جمعرات 09 دسمبر 2021 - 5:51:15 صبح

متحدہ عرب امارات کی مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے33ویں اجلاس میں شرکت


ابوظہبی، 23 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (مینا فیٹف) کے 16 سے 17نومبر تک قاہرہ میں ہونے والے 33 ویں مکمل اجلاس میں اوراس کے ساتھ جاری مینا فیٹف کے ورکنگ گروپ سیشنز میں بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے خطے میں جاری کوششوں ، خاص طور پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی 40 سفارشات اور 11 نتائج پر فوری عملدرآمد پر غورکیاگیا۔ متحدہ عرب امارات نے مینا فیٹف کے اراکین کو باہمی تشخیصی رپورٹ کی سفارشات کے حوالےسے اپنی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ان کوششوں سے ایگزیکٹو آفس برائے انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے انسداد (سی ٹی ایف) کی مدد کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی حکومتی ایجنسیوں کے کام کو مستحکم کیاگیا ہے، مرکزی قومی رابطہ کار ادارے کی حیثیت سے اے ایم ایل/ سی ٹی ایف کے لئے قومی ایکشن پلان اور قومی حکمت عملی میں وضع کردہ اہداف حاصل کرنا اس کا ہدف ہے، اس کا مقصد اس سلسلے میں کوششوں کو متحد کرنا اور تمام متعلقہ بین الاقوامی معیارات، قوانین اور کنونشنز کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ نیز، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی اور غیر قانونی تنظیموں کی مالی اعانت سے نمٹنے کے لیے قومی کمیٹی کی ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل نو اور کمیٹی کی کاکردگی کو فروغ دینے کے لیے نئی کمیٹیوں کی تشکیل، جس میں اب 17 سرکاری ایجنسیوں کے اراکین اور نجی شعبے کی 22 ایجنسیاں شامل ہیں،ان کوششوں کا حصہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا متحرک اتحاد، اس ضروری کردار پر ، متحدہ عرب امارات کے یقین کی عکاسی کرتا ہے جو نجی شعبہ ایک پائیدار نظام کی تعمیر میں ادا کرتا ہے۔ اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے نئی ٹیکنالوجیز اور کاروباری امور سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بشمول ملک کے ریگولیٹری فریم ورک میں ورچوئل اثاثوں کی شمولیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ متحدہ عرب امارات نے اجلاس کو وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون میں فنانشل کمپلائنس مانیٹرنگ سیکشن کے بارے میں بتایا، جس نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اسٹریٹجک چینلز کے ذریعے علم اور تجربات کے تبادلوں کے لیے بین الاقوامی تعاون اور پلیٹ فارم کی تشکیل کے لیے ملک کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فنانشل کمپلائنس مانیٹرنگ سیکشن کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک، اے ایم ایل/ سی ٹی ایف پر وزیر مملکت أحمد الصايغ اور مرکزی بینک کے گورنر خالد بلعمى التميمي کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے ماہرین کے گروپ کی تشکیل ہے ۔ یو اے ای ماہرین کے گروپ میں مختلف قومی اداروں کے اہم نمائندے شامل ہیں، جنہوں نے دیگرممالک کے ماہرین کے ساتھ 30 اجلاسوں کا انعقاد کیا ہے۔ فنانشل کمپلائنس مانیٹرنگ سیکشن نے قومی اداروں کے لیے 12 سے زائد تکنیکی تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کے ساتھ یورپی یونین، برطانیہ، اور امریکہ جیسے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ استعداد کار میں اضافے کے لیے پلیٹ فارمز کے قیام میں بھی تعاون کیا۔ مکمل اجلاسوں کے دوران، متحدہ عرب امارات نے مینا فیٹف میں روس کی بطور مبصر شمولیت کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کیا ۔ انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایگزیکٹو آفس کے ڈائریکٹر جنرل حامد الزعابی نے کہاکہ جون میں ہونے والے 32 ویں مکمل اجلاس میں، مینا فیٹف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے تین اہم سفارشات میں متحدہ عرب امارات کے تکنیکی اقدامات کا جائزہ لیا تھا اوراب 33ویں اجلاس نے مینا فیٹف کو متحدہ عرب امارات کی مزید کامیابیوں اور پیش رفت پر اپ ڈیٹ فراہم کرنے کا ایک خوش آئند موقع فراہم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ اعلی درجہ بندی حاصل کرنے میں کامیابی اورہماری جانب سے شیئرکی گئی تازہ ترین اپ ڈیٹس اس پیشرفت کی براہ راست عکاسی ہے جو متحدہ عرب امارات نیشنل فنانشل کرائم کمپلائنس کے فریم ورک میں پیش رفت اور انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے اقدامات میں خطے اور دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ ترجمہ۔ تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302995760

WAM/Urdu