اتوار 28 نومبر 2021 - 10:01:34 صبح

کرونا سے بحالی کے دوران سرمایہ کاروں کوافراط زر،بڑھتی شرح سود سے محتاط رہنا ہوگا:خلدون المبارک


دبئی، 22 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ مبادلہ انوسٹمنٹ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ سی ای او خلدون المبارک نے کہا ہےکہ جیسے جیسے دنیا COVID-19 سے بحال ہو رہی ہے سرمایہ کاروں کو متوقع افراط زر اور بڑھتی ہوئی شرح سود سے محتاط رہنا چاہیے۔ گلوبل مینوفیکچرنگ اینڈ انڈسٹریلائزیشن سمٹ GMIS2021# کے چوتھے ایڈیشن سے خطاب میں ٹیکنالوجی، لائف سائنسز اور توانائی کی منتقلی میں سرمایہ کاری کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ قلیل مدتی نقطہ نظر سےدیکھا جائے تومستقبل میں افراط زر اور شرح سود میں متوقع اضافے سے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نےکہا کہ مبادلہ کا نقطہ نظر ایک طویل المدتی صبر آزما سرمایہ کار کا ہے جس نے ہمیں مشکل ادوار سے گزرنے میں مدد کی ہے۔ خلدون المبارک نے کہاکہ ابوظبی فیوچر انرجی کمپنی (مصدر) سرمایہ کاری اور اثاثوں کے ساتھ ایک عالمی قابل تجدید کمپنی ہےجو اس وقت 33 ممالک میں 20 ارب ڈالر(73.4 ارب درہم) سے زیادہ کی سرمایہ کاری اور تقریباً 11 گیگا واٹ قابل تجدید بجلی پیداکررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پندرہ سال پہلے قابل تجدید توانائی کی منتقلی میں سرمایہ کاری شروع کی تھی جب یہ ایک اہم موضوع نہیں تھا۔ اب ہم اس شعبے میں اچھی پوزیشن پر ہیں اور بڑے پیمانے پر ترقی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خلدون المبارک نے کہاکہ عالمی تجارتی اور اقتصادی مرکز کے طور پر متحدہ عرب امارات نے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے کام کیا ہے جس سے دونوں اطراف کے تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارت، کاروبار اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے عالمی استحکام بہت اہم ہے۔ سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنی GlobalFoundries کے ساتھ مبادلہ کی اسٹریٹجک شراکت داری پر انہوں نے کہا کہ مبادلہ نےایک چیلنجنگ اور مسابقتی شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے جو عالمی سپلائی چینز اور مستقبل کی ہر بڑی صنعت کے لیے اہم ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت صنعت کی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی مشترکہ صدارت میں (GMIS2021#)سمٹ حکومت، کاروبار اور سول سوسائٹی کے اہم عالمی رہنماؤں کو ڈیٹا اور کنیکٹویٹی مینوفیکچرنگ سیکٹر کے مستقبل پر بات پر بحث کرنے کے لیے متوجہ کرے گا ۔ ٹیکنالوجی، جدت اور صنعت میں سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرنے کے لئے (Rewiring Societies: Repurposing Digitalisation for Prosperity)تھیم کے تحت سمٹ میں پینل ڈسکشنز، سیشنز اور انٹرایکٹو ورکشاپس کا انعقاد کیا جارہا ہےجس کا مقصد ملک کے صنعتی شعبے کو وسعت دینا اور اگلی دہائی میں اقتصادی تنوع کو تیز کرنا ہے۔ GMIS2021 #چھ روزہ سمٹ 22 نومبرسے27 نومبر تک EXPO کے دبئی نمائشی مرکز میں جاری ہےاور اس میں 250 عالمی مقررین شامل ہوں گے۔ GMIS ویک میں 24 نومبر کو (محمد بن راشد اقدام برائے عالمی خوشحالی اور گرین چین کانفرنس) ایک متبادل اور قابل تجدید توانائی کانفرنس کے زیر انتظام عالمی خوشحالی کانفرنس شامل ہوگی۔ GMIS ویک 24 اور 25 نومبر کو برطانیہ، آسٹریلیا اور اٹلی کے ساتھ مل کر کئی کانفرنسوں کی میزبانی بھی کرے گا۔ سمٹ پورے ہفتے کے دوران متحدہ عرب امارات کی حکومت کی (Make it in the Emirates) مہم کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نمائش چلائے گا جومقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ڈویلپرز اور جدت کاروں کی حوصلہ افزائی اور ملک کے صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کردہ سہولیات اور مراعات سے مستفید ہونے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ ترجمہ۔ریاض خان http://wam.ae/en/details/1395302995573

WAM/Urdu