جمعرات 09 دسمبر 2021 - 5:36:47 صبح

اسرائیل اور دبئی کی دوطرفہ تجارت کا حجم70کروڑامریکی ڈالر تک پہنچ گیا:اسرائیلی سفارتکار


بنسل عبدالقادر سے دبئی، 23 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ ایک سینئر اسرائیلی سفارت کار نے کہا ہے کہ ابراہیمی معاہدوں کے بعد اسرائیل اور دبئی کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2ارب 57کروڑ درہم(70کروڑ امریکی ڈالر)تک پہنچ گیا ہے۔ دبئی میں اسرائیلی قونصل جنرل ایلان سزٹولمین سٹاروسٹا نےامارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یکم نومبرتک کووڈ19 کی وجہ سے غیر ملکیوں اور کسی حد تک اپنے شہریوں کے لئے اسرائیل کی مکمل بندش کے باوجوداس قدر زیادہ تجارتی حجم حاصل ہوا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پابندیاں ختم ہونے سے کاروباری سرگرمیوں میں ہر لحاظ سے بڑا اضافہ ہوگا۔ دبئی حکومت کے 30 جنوری کے اعلان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ امارت کی تجارت، ستمبر 2020 سے جنوری 2021 کے پانچ ماہ میں،1ارب درہم(27کروڑ22لاکھ60ہزار امریکی ڈالر)تک پہنچ گئی تھی۔ جون 2021 میں، اسرائیل کے وزیر خارجہ يائير لاپيد نے وام کو بتایا تھا کہ ان کے ملک اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دو طرفہ تجارت ابراہمی معاہدوں پر دستخط کرنے کے دس ماہ کے اندر2ارب 20کروڑ شیقل(2ارب48کروڑ درہم/67کروڑ52لاکھ 20ہزار امریکی ڈالر)تک پہنچ گئی ۔ اسرائیلی قونصل جنرل نے کہا کہ دو طرفہ تجارت میں زیادہ تر حصہ اجناس پر مشتمل ہے،جس میں ہیروں کی بھی ایک بڑی مقدار ہے۔ ڈی ایم سی سی کے ماتحت دبئی ڈائمنڈ ایکسچینج( ڈی ڈی ای) کا اسرائیل میں ایک نمائندہ دفتر موجود ہے۔ڈی ڈی ای نے ابراہیمی معاہدوں کے فوری بعدستمبر2020 میں اسرائیل ڈائمنڈ ایکسچینج(آئی ڈی ای)کے ساتھ تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ قونصل جنرل نے کہا کہ دبئی کی دنیا کے ہیروں کے معروف تجارتی مرکز کی حیثیت اسرائیل کے ساتھ تجارت کو مزید بڑھانے میں مدد گار ہے۔ ڈی ڈی ای کے مطابق، 2003 میں، امارت میں کھردرے اور پالش شدہ ہیروں کی کل تجارتی قیمت 13ارب20کروڑدرہم(3ارب60کروڑامریکی ڈالر) تھی جو 2019 میں نمایاں اضافے کے ساتھ 84ارب درہم(23ارب امریکی ڈالر)تک پہنچ گئی تھی۔ سٹاروسٹا نے کہا کہ بہت سی اسرائیلی کمپنیاں دبئی میں ٹیکنالوجیز تیار اور فروخت کررہی ہیں۔ انہوں نے یہاں اپنا کاروبارقائم کیا ہے اور ڈی اینڈ آر [ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ] کا کام شروع کیا ہے ان میں سے کچھ کمپنیاں ایسا سامان تیار کررہی ہیں جو اسرائیل میں دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال ایک اور اہم شعبہ ہے ،بہت سے لوگ صحت کی خدمات کے لیے اسرائیل آتے ہیں اور بہت سے اسرائیلی ہسپتال یہاں دبئی میں اپنی شاخیں کھول رہے ہیں۔ تجارتی اتاشی، سی ای پی اے سے تجارتی فروغ اس سفارت کار نے بتایا کہ ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے میں جلد ہی کمرشل اتاشی کا دفتر کھولا جائے گا، متحدہ عرب امارات کے لیے پہلے اسرائیلی تجارتی اتاشی ایویڈ تمیر ابوظہبی میں سفارت خانے اور دبئی کے قونصل خانے میں اقتصادی ونگ کی قیادت کریں گے۔ سٹاروسٹا نے بتایا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے) پر دستخطوں کے لیے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ سی ای پی اے کے تکنیکی پہلوؤں پر کام کرنے کے لیے وکلاء اور اکاؤنٹنٹس پر مشتمل ایک اسرائیلی وفدنے گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیاتھا۔ ایکسپو 2020 دبئی، متحدہ عرب امارات کی 50 ویں سالگرہ ایکسپو 2020 دبئی میں اسرائیل کی شرکت کے حوالے سے اسٹاروستا نے کہاکہ ہمیں اماراتی حکومت کا شکریہ ادا کرنا ہوگا کہ انہوں نے ہمیں اس وقت 2017 میں ایکسپو میں اسرائیلی پویلین کی تعمیر شروع کرنے کی اجازت دی تھی جب دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ حیرت انگیز ہے۔ اماراتی حکام نے جب ہمارے پویلین کا دورہ کیا، تو ہم نے سوچا کہ کیا یہ حقیقت ہے یا ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ آپ سینکڑوں اماراتی اور تمام قومیتوں کے لوگوں کو ہمارے پویلین میں آتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی 50ویں سالگرہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر سفارت کار نے کہا کہ اگر میں اماراتی ہوتا تو مجھے اس کی اتنے کم وقت میں اتنی زیادہ کامیابیوں پر فخر ہوتا۔ اسرائیل نے بھی 70 سالوں میں اسی قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔لگتا ہے کہ ہمارے لیے بھی متحدہ عرب امارات سے بہت کچھ سیکھنے کو ہے، خاص طور پر طویل مدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی ، متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے، اور یہی وہ چیز ہے جو میں اپنی حکومت کو ہر وقت بتاتا رہتا ہوں۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302995758

WAM/Urdu