جمعرات 18 اگست 2022 - 9:45:07 شام

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور


ابوظبی، 8 دسمبر، 2021 (وام)۔۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے سٹریٹجک تعاون بڑھانے اور اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی انضمام کو فروغ دینے پر زور دیا ہے تاکہ سلامتی، خوشحالی اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کیلئے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کی جاسکے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ متحدہ عرب امارات کے موقع پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے باہمی تشویش کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل مشترکہ موقف جاری رکھنے کا اعادہ کیا تاکہ خطے اور پوری دنیا کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیا ن کی ہدایات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سیکورٹی، فوجی، اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں سعودی اماراتی رابطہ کونسل کے فریم ورک کے تحت تعاون اور انضمام کو سراہا گیا۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے وسیع اقتصادی صلاحیتوں اور امتیازی مواقع اور دونوں ممالک میں سرمایہ کاروں کے لیے امید افزا شعبوں کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ توانائی کے محاذ پر دونوں ملکوں نے قریبی تعاون اور تیل کی عالمی منڈی میں استحکام بحال کرنے کے لیے اوپیک پلس کی کامیاب کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس تعاون کو جاری رکھنے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اوپیک پلس کے رکن ممالک کے معاہدے سے وابستگی کی بھی تصدیق کی اور تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل کے شعبے کے ساتھ ساتھ جوہری توانائی کا استعمال، تیل کی مصنوعات کی تجارت، بجلی کے رابطے اور بجلی کے تجارتی تبادلے کا فائدہ اٹھانا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، سائبر سیکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجیز میں اپنے مشترکہ تعاون کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دونوں ملک سعودی عرب کی طرف سے G-20 کی صدارت کے دوران شروع کیے گئے سرکلر اکانومی اپروچ کو لاگو کرنے کے لیے اپنے جاری تعاون کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں اور گروپ کی طرف سے اس کی منظوری ایک جامع فریم ورک کے طور پر دی گئی تھی جس کا مقصد اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تھا۔ متحدہ عرب امارات نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کیے گئے گرین مڈل ایسٹ اقدام کی بہت سی مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ سعودی فریق نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں متحدہ عرب امارات کے اہم کردار خاص طور پر 2023 میں COP28 کی میزبانی حاصل کرنے کی تعریف کی۔ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ صحت، سیاحت، خوراک کی حفاظت اور سماجی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو بڑھاتے رہیں گے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ایکسپو 2020 دبئی کے کامیاب انعقاد پر متحدہ عرب امارات کو مبارکباد دی جبکہ عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کی بولی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقوں نے 5 جنوری 2021 کو جاری کردہ الاولا جی سی سی سربراہی اجلاس کے اعلامیے پر زور دیا جس میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے وژن پر مکمل اور درست عمل درآمد کرنے کی شرط رکھی گئی تھی ۔ دسمبر 2015 میں عرب ریاستوں کے لیے 36 ویں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہوں کا اجلاس ایک مخصوص ٹائم ٹیبل اور محتاط پیروی کے مطابق ہوا۔ اس میں اقتصادی اتحاد کی تکمیل، مشترکہ دفاعی اور سلامتی کے نظام کے ستونوں کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی کی پوزیشنز اس طرح شامل ہیں جو GCC ممالک کی یکجہتی اور استحکام کو بڑھاتا ہے اور سیاسی پوزیشنوں کو متحد کرنے، بین الاقوامی کے ساتھ سیاسی شراکت داری کو فروغ دینے کے ذریعے ان کے علاقائی کردار کو فروغ دیتا ہے۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کی تازہ ترین علاقائی اور عالمی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اپنی پوزیشنوں کو اس انداز میں ہم آہنگ کرنے پر زور دیا جو ان کے مفادات کو پورا کرے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کی حمایت اور اس میں اضافہ کرے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں نے فلسطینی عوام کے تمام جائز حقوق کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ دونوں ملکو ں نے خلیجی اقدام اور اس کے ایگزیکٹو میکانزم کی طرف سے پیش کردہ شرائط کے مطابق یمن کے بحران کے مجموعی سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کے حوالے سے اپنے خیالات کی مطابقت پر زور دیا۔ قومی مذاکراتی کانفرنس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216، اور یمن کے بحران کے خاتمے اور ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے سعودی عرب کا اقدام یمن کے اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھنے، اس کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرتا ہے اور اس کے اندرونی معاملات میں کسی بھی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے ریاض معاہدے پر عملدرآمد کو مکمل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں فریقوں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں ہوائی اڈوں، شہری اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ لبنان کے بارے میں دونوں فریقوں نے اس بات کی ضمانت دینے کے لیے جامع سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کے نفاذ کی اہمیت پر زور دیا کہ لبنان اپنے بحرانوں پر قابو پا لے اور اسلحے کو قانونی ریاستی اداروں کے ہاتھ میں بند کر دے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کسی بھی دہشتگردانہ کارروائیوں کا نقطہ آغاز اور ان تنظیموں اور گروہوں کے لیے ایک انکیوبیٹر نہیں ہو گا جو دہشتگرد حزب اللہ جیسی خطے کی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بناتے ہیں اور منشیات کی لعنت کا ذریعہ ہیں جو معاشروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ دونوں ملکوں نے عراق میں انتخابی عمل کی کامیابی کا خیرمقدم کیا اور ایک ایسی عراقی حکومت کے قیام کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا جو عراق کی سلامتی، استحکام اور ترقی اور دہشتگردانہ سرگرمیوں اور غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کے لیے کام کرے۔ فریقین نے سوڈان میں عبوری مرحلے میں فریقین کی طرف سے طے پانے والے معاہدوں کا بھی خیرمقدم کیا اور سوڈان اور اس کے عوام کے لیے استحکام اور خوشحالی کی اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے سوڈان میں سلامتی اور استحکام کے حصول میں مدد دینے والے کسی بھی اقدام کے لیے اپنی مسلسل حمایت کی تصدیق کی۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے حصول کو یقینی بنانے، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی جواز کے احترام اور خطے کو اس سے بچانے کے لیے ایران کے جوہری اور میزائل ڈوزیئر کے ساتھ سنجیدگی اور مؤثر طریقے سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تناظر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ فریق خطے کے دیگر ممالک کے مفادات، سلامتی اور استحکام کو مدنظر رکھیں۔ فریقین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ شام کے بحران سے نکلنے کا واحد راستہ سیاسی حل ہے اور اس تناظر میں انہوں نے متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے شامی عوام کی حمایت اور شام میں بین الاقوامی انسانی کوششوں کی حمایت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں ملکوں نے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کی حمایت اور اس میں دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے وجود کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف تنازعات والے علاقوں میں افغان پناہ گزینوں کو بھرتی کرنے کے مقصد سے کسی بھی کارروائی کی مذمت کی اور افغانستان میں امدادی کوششوں اور انسانی بنیادوں پر کام کی حمایت کی اہمیت کا اظہار کیا۔ افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے19 دسمبر 2021 کو پاکستان میں ہونے والا پُرامن اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے افغانستان میں انخلاء کی کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو سراہا۔ فریقین نے متفقہ سیاسی منصوبے کے نفاذ میں تعاون کے لیے لیبیا اور اقوام متحدہ کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور لیبیا کے عوام کو اتحاد، امن اور استحکام کی ان کی خواہشات کو حاصل کرنے کے لیے بااختیار بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے لیبیا سے غیر ملکی کرائے کے فوجیوں، جنگجوؤں اور افواج کو نکالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اپنے دورے کے اختتام پر شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے عزت مآب شیخ محمد بن زاید کی مہمان نوازی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ شیخ محمد بن زاید نے شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور انکی دانشمندانہ قیادت میں سعودی عرب کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کی دعاکی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395303001153

WAM/Urdu