جمعہ 01 جولائی 2022 - 10:03:20 شام

متحدہ عرب امارات کی قیادت نے ایکسپو 2020 کو امید اور انسانی یکجہتی کی عالمی علامت بنایا:بی آئی ای سیکرٹری جنرل 

  • الأمين العام للمكتب الدولي للمعارض لـ"وام": قيادة الإمارات صنعت من إكسبو 2020 رمزا عالميا للأمل والتضامن الإنساني
  • الأمين العام للمكتب الدولي للمعارض لـ"وام": قيادة الإمارات صنعت من إكسبو 2020 رمزا عالميا للأمل والتضامن الإنساني
  • الأمين العام للمكتب الدولي للمعارض لـ"وام": قيادة الإمارات صنعت من إكسبو 2020 رمزا عالميا للأمل والتضامن الإنساني

احمد النعيمى 

دبئی، 13 اپریل، 2022 (وام) ۔۔ بیورو انٹرنیشنل ڈیس ایکسپوزیشنز (بی آئی ای) کے سیکرٹری جنرل دیمتری ایس کرکینٹیز نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے منعقد کی گئی ایکسپو 2020 دبئی "واقعی ایک قابل ذکر ورلڈ ایکسپو" تھی،جس کا سہرا متحدہ عرب امارات کے وژن ،منتظمین اور تمام شرکاء کی مشترکہ کاوشوں کے سر ہے جنہوں نے خطے اور دنیا کے لیے ایک تاریخی ایونٹ کے انعقاد کے لیے سخت محنت کی۔

ایکسپو 2020 دبئی کے اختتام پر امارات نیوز ایجنسی (وام) کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کیرکنٹیز نے کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی ایک اتحاد اور امید کی کرن بن کرسامنے آئی ہے، جس نے ہمیں انسانی یکجہتی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کی یاددہانی کرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک عرصے سے الگ رہنے کے بعد،ایکسپو 2020 دبئی 192 شریک ممالک کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ وہ آپس میں ملیں اور رابطہ کریں اور عالمی چیلنجز کے حل تلاش کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہوں۔

ایکسپو 2020 دبئی ایک نئی متحرک شروعات کرنے کے لیے مثالی پلیٹ فارم کابہترین موقع تھا،جہاں سے ممالک کو اپنے اہداف کے تعین کے لئے بات چیت کا موقع میسرآیا۔

دبئی ایکسپوکی میراث:

ایکسپو 2020 دبئی کے مختلف شعبوں، خاص طور پر معاشی، سماجی اور انسانی ہمدردی پر اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی کی وراثت سالوں اور حتیٰ کہ دہائیوں تک قابل غوررہے گی جس کے دیرپا اثرات تعلیم، سماجی ترقی، پائیدار سوچ اور بین الاقوامی تعاون جیسے وسیع پیمانے پر پھیلے غیر مادی شعبوں میں محسوس کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود انہیں یقین ہے کہ ایکسپو میں آنے والے ہر شخص کے لیے، ایکسپو نے پہلے ہی ان کے رویے کو تبدیل کرنے، نئے رابطے بنانے ان کی سوچ کو وسعت دینے اور ان کے مستقبل کی تشکیل میں ایک واضح کردار ادا کیا ہے۔ فزیکل وراثت جدت میں ڈھکی ہوئی ہے۔

نوجوانوں کا کردار:

ایکسپو کے انعقاد میں نوجوانوں کی کوششوں کے حوالے سے ایک سوال پر کیرکنٹیز نے کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بے پناہ کوششوں اوردنیا بھر کا پرتپاک استقبال کے لیے متحدہ عرب امارات کے نوجوانوں کا صرف شکریہ ادا کرنا کافی نہیں ہوگا۔

ایکسپو 2020 دبئی کے انعقاد میں متحدہ عرب امارات کے ماڈل کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی کی غیرمحسوس میراث میں سے ایک جو یقینی طور پر مستقبل کی ایکسپو کو متاثر کرے گا نوجوانوں کا کردار ہے۔

ایکسپو ہمیشہ سے عوام کی تعلیم کے بارے میں رہی ہیں۔ اس کے باوجود دبئی، ایکسپو میں تھیم پر عملدرآمد کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے نئے طریقوں کے حوالے سے نوجوانوں کی مصروفیت کا ایک بالکل نیا پہلو دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سے نوجوان نسل نے ایکسپو 2020 دبئی کے تجربے کو تشکیل دیا ہے نہ صرف تھیم کی ترقی میں بلکہ مواد اور پویلین کے تصور اور تیاری کے طریقے اور جس انداز میں ایکسپو کا انعقاد کیا گیا ہے یہ سب بلا شبہ آنے والی تمام ایکسپوز کو متاثر کرے گا۔

انسانیت کی خدمت:

انسانیت کی خدمت میں ایکسپو 2020 دبئی کی کامیابیوں کے بارے میں، کیرکنٹیز نے کہا کہ انسانیت کوماحولیاتی تحفظ،حیاتیاتی تنوع، تعلیم یا صحت کے حوالے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اوروبا کی وجہ سے عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے،ایکسپو 2020 دبئی نے ظاہر کیا کہ یکجہتی پر مبنی تعاون نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری ہے۔

ورکرز ویلفیئر:

ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے ایکسپو کی کوششوں کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ ایکسپو 2020 دبئی کے منتظمین، بی آئی ای اور بین الاقوامی شرکاء کے لیے کام کے حالات اور کارکنان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ایکسپو کی منصوبہ بندی سے لے کر اس کے انتظام تک، ایکسپو 2020 دبئی نے رضاکارانہ طور پر کارکنوں کی صحت اور بہبود کی نگرانی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے ایک پروگرام پر عملدرآمد کیا۔

مشرق وسطیٰ، متحدہ عرب امارات کے لیے تاریخی موقع:

مشرق وسطیٰ میں پہلی بار منعقد ہونے والی ایکسپو کے اثرات کے بارے میں، انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اپنی گولڈن جوبلی کے سال میں اپنے دروازے کھولنے کے بعد، ایکسپو 2020 دبئی نے ملکی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

مجھے یقین تھا کہ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا (ایم ای اے ایس اے) کے خطے میں پہلی عالمی نمائش کی میزبانی کرنے کا یہ صحیح وقت تھا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ایک ایسی ورلڈ ایکسپو کے انعقاد کے لیے زبردست کوششیں کیں جس میں دنیا بھر سے بہترین اور روشن خیال افرادنے شرکت کی جس سے تبدیلی کے حوالے سے ایک اثر ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ رفتار معیشت کو بہتر، زیادہ پائیدارترقی اور مزید جامع بنانے میں ایک دیرپا کردار ادا کرے گی۔

یقین ہے کہ ایکسپو 2020 دبئی علاقے اور دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر کام کرے گی۔

ترجمہ۔تنویرملک

http://wam.ae/en/details/1395303038942

WAM/Urdu