہیں۔ ماجد الفطیم میں ہمیں بہت فخر ہے کہ کیئر فور آخری منزل تک ترسیل میں ڈرون کے استعمال کرنے والے اولین برانڈز میں سے ایک ہوگا۔ ماحولیات کے لیے نقصان دہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ٹریفک کی روانی کو آسان بنانے کے علاوہ معاشرے کی صحت اور حفاظت کو فروغ دینے اور صحت کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار اس پروگرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے عمار فقیہ کہا کہ یہ پروگرام بہترین قیادت اور دانشمندانہ رہنمائی کے تحت علم پر مبنی اور پائیدار معیشت کی تعمیر میں دبئی کے اہداف کے حصول میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ فقیہ اکیڈمک میڈیکل سینٹر میں، ہم حکومت اور نجی شعبے کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام شروع کرنے کے خواہاں ہیں، تاکہ دبئی اپنے شعبہ صحت کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے اس سرکردہ نظام کو اپنانے والا خطے کا پہلا شہر بن جائے۔ ڈرون ٹیکنالوجی متحدہ عرب امارات کی قومی حکمت عملی کے ترجیحی شعبوں میں سے ایک ہے۔ ملک نے اپنی ترقی میں مدد کے لیے مختلف اقدامات اور پروگرام شروع کیے ہیں، جس کا آغاز یو اے ای ڈرون فار گڈ ایوارڈ سے کیا گیا تھا جس اب تک دنیا بھر سے 1ہزار 800 سے زیادہ ماہریں نے شرکت کرتے ہوئے کئی ایک شاندار خیالات کو کامیاب عملی منصوبوں کی شکل دی ہے۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302994758

WAM/Urdu