اتوار 22 مئی 2022 - 6:09:43 شام

یمن تنازعہ پر پانچ ممالک کے اجلاس کا اعلامیہ جاری


لندن، 27 جنوری، 2022 (وام) ۔۔ یمن کے حوالے سے لندن میں ہونے والے پانچ ممالک (کوئنٹ) کے اجلاسکا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیےعمان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ کے سینئر نمائندوں کا اجلاس 26 جنوری کو ہوا، جس میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ کوئنٹ نے تنازعہ کے فوری اور جامع سیاسی حل کی اہمیت پر دوبارہ زور دیتے ہوئے اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کے لیے اپنی حمایت اورتجدید سیاسی مذاکرات کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے تنازعہ کے یمنی فریقین کی قیادت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعمیری بات چیت کریں کیونکہ وہ ان کے ساتھ اپنی مشاورت کو کوآگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ کوئنٹ نے صنعاء میں مقیم امریکی عملے سمیت یمن کے شہریوں کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور سعودی عرب اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ان کے مسلسل گھناؤنے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے کہا کہ اس طرح کے اقدامات امن کی کوششوں میں رکاوٹ اور مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں ۔ کوئنٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے انہوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کوئنٹ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور ان کے جائز قومی سلامتی کے خدشات کے حوالے سے مکمل حمایت کا اظہار اور حوثیوں کے حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دہشت گرد حملوں کے خلاف ان کے دفاع اور شہری نقصان سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے جائز حق کوتسلیم کیا۔ پانچوں ممالک نے یمن کے ساحل سے روابی جہاز پر قبضے کی مزید مذمت کرتے ہوئے حوثیوں سے خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی بحری سلامتی کے لیے لاحق اہم خطرے کو اجاگر کیا۔ پانچوں ممالک نے ایران سے حوثیوں کو میزائلوں اور جدید ہتھیاروں کی غیر قانونی فراہمی پر تبادلہ خیال کیاجو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد2216 اور قرارداد2231 کی خلاف ورزی ہے۔ کوئنٹ نے یمن میں سنگین انسانی بحران پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ امدادی کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے ملک کے لیے براہ راست انسانی و ترقیاتی امداد کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اس کے علاوہ امدادکے لیے رسائی کے اہم راستوں کو محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ انسانی بحران میں ممکنہ اضافے کو کم کیا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق تھا کہ یمن میں معاشی بحران انسانی مصائب کو بڑھا رہا ہے اور مالی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اصلاحات کے ساتھ یمن کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی طرف سے اضافی اقتصادی مدد کی اہمیت پر زور دیاگیا۔ کوئنٹ نے ایف ایس او سا فر کا فوری حل تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹینکر کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کو جہاز تک رسائی کی اجازت دیں۔ کوئنٹ نے یمن کے بحران کی کوششوں کو مربوط بنانے اور یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حمایت کے لیے مستقل بنیادوں پر ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔ ترجمہ۔تنویر ملک https://wam.ae/en/details/1395303015446

WAM/Urdu