جمعہ 02 جون 2023 - 5:47:19 صبح

متحدہ عرب امارات ۔بھارت کی شراکت داری اقتصادی ترقی کا محرک ہے:وزیراقتصادیات

  • صور من الحدث
  • صور من الحدث

نئی دلی، 25مئی ،2023 (وام) ۔۔ وزیر اقتصادیات عبد اللہ بن طوق المری نے نئی دہلی میں منعقد ہونے والی سالانہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کانفرنس 2023 کے تحت ہونے والے ایک سیشن "کیا Minilateralism عالمی تجارت کا مستقبل ہے؟" میں شرکت کی ۔

سیشن میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے صدر سنجیو بجاج،ڈائریکٹر جنرل چندرگیت بنرجی، اور متعدد اماراتی اور ہندوستانی کمپنیوں کے نمائندوں، عالمی سرمایہ کاروں اور تاجروں نے شرکت کی۔ سیشن میں عالمی تجارت میں تازہ ترین اقتصادی پالیسیوں اور عالمی تجارت کے مستقبل کو بڑھانے کے لیے علاقائی اور تجارتی معاہدوں کی اہمیت سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس کے علاوہ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کی مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانے اور سہولت فراہم کرنے کے ذرائع کے علاوہ عالمی ویلیو چینز کو تبدیل کرنے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے کے ذریعے اختیار کیے جانے والے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔

وزیر اقتصادیات عبد اللہ بن طوق المری نے کہاکہ متحدہ عرب امارات ۔انڈیا شراکت داری اقتصادی ترقی کے لیے ایک محرک ہے جو 3.8 ارب سے زیادہ لوگوں کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹھوس اقتصادی شراکت داری جنوبی ایشیا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ اور اس کے ذریعے علاقائی اور عالمی منڈیوں کی جانب رواں دواں ہے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک ہماری معیشتوں کو ترقی دینے اور نئے اقتصادی شعبوں میں توسیع اور سرمایہ کاری کے لیے ہمارے وژن کی حمایت کرنے والے منصوبوں، حکمت عملیوں اور اقدامات کو اپنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اس اہم اقتصادی تقریب کے ذریعے ہم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ادائیگی، اختراع، گرین توانائی، صحت کی دیکھ بھال، مواصلات، لاجسٹکس، نقل و حمل، فضلہ کے انتظام اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشتیں 2022 میں دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل تھیں جس کی خصوصیت اقتصادی ترقی کی تیز رفتار ہے۔ متحدہ عرب امارات کی معیشت میں گزشتہ سال 7.6 فیصد اضافہ ہوا اور عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق ہندوستانی معیشت کی جی ڈی پی نے مالی سال 2022 اور2023 کے پہلے نو مہینوں میں 7.7 فیصد کی سالانہ ترقی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہماری مارکیٹوں میں دستیاب اقتصادی مواقع کی تعداد کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے متحدہ عرب امارات اور ہندوستانی نجی شعبوں کو دونوں ممالک کے درمیان خوشحال اقتصادی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ملتی ہے۔

المری نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کی مضبوطی کی بنیاد پر دنیا کے سامنے ایک منفرد جامع اقتصادی شراکت داری کا ماڈل پیش کرتے ہیں۔ اس پیش رفت کو دونوں قیادتوں کے مستقبل کے حوالے سے نظر آنے والے وژن اور مختلف ترجیحی شعبوں میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ان کی مسلسل حمایت سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات ہندوستانی حکومت کے سال 2025 تک بھارتی معیشت کی جی ڈی پی کو 5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کے ساتھ ساتھ کثیر جہتی تجارتی نظام میں اپنے مستقبل کے توسیعی منصوبوں کی حمایت کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیر اقتصادیات نے کہاکہ فروری 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان دستخط شدہ CEPA کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔

اس نے تجارتی تبادلے کو بڑھانے، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانے اور برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے دونوں منڈیوں میں مزید مواقع اور صلاحیتیں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس معاہدے نے بھارت کے ساتھ سرحد پار تجارت کے لیے کھلے اور غیر امتیازی ماحول اور متحدہ عرب امارات اور ہندوستانی اشیا کے 80 فیصد سے زیادہ پر کسٹم ٹیرف کے خاتمے جیسے فوائد کو فعال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نے 11 اہم شعبوں اور 100 سے زائد ذیلی شعبوں کی مارکیٹوں تک سروس فراہم کرنے والوں کی رسائی کو بھی بڑھایا جس میں ڈیجیٹل تجارت اور دانشورانہ املاک کے حقوق شامل ہیں، بہت سے شعبوں اور اقتصادی سرگرمیوں میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

المری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل کی غیر ملکی تجارت میں 2022 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2023کی پہلی سہ ماہی میں 24.7 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی ہندوستانی منڈیوں کو غیر تیل کی برآمدات میں 33 فیصد اضافہ ہوا جبکہ تجارت تقریباً 180 ارب درہم (49 ارب ڈالر) رہیں جو2021 سے 10 فیصد زیادہ ہیں۔

وزیر اقتصادیات نے نوٹ کیا کہ ابوظہبی میں 2024 کی پہلی سہ ماہی میں متحدہ عرب امارات کی 13ویں ڈبلیو ٹی او کی وزارتی کانفرنس کی آئندہ میزبانی سے بین الاقوامی تجارت کو تحریک دینے میں ملک کی شراکت میں اضافہ ہو گا جو طویل مدتی پائیدار ترقی کے حصول کی کلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے تکثیریت پر یقین اور نئی تخلیق کرنے کے عزم کی بھی تصدیق کرتا ہے۔

کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کانفرنس کی سالانہ کانفرنس 2023 "مستقبل کی سرحدیں: مسابقت، ٹیکنالوجی، پائیداری اور بین الاقوامیت" کے موضوع کے تحت منعقد ہوئی۔ اس میں ماہرین نے معاشی ترقی، اصلاحات، سرمایہ کاری کے ماحول، عالمی اور ہندوستانی معیشت کے لیے اہمیت کے حامل متعدد شعبوں کے مستقبل، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور اختراعات، گرین توانائی اور گرین سپلائی پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

https://wam.ae/en/details/1395303162186

Maryam