جمعرات 09 دسمبر 2021 - 4:39:21 صبح

کرونا سے بحالی کے دور میں تعاون، اشتراک اور پختہ عزم کی ضرورت ہے: GMIS


دبئی، 22 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ گلوبل مینوفیکچرنگ اینڈ انڈسٹریلائزیشن سمٹ (#GMIS2021) کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ بدر العلماء نے کہا ہے کہ ایک ایسےنئے عالمی دور میں جسے COVID-19 وباء اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہو انسانیت کو ایک ایسی دنیا بنانے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے جو زیادہ پائیدار، فطری اور سب کی شمولیت پر مبنی ہو۔ ایکسپو 2020 میں ہونے والی دو روزہ تقریب کے افتتاحی دن اپنی کلیدی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں تبدیلی کے ساتھ مدد کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے طاقتور ذرائع کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں تعاون کی نئی شکلوں کا سہارا لے کرہمارے ذہنوں میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اور ایک مربوط معاشرے کی طرف بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا جہاں سب مل کر کام کریں۔ وزیر صنعت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی اور جی ایم آئی ایس کے شریک چیئر ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے COVID-19 کے دوران صنعتی اور تجارتی شعبے کو درپیش چیلنجوں کا خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کے رہنماؤں کے لیے وبائی امراض کے بعد کی بحالی کا سبق واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی بحالی کے لیے لچک کی ضرورت ہوتی ہے اور صنعتی ترقی "سمارٹ شراکت داری پر منحصر ہے"۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی 50 ویں سالگرہ منا رہا ہے اور ہماری قیادت نے اگلے 50 سالوں کے لیے خوشحالی کا بلیو پرنٹ جاری کیا ہے۔ یہ ایک متحرک، عالمی سطح پر معروف معیشت کی تعمیر کے لیے ہماری رہنمائی ہے اور اس بلیو پرنٹ کا مرکز شراکت داری ہے۔ کوئی بھی معیشت خلا میں موجود نہیں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ترقی تیز تر ہوتی ہے جب لوگ مل کر کام کرتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت میں آپ سب کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ شراکت کی دعوت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں خوشحالی لانے میں مدد کریں۔ افریقہ میں ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع اور چیلنجوں کے حوالے سے موریطانیہ کے صدر محمد اولد شیخ الغزوانی نے صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے براعظم کی اقوام کی مشترکہ خواہش پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کے ممالک نے اپنے 2060 کے ایجنڈے میں صنعت کاری کو سرفہرست رکھا ہے اور اب نقل و حمل، مواصلات اور نئی ٹیکنالوجی کے معاون انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے پرجوش پروگراموں کے ذریعے متنوع، مسابقتی صنعتوں کے لیے بے پناہ کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افریقہ کی مرضی ہےکہ صنعت کے میدان میں جیتنا اور نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھائے۔ نیویارک سے ایک خصوصی ویڈیو خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے اسی طرح کے ایک چیلنج کی نشاندہی کی اور کہا کہ COVID-19 نے کاروباری لچک اور مسابقت کو بڑھانے اور ضروری ویلیو چینز کی حفاظت میں ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہمیں عالمی ڈیجیٹل صلاحیت کو مضبوط کرنے اور ڈیجیٹل تقسیم کو بند کرنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صرف 10 معیشتیں جدید ٹیکنالوجی کے پیٹنٹ کے تقریباً 90 فیصد کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیک مرکزی معیشت کو آگے بڑھا سکتی ہے اور آب و ہوا کے خطرات سے نمٹ سکتی ہے لیکن اس کے لیے موسمیاتی فنانس، ڈیکاربونائزنگ کے لیے زیادہ مضبوط عزم، اختراعی ماحولیاتی نظام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں زیادہ سرمایہ کاری کے لیے شراکت داری کی ضرورت ہے۔ ویانا سے ویڈیو کے ذریعے اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (UNIDO) کے ڈائریکٹر جنرل اور GMIS کے شریک چیئر لی یونگ نے تمام اقوام کی صنعتی اور تکنیکی ترقی، مراکش اور ایتھوپیا میں سمارٹ مینوفیکچرنگ سہولیات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری تاریخ میں، تکنیکی ترقی اور صنعت کاری غربت کے خاتمے، بہتر معیار زندگی اور سماجی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ چلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامع اور پائیدار صنعت کاری پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کے ہدف 9 کا حصہ ہے۔ انہون نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی شراکتیں ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کو کھولنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ UAE کی وزارت صنعت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر گورنمنٹ کمیونیکیشن طائف الامیری کی میزبانی میں افتتاحی تقریب میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی جان کیری اور نمیبیا کی وزیر اعظم ڈاکٹر سارہ کوگونگیلوا امادیلہ نے شرکت کی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302995591

WAM/Urdu