بوتیم کے ماہانہ مالیاتی لین دین کا حجم ارب درہم تک پہنچ گیا

بوتیم کے  ماہانہ مالیاتی لین دین کا حجم  ارب  درہم  تک پہنچ گیا

شارجہ، 14 ستمبر، 2023 (وام)۔۔ متحدہ عرب امارات میں قائم ٹیکنالوجی فرم آسترا ٹیک اپنی عالمی توسیعی حکمت عملی کے تحت مستقبل قریب میں بھارت پاکستان اور مصر تک اپنے کاروبار کو توسیع دینے کے لیے کوشاں ہے ۔
شارجہ میں انٹرنیشنل گورنمنٹ کمیونیکیشن فورم (آئی جی سی ایف) میں شرکت کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی وام کو دیئے گئے ایک بیان میں، آسترا ٹیک کے بانی اور بوتیم پلیٹ فارم کے سی ای او عبداللہ ابو شیخ نے کہا، "گزشتہ ماہ ہم نے اپنی عالمی توسیع کے منصوبے کے تحت فلپائن میں ایک بینکنگ کمپنی حاصل کی، اور اب ہماری نظرین بھارت ی،پاکستانی اور مصری مارکیٹوں پر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آ ئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں متحدہ عرب امارات سے باہر کی کمپنیوں میں مالیاتی ٹیکنالوجی اور سماجی رابطوں کے شعبے حاصل کرنے کے اعلانات ہوں گے۔ ممکنہ فنانسنگ راونڈز کے بارے میں، ابو شیخ نے کہا کہ میں اس وقت کمپنی کے لیے کسی فنڈنگ راونڈ کی توقع نہیں کرتا، کیونکہ منافع زیادہ اور صورتحال مستحکم ہے۔
بوتیم ایپلی کیشن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک "الٹرا پلیٹ فارم" بن گیا ہے کیونکہ یہ جو مواصلاتی خدمات پیش کرتا ہے اس کے علاوہ، بین الاقوامی رقم کی منتقلی جیسی مالی خدمات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پلیٹ فارم سے ایسے لوگ بوتیم کارڈ حاصل کرسکتے ہیں
جو بینک اکانٹس نہیں رکھتے، جو کارڈ پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے دنیا بھر میں قبول کیا جاتا ہے۔ یہ ان کمپنیوں کے لیے ادائیگی کی خصوصیات بھی فراہم کرتا ہے جو مہنگا یا مہنگا ادائیگی کا نظام نہیں چاہتیں۔
انہوں نے بتایا کی کہ بوتیم ایپلی کیشن پر مالی لین دین کا حجم تقریبا 1 ارب درہم ماہانہ تک پہنچ جاتا ہے، جس میں مختلف مالیاتی منتقلی اور ادائیگیاں شامل ہیں۔ توقع ہے کہ بوتیم اگلے سال میں ملک کا سب سے بڑا مالیاتی پلیٹ فارم بن جائے گا۔
فورم کے دوران، انہوں نے ایک نئی پروڈکٹ کے حوالے سے بتایا جو رقم کی منتقلی کے لیے جلد ہی لانچ کی جائے گی جو "اب تبدیل کریں، بعد میں ادائیگی کریں" کے اصول پر مبنی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بعض اوقات، کچھ لوگوں کے پاس مطلوبہ رقمنہیں ہوتی جو وہ ٹرانسفر کرنے کے خواةان ہوتے ہیں اس صورت میں منتقلی اور ادائیگی کی سروس بہت سے لوگوں کو اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔
فورم میں اپنی شرکت کے حوالے سے ابو شیخ نے کہا، "انٹرنیشنل گورنمنٹ کمیونیکیشن فورم میں اپنی شرکت کے دوران، ہم نے متحدہ عرب امارات میں کام کے ماحول میں نرم مہارتوں اور انہیں کیسے تیار کیا جائے کے بارے میں بات کی۔ لیبر مارکیٹ میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، اور اس وجہ سے آنے والے سالوں میں ان مہارتوں پر نمایاں اثر پڑے گا جو لوگ اپنے کام کی جگہوں پر تیار کر سکتے ہیں۔

ترجمہ۔تنویرملک

https://wam.ae/en/details/1395303197334