متحدہ عرب امارات نے دانشمند قیادت کی ہدایات ور تعاون کی بدولت  حیرت انگیز صنعتی ترقی کی ہے: ڈاکٹر سلطان الجابر

متحدہ عرب امارات نے دانشمند قیادت کی ہدایات ور تعاون کی بدولت  حیرت انگیز صنعتی ترقی کی ہے: ڈاکٹر سلطان الجابر

متحدہ عرب امارات نے دانشمند قیادت کی ہدایات ور تعاون کی بدولت  حیرت انگیز صنعتی ترقی کی ہے: ڈاکٹر سلطان الجابر

ناصر الجابری اوراحمد النعيمی سے ابوظہبی، 27 جون، 2022 (وام) ۔۔ وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور امارات ڈویلپمنٹ بینک کے چیئرمین ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی دانشمند قیادت کی ہدایات ، وژن اور تعاون کی بدولت حیرت انگیز صنعتی ترقی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک اپنی سٹریٹجک صنعتی پوزیشن کو ترقی دینے میں کامیاب ہوا ہے، کیونکہ وہ مسابقتی فوائد کے ساتھ اپنے صنعتی اہداف کو حاصل کرنے میں پیش رفت کررہا ہے، اور اس نے خود کو ایک پرکشش عالمی پلیٹ فارم اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک سرخیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ 'میک اٹ ان دی امارات فورم' کے موقع پر امارات نیوزایجنسی (وام) کے ساتھ ایک انٹرویو میں،ڈاکٹر الجابر نے حکمت عملی،آج تک کی قومی معیشت اور جی ڈی پی میں بینک کی شراکت کو اجاگر کرتے ہوئے ملک کی قومی صنعت کو سپورٹ کرنے والے مالیاتی حل فراہم کرنے میں امارات ڈیولپمنٹ بینک (سی ڈی بی) کے اہم کردار کو اجاگر کیا ۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ای ڈی بی متحدہ عرب امارات کے صنعتی تبدیلی اور اقتصادی تنوع کے ایجنڈے کے کلیدی مالیاتی انجنز میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ جدید مالیاتی حل اور پروگرام پیش کرتا ہے، اس کے تازہ ترین ہدف کے تحت پانچ ترجیحی شعبوں کی 13ہزار500 کمپنیوں کے لیے 25ارب درہم کی امداد مختص کی گئی ہے۔

ای ڈی بی کی کامیابیوں کے حوالے سے ایک سوال پر ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ قومی معیشت میں ویلیو چینز کی ترقی کے ذریعے جی ڈی پی میں بینک کی شراکت کو10ارب درہم سے زیادہ کرنے کے ہدف کے ساتھ ای ڈی بی کا مقصد متحدہ عرب امارات کی معیشت پراپنے اثرات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ای ڈی بی نے 2019 کے 10کروڑ80لاکھ درہم سے 2022 کی پہلی سہ ماہی تک مختص کردہ صنعتی سرمایہ 1ارب درہم کرتے ہوئے 9 گنااضافہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ایس ایم ای قرضے جو 2019 میں7کروڑ90لاکھ درہم تھے 2022 کی پہلی سہ ماہی میں5گنایا415 فیصد اضافے سے40کروڑ70لاکھ درہم ہوگئے ہیں۔ای ڈی بی کی جانب سے بڑے کاروباری قرضوں میں 9گنا اضافہ ہوا جو2019 میں2کروڑ90لاکھ درہم سے824 فیصد اضافے سے 2022 کی پہلی سہ ماہی میں26کروڑ 80لاکھ درہم ہوگئے ہیں۔

امارات ڈیویلپمنٹ بینک کی نئی حکمت عملی کے اہم نکات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ بینک کی نئی حکمت عملی کا اپریل 2021 میں ہماری دانشمند قیادت نے آغاز کیاتھا۔

یہ حکمت عملی ان نکات پر مبنی ہے جن کی نشاندہی صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے گزشتہ سال حکمت عملی کے آغاز کے دوران کی تھی، جس میں بینک کو قومی صنعتی شعبے کی مدد اور اسے بااختیار بنانے، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سہولت فراہم کرنے،ایس ایم ای کی ترقی ، اسٹارٹ اپس اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جوقومی ترقی کی ترجیحات اور اقدامات کے مطابق ہیں۔ مزید برآں نائب صدر،وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کا کہنا ہے کہ امارات ڈیویلپمنٹ بینک کی حکمت عملی مینوفیکچرنگ،جدید یٹکنالوجی،انفراسٹرکچر، صحت کی دیکھ بھال اور خوراک کی حفاظت جیسےاہم ترجیحی شعبوں کو تیز کرے گی۔ ڈاکٹر الجابر نے بتایا کہ ای ڈی بی مالیاتی اور غیر مالیاتی مصنوعات کی ایک رینج کے ذریعے کردار ادا کرتا ہے جس کا مقصد کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور اپنے کاروبار کو شروع کرنے، بڑھانے یا بہتر کرنے کے لیے درکار مالی وسائل تک ان کی رسائی کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ای ڈی بی اس حکمت عملی کو تین اہم طریقوں سے انجام دے رہا ہے، جن میں پہلی ایس ایم ایز اور صنعتی منصوبوں کو سپانسر کرنے والے بڑے کارپوریٹس کے لیے براہ راست مالی اعانت ہے۔

بینک نے پانچ ترجیحی شعبوں میں 13,500 کمپنیوں کو 25 ارب درہم کی امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دوسرا ٹریک ہمارے کریڈٹ گارنٹی پروگرام کے ذریعے بالواسطہ فنانسنگ ہے، جو ہمارے نو کمرشل بینکوں کے شراکتی نیٹ ورک سے قرضوں کی ضمانت دے کر ایس ایم ایز کو سپورٹ کرتا ہے۔

اس پروگرام نے گزشتہ ایک سال میں ایس ایم ایز کے لیے33کروڑ20لاکھ درہم سے زیادہ سرمایہ فراہم کیا۔ تیسرا ٹریک غیر مالیاتی سلیوشنز ہیں، جس میں تربیت، مشاورت اور مارکیٹ اسٹڈیز شامل ہیں، جو تیزی سے ترقی پذیر معاشی منظر نامے میں بہت اہم ہیں۔ ہم ڈیجیٹل سلیوشنز بھی پیش کرتے ہیں جن میں ای ڈی بی کی نئی ڈیجیٹل بینکنگ ایپ بھی شامل ہے جس سےایس ایم ایز اور سٹارٹ اپس 48 گھنٹوں کے اندر بزنس بینک اکاؤنٹ اور آئی بی اے این نمبر حاصل کرکے اپنے کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر الجابر نے بتایا کہ'میک اٹ ان دی امارات فورم' کے تناظر میں، ای ڈی بی کا مقامی مینوفیکچرنگ کو بااختیار بنانے میں بہت بڑا کردار ہے۔

فورم نے صنعتی کمپنیوں، مینوفیکچررز اور سرمایہ کاروں کو ملک کی 12 سرکردہ کمپنیوں کے کچھ مصنوعات کی خریداری کے منصوبوں تک رسائی کا موقع فراہم کیا ہے۔ان کمپنیوں نے 110ارب درہم کی کل قیمت خرید کے ساتھ 11 شعبوں میں 300 سے زائد مصنوعات کی نشاندہی کی ہے۔

حکمت عملی کے ایک سال میں بینک کی جانب سے حاصل کردہ مقررہ اہداف کے حصول اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کامیابی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ بینک کا مقصد واضح ہے کہ ہم ملکی معیشت کے حوالے سے اپنے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرناچاہتے ہیں۔

ہم نے صنعتی شعبے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے قومی معیشت میں ویلیو چینز کی ترقی کے ذریعے جی ڈی پی میں بینک کی شراکت کو 10ارب درہم سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ای ڈی بی کی’میک اٹ اِن دی امارات فورم‘ میں موجودگی جدید صنعتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلانے میں مزید اضافہ کرنے کے لیے اس کے انتھک عزم کا ثبوت ہے۔ ای ڈی بی کے لیے تبدیلی کے ایک سال میں، ہم بڑی تعداد میں کامیابیوں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہماری براہ راست فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے ذریعے، ہماری صنعتی جی ڈی پی میں شراکت 2019 کی5کروڑ90لاکھ درہم سے1783 فیصد اضافے کے ساتھ 2022 کی پہلی سہ ماہی میں1ارب 11کروڑ درہم ہوچکی ہے۔

مختص کردہ صنعتی سرمایہ 2019 کے 10کروڑ80لاکھ درہم سے 2022 کی پہلی سہ ماہی تک 1ارب درہم کرتے ہوئے 9 گنااضافہ کیا ہے۔اس کے ساتھ ایس ایم ای قرضے جو 2019 میں7کروڑ90لاکھ درہم تھے 2022 کی پہلی سہ ماہی میں5گنایا415 فیصد اضافے سے40کروڑ70لاکھ درہم ہوگئے ہیں۔

ای ڈی بی کی جانب سے بڑے کاروباری قرضوں میں 9گنا اضافہ ہوا جو2019 میں2کروڑ90لاکھ درہم سے824 فیصد اضافے سے 2022 کی پہلی سہ ماہی میں26کروڑ 80لاکھ درہم ہوگئے ہیں۔ الجابرنے کہا کہ صنعتی شعبے کی ترقی اور متحدہ عرب امارات کے جی ڈی پی میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے ای ڈی بی نے اس بات پر روشنی ڈالنے کے لیے میک اٹ ان دی امارات فورم کا استعمال کیا کہ کس طرح اس کے مالیاتی سلیوشنز کی رینج بڑے کارپوریٹس اور ایس ایم ایز کو وسعت دینے، متنوع بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔

میک اٹ اِن امارات فورم میں ہماری شرکت نے نہ صرف اپنی مصنوعات اور خدمات کی نمائش کا موقع فراہم کیا ہے بلکہ سرمایہ کاروں، کمرشل بینکوں، فری زونز اور دیگر صنعتی اہل کاروں کے ساتھ شراکت داری میں کام کرنے کے لیے اپنی تیاری کو بھی ظاہر کیا ہے تاکہ درکار سرمائے کو متحرک کیا جا سکے۔

ای ڈی بی کی جانب سے جن شعبوں کی مدد کی گئی اور گزشتہ سال فنانسنگ کی مالیت کیا رہی اس پر انہوں نے کہا کہ دانشمند قیادت کی ہدایات کے مطابق، ای ڈی بی قومی معیشت کے لیے جامع وژن کے تحت کام کرتا ہے جس کا مقصد متحدہ عرب امارات کو صنعت، جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کی صنعتوں کے لیے ایک عالمی مرکز کے ساتھ ساتھ عالمی صلاحیتوں کے لیے ایک پرکشش مقام بناناہے۔ اس کی بنیاد پر، ای ڈی بی نے ان شعبوں کی معاونت پر توجہ مرکوز کی ہے جو معیشت کو غیر تیل جی ڈی پی کے حوالے سے متنوع بنانے کے ساتھ ایسے شعبے تیار کرتے ہیں جو اقتصادی خود انحصاری کے لیے مستقبل کے لیے مستحکم اور پائیدار ترقی پیش کرتے ہیں۔

ای ڈی بی نے پانچ اہم شعبوں کی نشاندہی کی جو متحدہ عرب امارات کے اقتصادی استحکام اور مسابقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مینوفیکچرنگ کے لحاظ سے خاص طور پر پیٹرو کیمیکل، پلاسٹک، دھاتیں، مشینری، برقی آلات اور قابل تجدید توانائی کے آلات ہیں۔ دوسرا صحت کا شعبہ ہے جس میں دواسازی، بائیوٹیکنالوجی، طبی آلات، اور ہسپتال کی خدمات شامل ہیں، اس کے بعد تحفظ خوراک کا شعبہ ہے، جس میں زراعت، ماہی گیری، آبی زراعت، اور پانی کو صاف کرنا شامل ہے۔

جدید ٹیکنالوجی، جو کہ متحدہ عرب امارات کے معاشی مستقبل کا ایک اہم ستون ہے، ایک اور ترجیح ہے اور ہم آئی آر 4 ٹیکنالوجیز جیسے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں معاون سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ پانچواں ترجیحی شعبہ انفراسٹرکچر ہے، جس میں توانائی، کچرے کو ٹھکانے لگانا ، نقل و حمل، براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سرکلر اکانومی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بینک ان صارفین کے لیے نرم لچکدار اور موزوں مالیاتی سلیوشنز پیش کر کے ہر ایک شعبے میں صنعتی ترقی کو آگے بڑھا رہا ہے جو ملک میں اعلیٰ ہنر پر مبنی ملازمتوں کی تخلیق، سرمائے کی توسیع، برآمدات کے فروغ، درآمدی متبادل، تکنیکی تبدیلی اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، سبز توانائی اور براؤن فیلڈ یا گرین فیلڈ کی ترقی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ حکمت عملی کے آغاز کے بعد سے ایک سال میں اہم شعبوں کےلیے1ارب52کروڑدرہم قرضوں کی منظوری دی ہے، جس میں صنعتی شعبے کے لیے75کروڑ درہم، جدید ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے35کروڑ اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کے لیے40کروڑ درہم شامل ہیں۔

ای ڈی بی اور کمرشل بینکوں کے دمیان کیا چیز مختلف ہے اس حوالے سے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ امارات ڈویلپمنٹ بینک شراکت داری کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے اور یہ کہ، متحدہ عرب امارات کے مختلف مالیاتی اداروں کی کوششوں کو ملا کر، ہم اقتصادی ترقی کو آگے بڑھاتے ہیں اور بالآخر سب کے لیے پائیدار ترقی فراہم کر تے ہیں اسی لیے ہم متحدہ عرب امارات کے کمرشل بینکوں کے شراکت دار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی ترقیاتی نوعیت کی وجہ سے، ای ڈی بی کمرشل بینکوں سے مختلف ہے کیونکہ ہمارے تمام آپریشنز ہمارے معاشی ترقی کے مینڈیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں، جس کا مقصد متحدہ عرب امارات کے لیے معاشی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنا اور جی ڈی پی کی نمو کو بڑھانا ہے۔ ای ڈیبی ایس ایم ایز کی بینک ایبلٹی کو بڑھا کر اور ایسے منصوبوں کی حمایت کر کے مارکیٹ میں ایک اہم خلا کو پُر کرتا ہے جو وسیع تر معیشت کے لیے فوائد پیش کرتے ہیں لیکن کمرشل بینک قرض دینے کے لیے شاید کم قابل عمل ہیں۔ ہم تجارتی بینکوں کے معیاری رسک اور منافع کے حساب کتاب کے اوپر معاشی ترقی کے اثرات کے معیار کا جائزہ لیتے ہیں اور اہل منصوبوں کو مزید لچکدار شرائط پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ منفرد نقطہ نظر تین اہم نکات پر مبنی ہے: ترقیاتی اثرات کی تشخیص، خطرے کی تشخیص اور ہمارے شراکت داروں کے نیٹ ورک کے ذریعے موثر اور فوری فراہمی ۔

ترقیاتی فوائد کا اندازہ لگانے کے لیے، بینک ایک ملکیتی 'ترقیاتی امپیکٹ سکور کارڈ' کا استعمال کرتا ہے تاکہ کسی کمپنی یا پروجیکٹ کی فنانس کے لیے اہلیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ خطرے کی تشخیص کے حوالے سے ہم غیر یقنی صورتحال میں خطرے کے حوالے سے صحیح فیصلہ سازی پر یقین رکھتے ہیں۔اگرچہ ہم ترقی کے اثرات کی صلاحیت زیادہ والی جگہ پر زیادہ خطرے کی اجازت دیتے ہیں ، ہم کلائنٹس کا اندازہ لگاتے وقت پھر بھی محتاط رہتے ہیں۔

اسی لیے ہم ان کمپنیوں کو فنانسنگ کی پیشکش نہیں کرتے ہیں جو یا تو زیادہ لیوریجڈ ہیں یا جن کی کریڈٹ ہسٹری منفی ہے، یا وہ جو قرض کی تنظیم نو یا مالی اعانت کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرے ستون کے لیے، بینک پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اپنے شراکت داروں کے نیٹ ورک کے ذریعے فوری اور مؤثر طریقے سے فنانسنگ کو مختص کر سکتا ہے۔

اپنی نئی حکمت عملی کے آغاز کے بعد سے، ہم نے اقتصادی فری زونز، چیمبرز آف کامرس، اقتصادی ترقی کے محکموں اور متحدہ عرب امارات میں براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر توجہ مرکوز کرنے والی سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ 26 شراکت داریوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ شراکتیں ہمیں صحیح کلائنٹس اور پروجیکٹس کی شناخت کرنے اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کو حقیقت میں لانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھنے کے قابل بناتی ہیں۔

بینک کے ٹارگٹ صارفین کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کے حوالے سے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ ہماری صنعتوں کو مسابقتی اور معیار کے اعلیٰ ترین معیار پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہیں ہمارے موجودہ اہل کاروں، مراعات اور امتیازی فوائد سے بااختیار بنایا جانا چاہیے ۔

ہماری صنعتوں کو برآمدات پر مبنی اور ہمارے معاشی تنوع میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ حقیت میں ہماری صنعتی ترقی کو فعال کرنے سے متحدہ عرب امارات کی معیشت اور معاشرے کے تمام پہلوؤں پر وسیع تر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو بہت سے مسابقتی فوائد حاصل ہیں، جن میں سب سے اہم دانشمند اور معاون قیادت ہے جس کی نظر ہمیشہ مثبت نقطہ نظر کے ساتھ مستقبل پرہے جو استحکام کو یقینی بنانے پر توجہ دیتی ہے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے لچکدار اور حوصلہ افزا ماحول کے لیے ہدایات دیتی ہیں۔ . ہمارے پاس انتہائی ہنر مند انسانی وسائل، توانائی کے وسائل، خام مال، ایک تزویراتی جغرافیائی محل وقوع، جدید انفراسٹرکچر، شفاف قوانین،ساکھ اور اعتبار، مسابقتی فنانسنگ، متنوع، روادار اور محفوظ معاشرے میں زندگی کا ایک مثالی معیاراور سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے موجود ہیں۔ان سب سے ہم اپنی قومی صنعت کو ترقی دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، شراکت داری بنانے اور نئی منڈیوں میں داخل ہورہے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ اس کے ساتھ، وہ تمام موجودہ اور ممکنہ صارفین سے کہنا چاہتے ہیں کہ میرا پیغام یہ ہے کہ ای ڈی بی کسی بھی کاروبار کے لیے ایک مضبوط، بھروسہ مند اور قابل اعتماد پارٹنر ہے، چاہے وہ مقامی ہو یا بین الاقوامی، جو متحدہ عرب امارات میں اپنا کاروبار قائم کرنا یا اسے بڑھانا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا نیا مشن قومی معیشت کو مزید بلندیوں تک پہنچانے اور اس کی اولین پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ ملکی معیشت کے اسٹریٹجک اہداف کو حاصل کرنے میں معاونت کے لیے، ہم آپ کے کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانے اور کمپنیوں کے ترقی کے سفر کے ہر مرحلے میں تعاون کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

ہم تمام پروجیکٹ مالکان کو بینک کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان طریقوں پر بات کرنے کے لیے کہتے ہیں جن سے ہم آپ کے مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

ترجمہ۔تنویر ملک

http://wam.ae/en/details/1395303061104