جمعرات 02 فروری 2023 - 1:54:22 صبح

دبئی چیمبرزنےانڈیا۔یو اے ای پارٹنرشپ سمٹ کی میزبانی کی

  • قمة الشراكة الهندية الإماراتية
  • قمة الشراكة الهندية الإماراتية
  • قمة الشراكة الهندية الإماراتية
  • قمة الشراكة الهندية الإماراتية
ویڈیو تصویر

دبئی، 24 جنوری، 2023 (وام) ۔۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خصوصی اقتصادی تعلقات کا جشن مناتے ہوئے دبئی چیمبرز نے دبئی میں اپنے ہیڈ کوارٹر میں انڈیا۔یو اے ای پارٹنرشپ سمٹ کی میزبانی کی۔ بھارت کے وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئال نے ایک افتتاحی کلیدی خطاب میں بھارت۔متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے جواہرات اور زیورات کے ساتھ ساتھ خوراک اور زرعی مصنوعات جیسے اہم شعبوں کو قدرتی فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی متحرک تجارت اور سرمایہ کاری کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ بھارت کو امید ہے کہ اس کی برآمدات جلد میں ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ ہماری بڑھتی ہوئی دو طرفہ تجارت متحدہ عرب امارات کی 2030 تک معیشت کےحجم کو دوگنا کرنے کی کوششوں میں اٹوٹ کردار ادا کرے گی۔ ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کی تقدیریں صدیوں سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایک قریبی تعاون، اعتماد اور کاروباری جذبہ ہماری معیشتوں، ہماری صنعتوں، ہمارے شہروں اور ہمارے لوگوں کے لیے اب اور نسلوں کے لیے لامحدود مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ وژن ہے جسے CEPA کا مقصد حقیقت میں بدلنا ہے ۔ انہوں نے تعاون کے مختلف امکانات پر بھی روشنی ڈالی جس میں روپیہ درہم تجارت، ورچوئل تجارتی راہداری، فوڈ کوریڈور اور یو اے ای اور ہندوستان کے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کا فائدہ اٹھانا شامل ہے۔ ٹیکسٹائل، گرین انرجی (ونڈ، سولر اور ہائیڈرو)، کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر (ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور سڑکیں) نیز ویسٹ مینجمنٹ جیسے شعبے بھی دونوں ممالک کے لیے مواقع کے شعبوں میں شامل تھے۔ دبئی چیمبرز کے صدر اور سی ای او محمد علی راشد لوتھہ نے انکشاف کیا کہ 2022 میں دبئی چیمبر آف کامرس میں شامل ہونے والی نئی بھارتی کمپنیوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی جس سے چیمبر میں رجسٹرڈ بھارتی کمپنیوں کی کل تعداد 83,000 ہوگئی ۔یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کی مضبوطی اور مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں اقتصادی شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دبئی انٹرنیشنل چیمبر کا بین الاقوامی دفترممبئی میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور مزید بھارتی اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز کو امارات کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس سال چیمبر کے ممبئی دفتر کی سرگرمیوں میں توسیع دیکھی جائے گی تاکہ دو طرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار کو برقرار رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے بین الاقوامی دفاتر بشمول بھارت میں ہمارے دفتر دبئی گلوبل اقدام کے مطابق کام کرتے ہیں جس کا اعلان دبئی کے ولی عہد اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے امارات کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفتر ایک کاروباری اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر جو بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرتا ہے اور مقامی کاروباروں کو بیرون ملک منڈیوں تک پھیلانے میں مدد کرتا ہے۔ دبئی انٹرنیشنل چیمبر کے ساتھ شراکت میں انٹرنیشنل بزنس لنکیج فورم (IBLF) کے زیر اہتمام یہ سربراہ اجلاس مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپس، ایگری ٹیک اور سٹارٹ اپس کے مواقع پر توجہ دینے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان فوڈ پروسیسنگ، صحت کے مستقبل اور فن ٹیک اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعلقات کو اجاگر کرتا ہے۔ دبئی انٹرنیشنل چیمبر ہندوستان میں مقیم ملٹی نیشنل کمپنیوں کو راغب کرنے اور ہندوستانی مارکیٹ کے ساتھ دبئی کے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمی سطح پر نمایاں شخصیات کے ساتھ یہ سربراہ اجلاس اپنے خصوصی نیٹ ورک کے ذریعے ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کے ان شعبوں کو تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جہاں دونوں ممالک باہمی فائدے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ IBLF کے چیئرمین راجیو پودار نے کہاکہ 23-2022 میں دو طرفہ تجارت 88 ارب ڈالر کو چھونے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ روایتی طور پر متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے درمیان فوڈ اور انرجی سیکورٹیز سب سے زیادہ فوکس رہے ہیں تاہم CEPA معاہدہ ایس ایم ای کے شعبے کے افتتاح پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ IBLF کے صدر اور ستیہ گری گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین دنیش جوشی نے کہاکہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کی دور اندیش قیادت نے ہمارے موجودہ تعلقات کو تقویت دی ہے جس کا آنے والے وقتوں میں دیرپا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 88 دنوں میں CEPA پر دستخط دونوں ممالک کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات پارٹنرشپ سمٹ کا مقصد دونوں اطراف کے اسٹیک ہولڈرز کو مضبوط ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے لانا ہے۔ 2022 میں متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان CEPA معاہدے پر دستخط کیے گئے جس سے اگلے پانچ سال میں تجارتی تبادلے میں 120 فیصد اضافے کے ساتھ 45 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر اور خدمات کی تجارت 15 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ دبئی میں 30 فیصد سے زیادہ اسٹارٹ اپ کمیونٹی کی نمائندگی بھارتی کرتے ہیں جبکہ ہندوستانی کمپنیاں اور این آر آئی کی ملکیت والے اداروں نے متحدہ عرب امارات میں تقریباً 10 لاکھ ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ https://wam.ae/en/details/1395303122002

Katia El Hayek