متحدہ عرب امارات ، ترکی شراکت داری اگلی دہائی میں ترقی کی محرک ہے:ترک سفیر

متحدہ عرب امارات ، ترکی شراکت داری اگلی دہائی میں ترقی کی محرک ہے:ترک سفیر

متحدہ عرب امارات ، ترکی شراکت داری اگلی دہائی میں ترقی کی محرک ہے:ترک سفیر

ابوظبی، 19 جولائی، 2023 (وام) ۔۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک اور متحدہ عرب امارات کا دورہ انکے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد پہلا دورہ ہے اور یہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اسکے بڑھتے ہوئے تعلقات کو اجاگر کرتا ہے۔

امارات نیوز ایجنسی (وام) کو ایک بیان میں متحدہ عرب امارات میں ترکی کے سفیر Tuncer Tugay نے کہا کہ اردگان کے متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے میں دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے جن کی وہ تقریباً 18 ماہ سے تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے اگلی دہائی میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون سے خطے کو بہت فائدہ ہوتا ہے جو پچھلے دو سالوں میں مضبوط اور زیادہ نتیجہ خیز ہوا ہے۔

انکاکہنا تھا کہ دونوں ممالک خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں اور مختلف علاقائی مسائل پر ان کا موقف واضح ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ترک سفیرنے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے مجموعی تعاون کے ساتھ ساتھ ان کے باہمی دوروں پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ جون میں صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورہ ترکی کے بعد اردگان کا متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ مختلف شعبوں میں ان کے دوطرفہ تعلقات اور اس کے دائرہ کار کو بڑھانے میں مدد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ (سی ای پی اے) ستمبر میں نافذ العمل ہونے کی توقع ہے کیونکہ دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس کی توثیق کر دی ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ دونوں معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور ان کے ممالک اقتصادی تعاون کا ایک پائیدار اور جدید ماڈل قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے پہلے پانچ مہینوں میں UAE-Türkiye غیر تیل کی تجارت کا حجم تقریباً 87 فیصد بڑھ گیا۔

مزید یہ کہ دونوں ممالک کے سیاحوں کی تعداد میں 40 سے50 فیصد اضافہ ہوا۔ متحدہ عرب امارات اور ترکی کے درمیان ہفتہ وار تقریباً 200 پروازیں طے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں اماراتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ترک کمپنیوں کی متحدہ عرب امارات میں مضبوط موجودگی ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ CEPA معاہدے کا نفاذ ان کے اقتصادی تعاون میں ایک عبوری تبدیلی کا باعث بنے گا اور دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی کو آگے بڑھائے گا۔ UAE اور Türkiye کے درمیان 2022 میں غیر تیل کی تجارت تقریباً 19 ارب ڈالر تھی۔ دونوں ممالک کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں اس تعداد کو دوگنا کرکے 40 ارب ڈالر کرنا ہے۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

https://wam.ae/en/details/1395303179032